International Adabi Nashist

      No Comments on International Adabi Nashist
International Adabi Nashist

انٹرنیشنل ادبی نشست

رپورٹ: سالکؔ جونپوری

تیرہ فروری 2017کو گروپ “ادب کے دائرے میں” کے زیرِ اہتمام پہلی بارانٹرنیشنل ادبی نشست منعقد ہوئی جوکہ جناب توصیف ترنل صاحب، جعفر بڈھانوی صاحب اور سالکؔ جونپوری کے تعاون سے ممکن ہو سکا۔
نشست کی ابتداء حمدِ باری تعالی سے

جاں دے کے بھی مل جائے جو وہ جان تمنّا
سستا جو نہیں ہے تو یہ مہنگا بھی نہیں ہے
یونہی تو نہیں تجھ پہ فدا تائب خستہ
بن تیری محبّت کے گزارا بھی نہیں ہے

International Adabi Nashist

جناب تائب جونپوری صاحب کے اس حمدیہ کلام کے بعد آزاد کشمیر کے نوجوان شاعر جناب شوزیب کاشر صاحب نے اپنی عالمی پیمانے پر مشہور انعام یافتہ نعت شریف کا نذرانہ سرکارِ دو عالم محمد مصطفی ﷺ پیش کیا۔

تو  سید  عالم  ہے  رفعنا  لک  ذکرک
پیارے تجھے کیاغم ہے رفعنا لک ذکرک

محبوب ترے ذکر کی بالائی پہ شاہد
یہ آیتِ محکم  ہے رفعنا  لک  ذکرک

ان مبارک کلمات کے بعد باقاعدہ ادبی نشست کا آغاز ناظمِ مشاعرہ جناب سالکؔ جونپوری نے اپنے اشعار سے کیا وہ اشعار کچھ یوں ہیں۔

چار سو پھر بھی کیوں ہے تنہائی
کتنے لوگوں سے ہے شناسائی

راہِ الفت میں جو ابھر آئے
ہے مبارک وہ آبلہ پائی

سالکؔ جونپوری صاحب کے بعد مہمانِ اعزازی جناب قدیر خاموش صاحب کو دعوتِ کلام دیا انہوں نے اپنے اشعار کچھ یوں پیش کئیے

مقدر کا لکھا تو ہو کے رہے گا
shozaib kashirخدا کی رضا سے کوئی کیا لڑے گا

پگھل جائے گا میری بانہوں میں آکر
کہاں تک وہ مجھ سے کنارہ کرے گا

محترم خاموش کے بعد جناب شوزیب کاشر صاحب کو دعوتِ کلام دیا گیا انہوں نے اپنے خوبصورت کلام کے ذریعے کافی دیر محفل کو گرمائے رکھا۔ شوزیب کاشر صاحب نے فرمایا

زمین اچھی لگی آسمان اچھا لگا
ملا وہ شخص تو سارا جہان اچھا لگا

یہ معجزہ بھی تیرے حسن لالہ فام کا تھا
“کہ سارے شہر میں چرچا ترے ھی نام کا تھا”

نظر جھکا کے ہمیشہ ملا حسینوں سے
کہ یہ تقاضا حسینوں کے احترام کا تھا

غم جہان سے بیگانہ کر دیا دل کو
بڑا عجیب نشہ اس نظر کے جام کا تھا

ذرا سی بات پکڑ کر کہانیاں گھڑنا
عجب مزاج مرے شہر کی عوام کا تھا

touseef turnal

تیرا کرم کہ مجھے اذن گفتگو بخشا
وگرنہ مجھ میں کہاں حوصلہ کلام کا تھا

محترم شوزیب کے بعد مہمانِ اعزازی جناب جعفر بڈھانوی صاحب کو کلام پیش کرنے کے لیے دعوت دی گئی
ان کے اشعار پیش خدمت ہیں۔

لگی تھی آگ سینے میں کہ ان کی دید ہو جائے
ہوا دیدار پھر سوچا یہاں آنا نہیں اچھا

دل بےزار سے جعفر یہی کہنا مناسب ہے
کسی کے بےوفائی میں جلے جانا نہیں اچھا

جناب جعفر بڈھانوی صاحب نے خوبصورت اشعار پیش کئیے ان کے بعد جناب فرید صابری فرید صاحب کو اپنا کلام پیش کرنے کی دعوت دی گئی ان کے اشعار کچھ یوں

امید وفا اور بھلا کس سے کریں ہم
ہر شخص جو باہر ہے وہ اندر نہیں ہوتا

لاو گے کہاں ڈھونڈ کے تم میرا مقابل
ہر کوئی محبّت میں تو بےگھر نہیں ہوتا

whatsapp-image-2017-02-18-at-1-13-24-pm

انکے بعد مہمانِ خاص جناب توصیف ترنل صاحب کو دعوتِ کلام دیا گیا انہوں نے خوبصورت اشعار پیش کئے

آپ کیسا سوال کرتے ہیں
میرا جینا محال کرتے ہیں
ایک مدت سے وہ ملے ہی نہیں
خواب میرے نہال کرتے ہیں

وہ اکیلا ہر کسی کا ہو گیا
یوں تو میں اندر سے تنہا ہو گیا
روز جیتا روز مرتا میں رہا
آپکو دیکھا تو اچھا ہو گیا

جناب توصیف صاحب کے بعد اس نشست کے صدر عکسِ جون جناب رضا شاہد صاحب کو دعوت دی گئی انہوں نے لاجواب اشعارعطا کئے۔

International Adabi Nashist

روز بس کچھ سوار ہوتا ہے
مجھ پہ پہلو سے وار ہوتا ہے
جب سے دنیا سے اعتبار اٹھا
خود پہ بس اعتبار ہوتا ہے

اور فرمایا

جب میں خود میں آتا ہوں پھر
کوئی ذات نہیں ہوتی ہے
سورج کو ڈھلنا پڑتا ہے
ایسے رات نہیں ہوتی ہے
آپس میں جب کھیل سجا ہو
اکثر مات نہیں ہوتی ہے

عکسِ جون جناب رضا شاہد صاحب نے اپنے منفرد رنگ میں محفل کو گرمائے رکھا اورخوب اشعار پیش کئیے ادبی نشست کا یہ مختصر سا سلسلہ ان کے کلام پر اختتام پزیر ہوا۔ یہ سلسلہ پہلی بار اس گروپ میں منعقد ہوا اور سلسلہ خوب رہا شعراء و سامعین کے تعاون سے کامیاب نشست پرسب ہی خاص و عام کا تہہِ دل سے شکریہ۔

International Adabi Nashist

روایت کے عین مطابق مہمانِ خاص توصیف ترنل صاحب جعفر بڈھانوی صاحب شوزیب کاشر صاحب قدیر خاموش صاحب فرید صابری فرید صاحب اور ہمارے خاص دوست جنابِ صدر رضا شاہد صاحب تمام کا بھرپور شکریہ مختصر پراثرادبی نشست سجانے کا انتہائی ممنون و مشکور آئندہ بھی آپ احباب کے تعاون سے مختلف عنوان سے محفل منعقد ہوتی رہی گی اسکے لیے آپ تمام احبابِ خاص کا خاص تعاون درکار ہوگا۔ سلامت رہیں شادوآباد رہیں۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *