Islam Aur Azadi Ka Safar By Molana Zahid al Rashidi

Islam Aur Azadi Ka Safar By Molana Zahid al Rashidi

اسلام اور آزادی کا سفر

ازقلم: حضرت مولانا زاہد الراشدی

چودہ (14) اگست ہمارا یوم آزادی ہے اور ایک نئی اسلامی ریاست کے وجود میں آنے کا دن ہے۔ 1947ء میں اس روز ہم نے برطانوی استعمار کے طوق غلامی سے نجات حاصل کی تھی اور دنیا کے نقشے پر پاکستان کے نام سے ایک نئے ملک کی حدود ابھری تھیں۔ اس ملک کے وجود میں آنے کا مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ جنوبی ایشیا میں کروڑوں کی تعداد میں بسنے والے مسلمان اپنا الگ تہذیبی وجود رکھتے ہیں، جداگانہ دینی شناخت سے بہرہ ور ہیں، اور اپنے عقیدہ و ثقافت کی بنیاد پر ایک مستقل نظام حیات کے حامل ہیں۔

اس لیے انکی الگ قومی شناخت کا عملی اظہار ضروری ہے اور انکی اکثریت کے علاقوں کو ایک الگ ملک کی حیثیت سے آزاد کرانا ناگزیر ہے۔ تاکہ وہ اپنے عقیدہ، ثقافت اور نظام حیات کے مطابق آزادی کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں اور اپنے جداگانہ نظام حیات کی عملداری کا اہتمام کر سکیں۔

Islam Aur Azadi Ka Safar By Molana Zahid al Rashidi

آزادی‘‘ اور’’اسلام‘‘ کے دو عنوانات تھے جنکے ساتھ ہم نے 14 اگست 1947ء کو پاکستان کے نام سے نئے سفر کا آغاز کیا تھا اور اس عزم کے ساتھ نئی منزل کی طرف گامزن ہوئے تھے کہ آزادی اور خود مختاری کے ثمرات و نتائج حاصل کریں گے۔ اور اسلام کی اعلیٰ و ارفع تعلیمات کی بنیاد پر ایک مثالی طرز حیات کو قومی حیثیت سے اپنا کر دنیا کے سامنے ایک آئیڈیل سو سائٹی کا نقشہ پیش کریں گے۔

لیکن نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد بھی آزادی اور اسلام کی دونوں منزلیں ہم سے دور ہیں۔ اگر آجکے حالات کا پچپن برس پہلے کے حالات کے ساتھ حقیقت پسندانہ مواز نہ کیا جائے تو اب ہم اس مقام پر بھی کھڑے نظر نہیں آتے جہاں سے 14 اگست 1947ء کو یہ سفر شروع کیا تھا کہ دینی و اخلاقی اقدار دھیرے دھیرے دم توڑتی جا رہی ہیں اورغیرت و حمیت کا جنازہ نکل گیا ہے۔

ہندوثقافت اورمغربی تہذیب کے ملغوبےنےآکاس بیل کی طرح ہماری قومی اورمعاشرتی زندگی کا احاطہ کررکھا ہے،اسلام کے ساتھ دو ٹوک کمٹمنٹ اور دین و عقیدہ کی خاطر قربانی دینےکا جذبہ نہ صرف اجنبی ہوتا جا رہا ہے بلکہ اس پر ’’بنیاد پرستی‘‘اور’’دہشت گردی‘‘ کے لیبل لگا کر نئی نسل کو اس سے دور رکھنے کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے،عالمی برادری اور بین الاقوامی نظام و قانون کے ساتھ ہم آہنگی کے نام پر قوم کو قرآن و سنت کے واضح احکام و ضوابط سے دستبردار ہونے کی تلقین کی جارہی ہے، اور دینی اقدار و شعائر پر کسی حد تک قائم رہنے والے حلقے رفتہ رفتہ معاشرے کے سمندر میں چھوٹے چھوٹے جزیروں کی شکل اختیار کرتے جارہے ہیں۔

Islam Aur Azadi Ka Safar By Molana Zahid al Rashidi

اسلام اور آزادی کی خاطر ہمارے بزرگوں نےبڑی بڑی قربانیاں دی تھیں۔ جنگ آزادی 1857ء سے پہلے اور اسکے بعد ہمارے بزرگوں کا اس قدر وحشیانہ قتل عام کیا گیا تھا کہ سرعام درختوں کے ساتھ ان کی لاشیں لٹکتیں نظر آتی تھیں، انہیں کالا پانی کے جزائر کی طرف دھکیل دیا گیا تھا، تاریخی روایات کے مطابق زندہ انسانوں کو خنزیر کی کھال میں سی کرآگ میں جلا دیا گیا تھا، توپ کے منہ پر باندھ کر گولے کے ساتھ ان کے جسموں کے پرخچے اڑا دیے گئے تھے، زندہ انسانوں کو درختوں سے لٹکا کر زندہ حالت میں انکے جسموں سے کھالیں کھینچ لی گئی تھیں، آزادی کا نام لینے والے تختۂ دار پر لٹکا دیے جاتے تھے اور اس کا مطالبہ کرنے والوں سے جیلوں کی کال کوٹھڑیاں بھردی جاتی تھیں۔

یہ کوئی دو چار برس کی بات نہیں بلکہ دو صدیوں کا قصہ ہے جو 1787ء میں بنگال کے غیور نواب سراج الدولہؒ کی شہادت سے شروع ہوا اور 1947ء تک پورے تسلسل کے ساتھ جاری رہا۔ اس میں سلطان ٹیپو شہیدؒ کا نام بھی آتا ہے جس نے اپنے عظیم باپ نواب حیدر علی کی قائم کردہ ریاست سلطنت خدا داد میسور کو اسلامی حمیت اور جدوجہد آزادی کا بیس کیمپ بنا دیا اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوجوں سے لڑتے ہوئے یہ کہہ کر جام شہادت نوش کیا کہ ’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے۔

اسلام اور آزادی کے لیے دی جانے والی ان قربانیوں میں شہدائے بالاکوٹ کا تذکرہ بھی ہے جنہوں نے اسلامیان پاکستان کے دلوں میں جہاد کے جذبے کو ایک بار پھر زندہ کیا اورعملی طور پر میدان جہاد میں کود کر پشاور کے صوبے میں 1830ء میں اسلامی ریاست قائم کرتے ہوئے پاکستان کے قیام سے سوا سو برس قبل’’پاکستان‘‘ کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ اور پھر 6 مئی 1831ء کو بالاکوٹ میں جام شہادت نوش کر کے اپنے ہم وطنوں کو آزادی کے حصول کے لیے با وقار جدوجہد کا راستہ دکھایا۔

Islam Aur Azadi Ka Safar By Molana Zahid al Rashidi

عزیمت و استقامت کی اس تاریخ میں ایک باب شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ، مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور ان کے رفقاء کا بھی ہے جنہوں نے قوم کے لیے آزادی حاصل کرنے کی خاطر ملکوں کی خاک چھانی، در بدر گھومے، آزادی پسند اقوام کے سامنے قوم کی غلامی کی دہائی دی، اور غلامی کی زنجیروں کو ڈھیلا کرنے کے لیے جو کچھ ان کے بس میں تھا کر گزرے۔ اس قافلے میں حضرت مولانا محمد علی جوہرؒ، حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ ، مولانا ابوالکلام آزادؒ ، حضرت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور ان کے رفقاء کار ہزاروں علماء کرام بھی شامل ہیں جن کی زندگیوں کے بہترین سال آزادی کی خاطر جیل کی کال کوٹھڑیوں میں گزرے اور جو تمام تر مصائب و مشکلات کے باوجود بلند آہنگی کے ساتھ آزادی کا نعرہ لگاتے رہے۔

آزادی اوراسلام کی خاطر قربانیاں دینے والوں میں ان لاکھوں مسلمانوں کا حصہ بھی کسی سے کم نہیں جنہوں نے اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان کے لیے گھر بار چھوڑے، بے وطن ہوئے، ہزاروں نے جام شہادت نوش کیا، ہزاروں عورتوں کی عصمتیں لٹیں، ہزاروں بچے نیزوں اور تلواروں پر پروئے گئے۔ صرف اس لیے کہ وہ مسلمان تھے، اسلام کا نام لیتے تھے، اسلام کے نام پر بننے والے نئے ملک سے محبت کرتے تھے، اور ایمانی جوش وجذبہ کے ساتھ ’’پاکستان زندہ باد‘‘ اور ’’لے کے رہیں گے پاکستان‘‘ کے نعرے لگایا کرتے تھے۔

Islam Aur Azadi Ka Safar By Molana Zahid al Rashidi

پاکستان کے قیام کی جدو جہد کے قائد و بانی محمد علی جناح مرحوم نے اعلان کیا تھا کہ ’’پاکستان کا دستور قرآن کریم ہوگا اور اس نئے ملک میں اسلامی نظام کی عملداری ہوگی‘‘۔ اس اعلان پرحکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی، علامہ شبیر احمد عثمانی، مولانا اطہر علی ، مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا مفتی محمد شفیع، مولانا عبد الحمید بدایونی، پیر صاحب مانکی شریف ، مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی رحمہم اللہ تعالیٰ اور ان کی قیادت میں ہزاروں علماء کرام نے پاکستان کے حق میں رائے عامہ کو منظم و بیدار کرنے کے لیے دن رات ایک کر دیا تھا۔

لیکن جب ان دو صدیوں پر محیط قربانیوں کے پس منظرمیں ہم اپنے نصف صدی کے قومی سفر کو دیکھتے ہیں تو ندامت اور شرمساری کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ آج ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کےشہری کہلاتے ہیں لیکن ہمارے’’اسلام‘‘ اور ’’آزادی‘‘ دونوں پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ امریکہ کی قیادت میں عالمی استعمار کے نئے اتحاد نے ہمارے’’اسلام‘‘ اور ’’آزادی و خود مختاری‘‘ دونوں کا ریموٹ کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور ہم بے جان پتلیوں کی طرح وائٹ ہاؤس کے اشارے پر ناچتے چلے جارہے ہیں۔

Islam Aur Azadi Ka Safar By Molana Zahid al Rashidi

جنگ آزادی اور تحریک پاکستان کے لاکھوں شہداء و مجاہدین کی روحیں بے چین و مضطرب ہیں اور انتہائی کرب و الم کے عالم میں ہم سے سوال کر رہی ہیں کہ کیا ہماری قربانیوں اور جدو جہد کے ساتھ تم اسی طرح بے وفائی کرتے رہو گے؟ اور کیا اپنے عمل و کردار سے اسی طرح ان کا مذاق اڑاتے رہو گے؟ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم میں سے کسی کے پاس اس سوال کو سننے کی فرصت بھی ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *