Jaise Umaraa Waise Matehat By Usman Atis

Jaise Umaraa Waise Matehat By Usman Atis

جیسے امراء ویسے ماتحت

ازقلم: عثمان عاطسؔ

آپ نے لوگوں نے بارہا سنا اور پڑھا ہو گا کہ جیسے حکمران ہوتے ہیں ویسی ہی عوام، آج کے اس مضمون میں اس کی چند مثالیں اپنے قارئین کرام کے لئے پیش خدمت ہیں۔

حجاج بن یوسف کے زمانے میں لوگ صبح کو بیدار ھوتے اور جب ایک دوسرے سے ملاقات ھوتی تو یہ پوچھتے
گزشتہ رات کون کون قتل کیا گیا؟؟
کس کس کو کوڑے لگے؟؟
اور
ولید بن عبدالملک مال، جائیداد اور عمارتوں کا شوقین تھا۔ اس کے زمانے میں جب لوگ صبح بیدار ہوتے تو ایک دوسرے سے مکانات کی تعمیر، نہروں کی کھدائی اور درختوں کی افزائش کےبارے میں پوچھاکرتے تھے۔

اسی طرح

Jaise Umaraa Waise Matehat By Usman Atis

جب سلیمان بن عبدالملک کا دور آیا اور وہ کھانے، پینے اور گانے بجانے کا شوقین تھا۔ تو اس کے دور میں لوگ اچھے کھانے، رقص وسرود اور ناچنے والیوں کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔

آخری مثال

جب حضرت عمر بن عبدالعزیز (رحمہ اللہ) کا دورآیا تو وہ بہت ہی نیک اور اللہ والے تھے تو انکے دور میں لوگوں کے درمیان گفتگو کچھ اس قسم کی ھوتی تھی۔
تم نے قرآن کتنا یاد کیا؟؟
ہررات کتنا ورد کرتے ھو؟؟
رات کو کتنے نوافل پڑھے؟؟
رات کا کتنا حصہ عبادت میں گزارا وغیرہ۔

ان تمام مثالوں سے یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ عوام ھمیشہ اپنے امیروں، حکمرانوں اور وڈیروں کے نقش قدم پر چلتی ہے۔ مجھے یاد آتا ہے کہ میرے انگلش کے ایک سکول ٹیچر ہوتے تھے، تھے تو وہ انگلش کے ٹیچر لیکن انکا حلیلا انکا رہن سہن اسلامک ہوتا تھا جسکی وجہ سے کلاس کا ماحول ہمیشہ سے ادبی اور اسلامی رہا۔

اس بارے میں میرے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کا ایک فرمان ہے جس میں آپ علیہ السلام نے فرمایا، (الناس علی دین ملوکھم

حدیث مبارکہ کی تشریح
لوگ ہمیشہ اپنے سرداروں اور حکمرانوں کے دین پر ہوتے ہیں (مطلب) قوم کا بڑا جو کام کرئے گا اسکے ماتحت قوم بھی وہی کام کرئے گی۔ وہ بڑا کسی ملک کا حکمران یا کلاس روم میں بیٹھے ہوئے استاد محترم ہوں یا گھر کا نگران باپ ہو۔ پہلے اپنے قبلہ درست کرنا پڑے گا۔ ایک واقعہ ذہن میں آگیا۔

Jaise Umaraa Waise Matehat By Usman Atis

واقعہ
واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک دفعہ ایک حبشی سفر کر رہا ہوتا ہے اسے رستے سے شیشہ ملتا ہے۔ وہ شیشہ اٹھاتا ہے اور اس میں اپنا چہرہ دیکھتا ہے، دیکھتا ہے موٹے موٹے ہونٹ، کالا سیاہ رنگ، موٹا ناک وغیرہ وہ یہ منظر دیکھ کر شیشہ کو زمین پر دے مارتا ہے اور کہتا ہے کہ تو اتنا بد صورت ہے اسی لیے لوگوں نے تمہیں رستے میں پھینکا ہوا ہے یہ کہتے ہوئے اپنی راہ لیتاہے۔

ہمارا حال بھی اس حبشی کی طرح ہے جس نے سارا قصور شیشہ کا نکال دیا، ہم دوسروں کو تو بدلنا چاہتے ہیں لیکن اپنے دامن میں کتنی خامیاں، کتنی برائیاں ہیں کبھی اندر جھانک کر نہیں دیکھا۔

Jaise Umaraa Waise Matehat By Usman Atis

تنبیہ: اگر ہم چاہتے ہیں جو لوگ ہمارے ماتحت ٹھیک ہو جائے، ہمیں عدل وانصاف ملے، ہم پرکسی بھی قسم کا ظلم نا ہو تو حضور والا اسکے لئے ضروری ہے پہلے ہم اپنے آپ کی اصلاح کریں۔ ہم خود تو غلط رستوں پر چلتے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ماتحت، ہماری اولاد غلط رستوں کو نا اپنائے یہ بھلا کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ یہ اس دنیا کا دستور ہے انسان جو کچھ بوتا ہے وہی کاٹتاہے اب وہ اچھا ہو یہ برا۔۔۔

دعا ہے اس رب کائنات سے کہ وہ ذات ہمیں صحیح سمجھ اور فہم عطا کریں۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *