مولوی محمد اسماعیل میرٹھی صاحب کا تعارف اور کلام

مولوی محمد اسماعیل میرٹھی صاحب کا تعارف اور کلام

انتخاب: مہر خان

اسماعیل میرٹھی 12نومبر 1844کو میرٹھ کے ایک محلے مشائخان میں پیدا ہوئے تھے۔ اب یہ علاقہ اسماعیل نگر کے نام سے معروف ہے۔ انہوں نے بچوں کے لیے اردو میں بہت سی درسی کتابیں تحریر کیں۔ ان درسی کتب کے زیادہ ترمضامین، نظمیں، حکایات اور کہانیاں خود مولوی محمد اسماعیل میرٹھی کی تصنیف کردہ ہیں اور کچھ فارسی اور انگریزی سے ماخوذ ترجمے ہیں۔ مولوی محمد اسماعیل میرٹھی کی مرتب کردہ یہ درسی کتابیں ایک صدی گزرنے کے بھی بچوں کے ادب میں اسی مقبولیت اور اہمیت کی حامل ہیں اور آج بھی بڑے ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔

اسماعیل میرٹھی نے نہ صرف بچوں کے لیے بے حد خوب صورت شاعری کی بلکہ انہوں نے نظم نگاری میں مختلف تجربے بھی کیے ان کی نظم اردو کی پہلی معریٰ کہلاتی ہے۔ ان کی نظموں میں ایسے متعدد شعر موجود ہیں جو آج بھی زبان زد ِ خاص و عام ہیں۔ اسماعیل میرٹھی نے 73 سال کی عمر میں یکم نومبر 1917ء کو میرٹھ میں انتقال کیا۔

معروف نقاد پروفیسر گوپی چند نارنگ کہتے ہیں:”بچوں کا ادب اسماعیل میرٹھی کی ادبی شخصیت کا محض ایک رخ ہے۔ انکا شمار جدید نظم کے ہئیتی تجربوں کے بنیاد گزاروں میں بھی ہونا چاہیے۔ آزاد اور حالی نے جدید نظم کے لئے زیادہ تر مثنوی اورمسدس کے فارم کو برتا تھا۔ اسماعیل نے انکے علاہ مثلث، مربع، مخمس اور مثمن سے بھی کام لیا ہے۔ ترقی پسند شاعروں نے آزاد نظم اور نظم معرٰی کے جو تجربے کیے، ان سے بہت پہلے عبد الحلیم شرر، نظم طباطبائی اور نادر کاکوروی اور ان سے بھی پہلے اسماعیل میرٹھی ان راہوں سے کانٹے نکال چکے تھے۔

مولوی محمد اسماعیل میرٹھی کے کلام میں سے منتخب اشعار

مولوی محمد اسماعیل میرٹھی صاحب کا تعارف اور کلام

ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں
نائو کاغذ کی سدا چلتی نہیں

رب کا شکر ادا کر بھائی
جس نے ہماری گائے بنائی

نہر پر چل رہی ہے پن چکی
دھن کی پوری ہے کام کی پکی

بندگی کا شعور ہے جب تک
بندہ پرور! وہ بندگی ہی نہیں

نہیں معلوم کیا واجب ہے کیا فرض
مِرے مذہب میں ہے تیری رضا فرض

کبھی بُھول کر کسی سے نہ کرو سلوک ایسا
کہ جو تم سے کوئی کرتا تمہیں ناگوار ہوتا

خواہشوں نے ڈبو دیا دِل کو
ورنہ یہ بحرِ بیکراں ہوتا

سلامت ہے سر تو سرہانے بہت ہیں
مُجھے دل لگی کے ٹھکانے بہت ہیں

اِن بد دِلوں نے عشق کو بدنام کر دیا
جو مرتکب شکایتِ جور و جفا کے ہیں

مارا بھی اور مار کر زندہ بھی کر دیا
یہ شعبدے تو شوخیٔ نازو ادا کے ہیں

اظہارِ حال کا بھی ذریعہ نہیں رہا
دل اتنا جل گیا ہے کہ آنکھوں میں نم نہیں

خود فروشی حُسن کو جب سے ہوئی مدِ نظر
نرخِ دل بھی گھٹ گیا جانیں بھی ارزاں ہو گئیں

آغازِ عشق عُمر کا انجام ہو گیا
ناکامیوں کے غم میں مرا کام ہو کیا

جاگیرِ دَدر پر ہمیں سرکارِ عشق نے
تحریر کر دیا ہے وثیقہ دوام کا

کسی کی برقِ تبسّم جو دل میں کوند گئی
تو چشمِ تر کا ہوا حال ابرِ تر کا سا

جی چاہتا ہے آپ کے در پر پڑا رہوں
صاحب نہیں ہے اور کوئی اِس غلام کا

طالب ہوں تجھ سے تیری مُحبت کے جام کا
تیرے سوا نہیں ہے کوئی تشنہ کام کا

زلف دیکھی اس کی جن قوموں نے وہ کافر بنیں
رخ نظر آیا جنہیں وہ سب مسلماں ہو گئیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *