سر زمین برار کے ابھرتے ہوئے نوجوان شاعر اسرار دانشؔ کا کلام

سر زمین برار کے ابھرتے ہوئے نوجوان شاعر اسرار دانشؔ کا کلام

انتخاب از تسنیم فرزانہ

رتبہ، نسب، لباس نہ چہرہ بتائے گا
تو کون ہے یہ تیرا رویہّ بتائے گا

کیسے کریں یقین کسی اجنبی پہ ہم
ہر شخص اپنے آپ کو سچا بتائے گا

بھائی عزیز ہے کہ ہے دولت عزیز تر
یہ تجھ کو آزمائشی لمحہ بتائے گا

دریا سے مت یہ پوچھ وہ سیراب خوب ہے
شدت کی پیاس کیا ہے یہ صحرا بتائے گا

جھوٹوں کی صحبتوں سے ہے بچنا بھی لازمی
ورنہ زمانہ تم کو بھی جھوٹا بتائے گا

دانشؔ ہزار وسوسے، وہم و گمان،خواب
آئینہ دل کا ہم کو یہ کیا کیا بتائے گا

اسرار دانشؔ کا کلام

علم، اخلاق، عمل، سیرت و کردار کے ساتھ
بندہ پہچانا فقط جاتا ہے اطوار کے ساتھ

صرف اقرار میں پنہاں نہیں الفت جاناں
لذتِ عشق بڑھی جاتی ہے انکار کے ساتھ

ساتھ ہر وقت میرے تُو نہیں رہنے والا
سایہ ہروقت کہاں ہوتا ہے دیوار کے ساتھ

اُس گھڑی موت سے بھی رنج کی حد پار ہوئی
میں نے اے جان تجھے دیکھا جب اغیار کے ساتھ

حوصلہ، عزم و تحمّل بھی ضروری ہے میاں
جنگ بس جیتی نہیں جاتی ہے تلوار کے ساتھ

درد تنہا نہیں آیا کبھی ملنے مجھ سے
آہ و آنسو بھی چلے آئے غم یار کے ساتھ

چارہ گر عشق کے ماروں کا بھی کر کچھ تو علاج
تیری محفل میں جو آئے ہیں اس آزار کے ساتھ

شاعری نے مجھے اک نام نیا بخشا ہے
مجھ کو دانشؔ بھی کہا جاتا ہے اسرار کے ساتھ
سر زمین برار کے ابھرتے ہوئے نوجوان شاعر اسرار دانشؔ کا کلام

برسوں سے قید ہے جو مری اک کتاب میں
خوشبو بسی ہوئی ہے ابھی اُس گلاب میں

گیدڑ کو شیر جیسا دِکھا کر کتاب میں
کتنا حسین جھوٹ سجایا نصاب میں

اُس کو ذرا سی دیر کو کیا روشنی ملی
خامی نکالنے لگا وہ آفتاب میں

افسوس ہے وہ زینتِ بازار ہو گئیں
محفوظ کل تلک تھیں جو اپنے حجاب میں

خود سے عہد یہ ہم نے کیا ہے ہزار بار
جتنی بچی ہے زندگی گزرے ثواب میں

نام ونسب کو دیکھا نہ صورت نظر میں ہے
سیرت چنی ہے میں نے تیرے انتخاب میں

جنت میں ہی پیئں گے شرابِ طہور ہم
دانشؔ مزہ نہیں ہے زمیں کی شراب میں

1 comment on “سر زمین برار کے ابھرتے ہوئے نوجوان شاعر اسرار دانشؔ کا کلام

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *