آج کی شخصیت غزل گو شاعر جمال احسانی صاحب

آج کی شخصیت غزل گو شاعر جمال احسانی صاحب

انتخاب: مہر خان

ترے نہ آنے سے دل بھی نہیں دکھا شاید
وگرنہ کیا میں سر شام سونے والا تھا

جمال احسانی 21 اپریل 1951ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی وطن پانی پت ہے۔ جمال احسانی نے بی اے تک تعلیم حاصل کی۔ تعلیم کے بعد ذریعہ معاش کی تلاش میں کراچی چلے آئے اور محکمۂ اطلاعات ونشریات ،سندھ سے منسلک ہوگئے۔ اس کے علاوہ جمال احسانی روزنامہ’’حریت‘، روزنامہ’’سویرا‘‘ اور ’’اظہار‘‘ کراچی سے بھی وابستہ رہے جہاں انھوں نے معاون مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اپنا پرچہ’’رازدار‘‘ بھی نکالتے رہے۔ وہ معاشی طور پر بہت پریشاں رہے۔

سن1970ء کی دہائی میں انہوں نے شاعری کا آغاز کیا اور بہت جلد اردو کے اہم غزل گو شعرا میں شمار ہونے لگے۔ ان کے شعری مجموعوں میں “ستارۂ سفر”، “رات کے جاگے ہوئے” اور “تارے کو مہتاب کیا” شامل ہیں۔ ان تینوں مجموعوں پر مشتمل ان کی کلیات، کلیات جمال کے نام سے بھی اشاعت پذیر ہوچکی ہے۔ 10 فروری 1998ء کو جمال احسانی کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں گلستان جوہر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

نہ وہ حسین نہ میں خوب رو مگر اک ساتھ
ہمیں جو دیکھ لے وہ دیکھتا ہی رہ جائے

چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا
یہ سانحہ مرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا

یہ غم نہیں ہے کہ ہم دونوں ایک ہو نہ سکے
یہ رنج ہے کہ کوئی درمیان میں بھی نہ تھا

ہارنے والوں نے اس رخ سے بھی سوچا ہوگا
سر کٹانا ہے تو ہتھیار نہ ڈالے جائیں

جمال احسانی کے اپنے قلم سے:

“جب سے ہوش سنبھالا کسی ذاتی ٹھکانے میں نہ رہا۔عمر عزیز کا اکثر و بیشتر حصہ کرائے کے مکانوں میں گزرا۔لہٰذا مختلف مکانات کے مالکان کے بے جاناز نخرے بھی اٹھانے پڑے۔شاید ہی کوئی محلہ ایسا بچا ہو جہاں گزران نہیں ہوئی۔ کبھی مالک کواپنے مکان کی ضرورت پڑی اور کبھی خود کو کوئی دوسرا سائبان خوش آ گیا۔پورے کراچی میں فیڈرل کیپٹل ایریا سے ڈیفنس کے علاقے تک گھر کا سامان ڈھوتے ڈھوتے ‘ اب تو بچے بھی اکتانے لگے ہیں کہ میں ان بے چاروں کو ایک جگہ ٹک کر رہنے کا گھونسلا بھی فراہم نہ کر سکا۔

“یہ خانہ بدوشی کا ایسا اقدام تھا جس نے سب کچھ تلپٹ کر دیا۔نہ آفس میں گھر رہ سکا نہ گھر میں آفس‘کسی دوسرے کرائے کی گنجائش نہ تھی۔کرایوں کے دفتروں اور مکانوں نے آسمان سے ہمکلامی شروع کر دی۔ زندگی ایک خانہ بدوش کی مکمل تصویر بن کر رہ گئی۔ آج ادھر تو کل ادھر‘آج یہاں تو کل وہاں۔ آج ڈیپازٹ دینا ہے‘ کل ایڈوانس اور پرسوں ماہانہ کرایہ۔زندگی اس خانہ بدوش کی مثال بن گئی ہے جو سامان سر پر اٹھائے پھرتا ہے۔ خانہ بدوش اور مجھ میں بس فرق یہ ہے کہ اس پر مہینے کی پہلی تاریخ نہیں آتی جبکہ مجھے ہر مہینے یہ انتظام بھی کرنا پڑتا ہے۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *