جاناں ملک کی غزلیں

      No Comments on جاناں ملک کی غزلیں
janan-malik-f

 

جاناں ملک کی غزلیں 

janan-malik

غزل

اور مہک تھی جو اس باغ کی گھاس میں تھی
اس کے پاؤں کی خوشبو بھی اُس باس میں تھی

تجھ بارش نے تن پھولوں سے بھر ڈالا
خالی شاخ تھی اور اِس رُت کی آس میں تھی

تونے آس دلائ مجھ کو جینے کی
میں تو سانسیں لیتی مٹی یاس میں تھی

یاد تو کر وہ لمحے وہ راتیں وہ دن
میں بھی تیرے ساتھ اُسی بن باس میں تھی

ہر پل تیرے ساتھ تھی میں کب دور رہی
میں خوشبو تھی اور تیرے احساس میں تھی

بارش تھی شب بھراور بھیگ رہی تھی میں
جاناں کیسی شدت میری پیاس میں تھی

 

غزل

دل کی ایک اک کنی بچھاتی ہوں
رات بھر روشنی بچھاتی ہوں

شاید آج آئے وہ مجھے ملنے
صحن میں چاندنی بچھاتی ہوں

دیکھئے ڈوبتا ہوا سورج
بیٹھیئے اوڑھنی بچھاتی ہوں

اوڑھ لیتی ہوں ہجر، بستر پر
اپنی خستہ تنی بچھاتی ہوں

خود تو رہتی ہوں دھوپ میں جاناں
اس پہ چھاؤں گھنی بچھاتی ہوں

janan-malik

غزل

کانٹوں جیسی تعبیریں تھی پھولوں جیسے خواب
ہم نے چھوٹی عمروں میں بھی کیا کیا دیکھے خواب

مجھ کو اس ملبوس میں دیکھ کے خوش تھے سارے لوگ
اور کسی نے یہ نہیں پوچھا لڑکی! تیرے خواب؟

ایک جگہ پر سونے والے بھی کب یکجا تھے
اپنی اپنی نیندیں تھیں اور اپنے اپنے خواب

میں ہوں اب اِس بستی کی تعبیروں پر مامور
لوگ سنانے آجاتے ہیں الٹے سیدھے خواب

ایک سُکُوت تھا تاریکی تھی وقت کی ٹھہری سانس
مٹی نے بارش دیکھی تھی پیڑ نے دیکھے خواب

غزل
کبھی تو سوچنا تم ان اداس آنکھوں کا
یہ رتجگوں میں گھری محو یاس آنکھوں کا

میں گِھر گئ تھی کہیں وحشتوں کے جنگل میں
تھا اک ہجوم مرے آس پاس آنکھوں کا

برہنگی ترے اندر کہیں پنپتی ہے
لباس ڈھونڈ کوئی بے لباس آنکھوں کا

تمہارے ہجر کا موسم ہی راس آیا ہمیں
یہی تھا ایک طبیعت شناس آنکھوں کا

اسی کی نذر سبھی رتجگے سبھی نیندیں
اور اس کی آنکھوں کے نام اقتباس آنکھوں کا

پڑی رہے تری تصویرسامنے یوں ہی
یہ زر کھلا رہے آنکھوں کے پاس آنکھوں کا

خیال تھا کہ وہ ابر اس طرف سے گزرے گا
سو یہ بھی جاناں تھا وہم و قیاس آنکھوں کا

janan-malik-2

غزل

ایک محل تھا راجہ کا اک راج کماری ہوتی تھی
اُس راجہ کو اپنی پرجا جان سے پیاری ہوتی تھی

بابا کہتے یہ جو کھنڈر ہے سیتا رام کا مندر تھا
اِس مندر کی ایک پجارن رام دلاری ہوتی تھی

پشپا اور رادھا بھی دونوں میری بہنیں ہوتی تھیں
منگل داس اور میری بیٹا گہری یاری ہوتی تھی

ایک دیئے کی لو میں بابا میر اور غالب پڑھتے تھے
ایک انگیٹھی ہوتی تھی اور ایک الماری ہوتی تھی

شام ڈھلے اک لان میں سارے بیٹھ کے چائے پیتے تھے
میز ہماراگھر کا تھا کرسی سرکاری ہوتی تھی

ایک کنواں میٹھے پانی کا اور اک بوڑھا برگد تھا
ایک محبت کا گہوارہ بستی ساری ہوتی تھی

میٹھے گیتوں کی وہ رسنا میٹھی دھن اور میٹھے بول
پورن ماشی پر آنگن میں شب بیداری ہوتی تھی

اب جو ملاں واعظ کرے تو خوف سا آنے لگتا ہے
موہن داس سے نعتیں سن کر رقت طاری ہوتی تھی

رشتوں کا احساس لہو کے اندر رچتا بستا تھا
کب ایسی نفسا نفسی اور مارا ماری ہوتی تھی

جاناں ملک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *