سلیمان جاذبؔ صاحب کے نئے شعری مجموعے عشق قلندر کر دیتا ہے سے منتخب اشعار

سلیمان جاذبؔ صاحب کے شعری مجموعے عشق قلندر کر دیتا ہے سے منتخب اشعار

انتخاب: عثمان عاطسؔ 

روح میں مستی بھر دیتا ہے
عشق قلندر کر دیتا ہے

ہونٹوں پہ جو ترے ہے مسکان مری جان
لے جائے گی اک روز مری جان مری جان

اُسے تم مٹانے کی کوشش نہ کرنا
جو لکھا ہے دل پر وہ نام آخری ہے

سلیمان جاذبؔ 

کہاں سے لاؤ گے ماں کی ممتا
اگر پردیس گھر ہونے لگا ہے

عشق کاجام مرے ہاتھ میں بھی آئے گا
لڑکھڑاتے ہوئے لوگوں کو سنبھل جانے دو

اب خلاؤں میں ڈھونڈتے کیا ہو
جانے والا چلا گیا جاذبؔ 

اپنی تنہائی میں تنہا کب ہوں
میری یادوں میں بسے ہیں سپنے

چند خوشیوں کے واسطے جاذبؔ 
روز کتنے ہی غم کماتا ہوں

سلیمان جاذبؔ صاحب کے شعری مجموعے عشق قلندر کر دیتا ہے سے منتخب اشعار

بس اک کام پر ہی چلے آئے ہو تم
نوازش ، کرم، شکریہ، مہربانی

دنیا گھومے کیا کیا دیکھا
کوئی نہ ہم نے تم سا دیکھا

بھول جانے کا تجھے کیسے میں وعدہ کر لوں
ہے محبت ہی مری آن ، مری آن نہ لے

جانے کس مٹی کا جاذبؔ تو بنا ہے
ٹوٹ کر بکھرا نہیں حد ہو گئی ہے

آئینے سے گفتگو کرتا ہوں میں
اک تمہاری جستجو کرتا ہوں میں

دُکھ کسی کو بھی بتاؤں کس لئے
زخم اپنے خود رفو کرتا ہوں میں

مرے اشعار میں جاناں تری آنکھو ں کے چرچے ہیں
تری آنکھوں کے چرچے ہیں تو اس میں کیا برائی ہے

لوگ کیا کیا ہ عشق میں جاذبؔ 
چھوڑ کر نام اور نسب آئے

سلیمان جاذبؔ صاحب کے شعری مجموعے عشق قلندر کر دیتا ہے سے منتخب اشعار

رب ہی جاذبؔ جانتا ہے
مارے کون بچائے کون

تم ہی بتاؤ میں بھلاؤں تمہیں کیسے
س دل سے کوئی نقش مٹایا ہیں جاتا

چہرے پہ جمی دھول سے کیوں بھول رہا ہے
جاذبؔ ہوں میں جاذب مجھے پہچان مری جان

سلیمان جاذبؔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *