عرفان ستار صاحب کے خوبصورت کلام میں سے منتخب اشعار

عرفان ستار صاحب کے خوبصورت کلام میں سے منتخب اشعار

انتخاب: عثمان عاطسؔ

تجھے یہ ضد ہے مگر اس طرح نہیں ہوتا
کہ تو بھی زندہ رہے داستاں بھی زندہ رہے

ہاں ویسے تو حجرہِ جاں میں بے ترتیبی ٹھیک نہیں
لیکن کیا ترتیب سے رکھوں، سب کچھ درہم برہم ہے

نہیں نہیں، یہ بھلا کس نے کہہ دیا تم سے؟
میں ٹھیک ٹھاک ہوں، ہاں بس ذرا اداسی ہے

وہ ایک پل ہی سہی جس میں تم میسّر ہو
اُس ایک پل سے زیادہ تو زندگی بھی نہیں

شام ہوتے ہی لگاتے ہیں درِ دل پہ صدا
آبلہ پا ہیں ، اکیلے ہیں ،اماں چاہتے ہیں

اک چبھن ہے کہ جو بے چین کیے رہتی ہے
ایسا لگتا ہے کہ کچھ ٹوٹ گیا ہے مجھ میں

ﺗﯿﺮﮮ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺍ ﺟﮩﻞ ِ ﺩﺭﻭﮞ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﮨﮯ
ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﮨﮯ

ﺗﯿﺮﺍ ﺍﻧﺪﺍﺯ ِ ﺗﺨﺎﻃﺐ، ﺗﺮﺍ ﻟﮩﺠﮧ، ﺗﺮﮮ ﻟﻔﻆ
ﻭﮦ ﺟﺴﮯ ﺧﻮﻑ ِﺧﺪﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﻮﮞ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﮨﮯ؟؟

زباں پہ حرف ِ ملائم بھی، دل میں کینہ بھی
عجیب شخص ہے، اچھا بھی ہے، کمینہ بھی

‏تیرے ماضی کے ساتھ دفن کہیں
‏میرا اِک واقعہ نہیں، مَیں ہوں

irfan-sattar-poetry

فقیہ ِ شہر کی ہر بات مان لو چپ چاپ
اگر سوال اٹھایا، تو زندگی سے گئے

نہ پوچھیئے کہ وہ کس کرب سے گزرتے ہیں
جو آگہی کے سبب عیش ِ بندگی سے گئے

پھونک دی جاتی ہے اس طرح مرے شعر میں روح
جیسے سانسوں میں کوئی کن فیکوں بولتا ہے

میں گفتگو کا نہیں، سوچنے کا عادی ہوں
سو میں نے عشق بھی تجھ ایسے کم سخن سے کیا

ہم بھی حیراں ہیں بہت خود سے بچھڑ جانے پر
مستقل اپنی ہی جانب نگراں تھے ہم بھی

اب کہیں کیا، کہ وہ سب قصہءِ پارینہ ہُوا
رونقِ محفلِ شیریں سخناں تھے ہم بھی

اس عہد بد لحاظ میں ہم سے گداز قلب
زندہ ہی رہ گئے تو بڑا کام کر گئے

عرفان ستار

میری غزل میں ھے کسی لہجے کی بازگشت
اک یار ِ خوش کلام و طرح دار مجھ میں ھے

حد ھے، کہ تُو بھی میری اذیّت نہ پڑھ سکا
شاید کوئی بلا کا اداکار مجھ میں ھے

ایک ھی سمت ھر اک خواب چلا جاتا ھے
یاد ھے یا کوئی نقشِ کفِ پا ھے مجھ میں؟

مجلسِ شام ِ غریباں ھے بپا چار پہر
مستقل بس یہی ماحولِ عزا ھے مجھ میں

تری تمام ریاکاریوں سے واقف ھوں
یقین کر بڑا لطف اس نباہ میں ھے

عرفان ستار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *