Janazy ka ilan bad main ho ga | Episode 1

      No Comments on Janazy ka ilan bad main ho ga | Episode 1
Janazy ka ilan bad main ho ga

(تحریر:ناصر معروف (مسقط

Janazy ka ilan bad main ho ga

جمال کے ضعیف چہرے پر خوف کی زدی جمی ہوئی تھی،آنکھوں کی پتلیاں شرمندگی کے بوجھ سے جھکی ہوئی تھی ،کوئی باآواز بلند فرعونیت کے لہجے میں بولا چاچا جمال آپ اس معاملے میں مت آئیں یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا اب کر بار میں آپ کا لحاظ نہیں کروں گایہ پیسے کا معاملہ ہے میں آپ کی وجہ سے ہر دفعہ نقصان نہیں اٹھا سکتاآپ جانتے ہیں یہ آپ کا بیٹا ٹھگ ہے جو گاؤں کے شریف لوگوں کو کسی نہ کسی حیلے بہانے سے ٹھگ لیتا ہے،سارا گاؤں آپ کی عزت کرتا ہے لیکن اب بات بہت بڑھ چکی ہیں اس نے شریف لوگوں کو ٹھگنا اپنا پیشہ بنا لیا ہے اس نے ایک مہینے پہلے مجھ سے جانوروں کا سودا کیا تھا اور کہا تھا کہ میں تین دن بعد منڈی سے پیسے لٹا دو ں گا لیکن یہ مسلسل لیت و لعل سے کام لے رہا ہے۔

اتنے میں پاس کھڑی ہوئی ایک بوڑھی عورت بولی یہ مجھ سے زیور لے گیاتھا کہ میں زیور کو پالش کروادوں گالیکن تین مہینے ہو گئے ہیں اس نے مجھے زیور لاکر نہیں دیا،اب کہتا ہے کہ زیور مجھ سے گم گیا ہے اب میں تمھیں نیا بنوادو ں گامجھے تو لگتا ہے کہ یہ زیور جوائے میں ہار گیا ہو گا۔پہلا شخص بولا جس نے ثانی کا گریبان مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا اس گاؤں میں کون شخص ہے جس کی جیب ثانی نے نہیں کاٹی کون ہے جو اس کے شر سے محفوظ رہا ہے۔

یہ معاملہ اب تھانے میں جائے گا میں تھانے دار ساری بات بتا آیا ہوں

Janazy ka ilan bad main ho gaجمال گھر پہنچا تو اس کے حواس پوری طرح معطل تھے ،چہرے تفکر کے آثار دیکھ کر جمال کی بیوی سمجھ گئی تھی کہ آج پھر ثانی نے کوئی گل کھلایا ہے،زیرِ لب جمال کی بیوی نے اسم مبارک کا ورد شروع کر دیا تھااسے یقین تھا کہ یہ ورد مجھے پریشانی اور ندامت سے بچالے گا۔

جمال کی بیوی نے آخر حوصلہ کیا اور پوچھا’’کیا بات ہے آج آپ بہت پریشان نظر آ رہے ہیں ‘‘جمال کچھ دیر خاموش رہا اور پھر گہرے دکھ کا ا حساس لیے بولا ’’ثانی نے آج پھر بھرے گاؤں میں میری ناک کٹوائی ہے سمجھ نہیں آتا کہ میں کیا کروں ،ثانی کا نام سن کر جمال کی بیوی کو حوصلہ نہیں ہوا کہ وہ پوچھتی کہ ثانی نے کیاکیا ثانی کی شکایت آنا اب معمول بن چکا تھا اس لیے اس کو اندازہ تھا کہ ثانی نے کیا کیا ہوگا،ماں کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور ما ں کمرے میں بیٹھ کر ایک طرف گہری سوچوں میں غرق ہو گئی ،کمرے میں گہری خاموشی تھی دونوں میاں بیوی شاید ایک ہی بات سوچ رہے تھے کہ جب ثانی پیدا ہوا تھا تو اس کے پیدا ہونے پر کتنی خوشیاں منائی گئی تھی ،دور دور سے عزیز مبارکباد دینے آئے تھے ،بڑی منتوں اور مرادوں سے جو پیدا ہوا تھا ۔

لیکن آج وہ جمال دین کی عزت داؤ پر لگانے پر تلا ھوا تھا۔آج چوہدری جمال کو یہ بات سمجھ آ رہی تھی کہ دولت سے زمین خریدی جا سکتی ہے لیکن نصیب نہیں خریدا جا سکتا ،ثانی کوزندگی کی ہر آسائش میسر تھی لیکن ثانی کے جسم اور روح میں شر نے اپنا جال بنایا ہوا تھا ثانی اس جال میں ایسا جکڑا ہوا تھا جیسے کوئی نحیف مکھی کسی غار میں بنے بوڑھی مکڑی کے جال میں الجھ گئی ہو ،جو آزاد ہونے کی لاکھ جتن کرے بالاخر اس جالے کے قبر میں دف ہو گئی ہو۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *