Ik Lamha Mein Muqeed Zindagi By Shama Khalid

      No Comments on Ik Lamha Mein Muqeed Zindagi By Shama Khalid
Ik Lamha Mein Muqeed Zindagi

وہ دونوں جب فائیو سٹار کی لفٹ میں سوار ہوئے تو تھکن کے مارے نیچے سوئمنگ پول میں نہاتی گوریوں کے کندن بدن کو یوں دیکھ رہے تھے جیسے سرسری سا کوئی ٹائٹل چل رہا ہو۔آنکھیں پول میں چمکتے بدنوں سے نکل شعاعوں میں مقیّد تھیں۔ لیکن جسم و جاں میں کوئی ہلچل نہ تھی۔ بس تصور میں ٹھنڈے ٹھار کمرے میں سپرنگ والے بستر کی خواہش تھی۔ چھ کے چھ میں صرف ایک نقطے پر مرکوز تھیں اور وہ نکتہ تھا۔

ایک آرام دہ بسترخدا خدا کر کے لفٹ رکی اور دونوں اپنے جسم کی تمام کھوئی ہوئی انرجی کو یکجا کر کے کمرے میں ڈھیر ہو گئے۔ جانے چند لمحے یا چند گھنٹےنیند کی وادی میں اترے گزرے ہی تھے۔ موبائل کی گھنٹی نےصورا سرافیل پھونک دیا۔ گھبرا کر موبائل کو تین دفعہ گرانے کے بعد آخر راہیل نے کان کو لگا ہی لیا۔ دوسری طرف روزینہ کہہ رہی تھی۔’’آپ لوگ کہاں ملیں گے۔مجھے بھوک لگ رہی ہے۔ میں نے کالج روڈ پر ستار کے تکے کھانے ہیں۔Ik Lamha Mein Muqeed Zindagi

دونوں بجلی کی پھرتی سے اٹھے اور یک زبان بولے ’’ہم آرہے ہیں۔‘‘ فون بند کرنے کے بعد راہیل نے موٹی سی گالی دیتے ہوئے کہا’’یہ عورت ہے یا جن زبیر نے ہنستے ہوئے کہا ،’’عورتیں جن نہیں چڑیل ہوا کرتی ہے اور جلدی چلو یہ ’’ بھارو‘‘بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔‘‘جن کی ٹیل سیو ا ہم پچھلے دس دنوں سے کر رہے ہیں۔ اگر یہ بھاگ گئی تو رضوان بھائی کیسے زندہ رہ سکیں گے۔ یہ دونوں کزن گزشتہ چھ مہینے سے مختلف لوگوں کو لا کر کسی ہوٹل کبھی کسی رشتے دار کے گھر رکھنے کے بعد اسے ٹشو میچ کروانے کیلئے لے کر جاتے تھے۔ کبھی کوئی ایڈوانس لے کر بھاگ جاتا۔ کبھی ٹشو میچ نہیں ہوتا۔

اور کبھی عین وقت پر ڈونز بھاگ جاتا۔ مختلف سینٹروں میں تلاش بسیار کے بعد ٹھیکیدار نے یہ لڑکی متعارف کروائی تھی۔ جس کے خاوند نے سود خو ر پٹھان کے پچاس ہزار واپس کرنے تھے۔ خاوند تو چند ہی غیر قانونی تارک وطن بننے کے بعد دھکے کھا کر واپس آ گیا تھا۔ ٹھیکیدار نے روزینہ کو دو لاکھ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اور رضوان کے بھائیوں سے 8لاکھ کا سودا کرنے کے بعد وہ اسے شہر لے آیا تھا۔ ٹشو میچ ہونے کے بعد ڈاکٹر نے دس دن بعد کی تاریخ دے دی تھی۔

زبیر اور سہیل دونوں اس عورت کی چوکیداری پر مقرر تھے۔ اس سے پہلے بہت سارے ڈونز کبھی پیسے لے کر غائب ہو گئے تھے اور کبھی ٹھیکیدار غائب ہو گئے تھے۔ ملک میں جانے کب سے گردوں کی خریدو فروخت کا سلسلہ جاری تھا۔ لوگ اپنے گھر والوں کی ضرورت کا ڈول بھرنے کیلئے پہلے اپنا خون بیچا کرتے تھے لیکن سائنس کی ترقی اعضاء کی پیوندکاری میں میڈیکل سائنس جو ں جوں ترقی کر رہی تھی۔ توں توں لوگ پھر اپنے گھر والوں کے پیٹ کا ایندھن بھر نے کیلئے اپنے گردے بیچنے لگے تھے۔Ik Lamha Mein Muqeed Zindagi

پہلے یہ کاروبار صرف گنے چنے ڈاکٹر کرتے تھے۔ جو مڈل ایسٹ کے شیوخ کے شراب کی زیادتی سے تباہ ہونے والے گردے تبدیل کروانے کیلئے ان لوگوں کی ضروریات خرید لیتے تھے۔ یوں ڈاکٹر اور گردہ دینے والے کے رشتہ دار کی چاندی ہو جایا کرتی تھی۔ میڈیا نے جب ایسے لوگوں کی نشاندہی کرنی شروع کی تو حکومت وقت بھی حرکت میں آ گئی۔ اور سرعام گردوں کی خرید وفروخت پر پابندی لگا دی۔ گردہ ہسپتال کو حکومت وقت نے سرٹیفیکیٹ دے دیا تھا اور اس سنٹر نے جانے کتنے بریف کیس ہونجانے کے بعد یہ سرٹیفیکیٹ حاصل کیا تھا۔

یہ گردہ سینٹر جب پلاٹ سے بلڈنگ کے مراحل طے کر رہا تھا تو بیسمینٹ میں خصوصی کمرے بنائے گئے تھے۔ جہاں ملک بھر سے ان ضرورت مندوں کو جمع کیا گیا تھا۔ جہاں انہیں تین وقت مفتروٹی دی جاتی تھی۔ اور جب ان کا گردہ کسی مریض سے میچ ہو جاتاتو ساتھی اس حسرت سے دیکھتے ہوئے سوچتے ۔ ہمارا نمبر کب آئے گا۔ اور ہم کب نوٹوں کی گڈیاں اٹھائے گھر جائیں گے۔ اب گھر والے اپنے بچوں کو باہر بھجوانے کیلئے ٹریولنگ ایجنٹ کو تلاش نہیں کیا کرتے تھے بلکہ ایسے لوگوں کو تلاش کرتے جو ان کے پیاروں کے گردے لے کر انہیں مالا مال کر سکیں۔

Ik Lamha Mein Muqeed Zindagi
یہ سب باتیں زبیر اور سہیل کو تب پتہ چلیں۔ جب اچانک رضوان کے گردے فیل ہونے کا پتہ چلا۔ رضوان ایک بڑی اچھی کمپنی میں ملازمت کرتا تھا۔ زندگی اسی ڈھب سے گزر رہی تھی۔ جیسی وہ گزارنا چاہتاتھا اورجس دن اس نے اپنی محبوبہ کو بیوی کے روپ میں پالیا۔ اسے اپنے آپ پہ رشک آنے لگا۔ خوبصورت بیوی۔۔۔۔ چم چماتی کار گول مٹول دو بچے۔۔۔۔۔ سبھی کچھ تو اس کے پاس تھا۔ دوستوں کی محفل میں چند گھونٹ حلق میں اتار لینا۔ کبھی کبھار کسی کال گرل سے قربت وہ جو چاہتا تھا وہ سب اس کی جھول کی میں آ گرتا۔ اور پھر زندگی نا مہربان ہونا شروع ہوئی۔

دفتر والوں نے اسے چند سال بیرون ممالک بھجوانے کا فیصلہ کیا تو رضوان کو اپنے آپ پہ رشک آنے لگا۔ میڈیکل چیک اپ کے دوران یہ انکشاف کہ گردوں کی کاردگردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے، وہ پاگل ہوا بیٹھا تھا۔ پہلے تو اسے میڈیکل رپورٹ پر ہی شک ہوا۔ جب دوسرے ڈاکٹر نے بھی تصدیق کر دی۔ تووہ سب کچھ بھول کے علاج کروانے لگ گیا۔ دفتر والوں نے کمال مہربانی سے تین مہینے کی چھٹی پوری تنخواہ کے ساتھ منظور کر وائی۔Ik Lamha Mein Muqeed Zindagi

اب علاج کیا شروع ہوا، بیماری نے جیسے پوری طرح اسے اپنے حصار میں گھیر لیا ہو۔ آخر ڈاکٹر نے گردہ کی تبدیلی کا مشورہ دیا۔ تو زندگی کا وہ پنا سامنے آیا۔ جو ہم سب کی نظروں سے اوجھل ہوتا ہے۔ ہم سب کے ساتھ ہنستے بستے لوگوں کی زندگی ایک دم یوں انجانی ساخت بن جاتی ہے جیسے یہ کسی اور سیارے کے لوگ ہوں۔ زبیر سہیل سے پوچھنے لگا۔’’یار ایک بات بتاؤ۔ اس خاتون اور اس کے شوہر کو اس فائیو سٹار میں کیوں رکھا گیا۔‘‘ زبیر نے کمزور سی ہنسی کے ساتھ اعتراف کیا۔

جب رضوان بھائی نے مجھے کہا تھا’’ہم ان میاں بیوی کو ہوٹل میں رکھیں۔ اور ساتھ ان پر نظریں رکھیں تو میرے اندر کا کمینہ پن بے حد خوش ہوا تھا۔ میں تو کبھی خواب میں بھی اس ہوٹل میں ٹھہرا نہیں تھا۔ یہاں رہنا تو بڑی دور کی بات ہے میں تو کبھی ریسیپشن سے آگے نہیں بڑ ھا تھا۔ اور آج پورے ہفتے سے میں شہزادوں کی طرح رہ رہا ہوں۔‘‘ سہیل نے سوچتے ہوئے کہا،’’ہاں ہمارے اندر بہت ساری محرومیاں ، کچھ اور زیادہ پانے کی خواہشیں ہمیں بے حد تنگ کرتی ہیں۔

پر اس خاتون پر حیران ہوتا ہوں۔ کل کہنے لگی مجھے بریانی کھانی ہے اور جانتے ہو میں پچاس میل ڈرائیور کے بعد اسے بریانی کھلانے لایا۔ اور آخر غصے میں بول ہی اٹھا۔۔۔۔۔ آپ ہمیں بے حد تنگ کر رہی ہیں۔ ہم نے آپ سے ایک سودا کیا ہے۔ جس کی پوری رقم ہم نے آپ کو دی ہے۔ پر آپ ہیں کہ آپ کی فرمائشیں ختم ہونے میں نہیں آ رہیں۔ جانتے اس نے مجھے کیا جواب دیا۔ میں آپ کے بھائی کے لیے اپنے آپ کو ادھوری کر رہی ہوں۔ اور آپریشن کے دوران میں مر بھی سکتی ہو۔ میری زندگی اور موت کا سوال ہے۔ ساری زندگی میں ایک گردے کے ساتھ رسک میں رہوں گی۔

پھر تم کیا جانو۔۔۔۔۔ شہر میں رہنے والوں کی آسودگی۔۔۔۔۔ اور دیہاتوں میں رہنے والوں کی محرومیاں اگر میں چند دن اپنی مرضی کے جینا چاہتی ہوں۔ اور مجھے خدا نے وسیلہ بھی دے دیا ہے۔ آخر تم لوگوں کے پاس اتنا ہے۔ تو تب ہی ابھی تک کتنے ڈونرز کو رقم دے چکے ہو۔ میں تو اپنی ضرورت کا ڈول بھرنے کیلئے اپنا گردہ بیچ رہی ہوں تا کہ اپنا گھر گھرستی بچا سکوں۔‘‘ سہیل نے چند لمحوں اس عورت کو دیکھا۔ جس نے چند دنوں سے ان دونوں کو ادھ موا کر دیا تھا۔ کبھی مجھے فیصل مسجد کی سیر کروادو۔Ik Lamha Mein Muqeed Zindagi

کبھی شکر پڑیاں۔ کبھی پیر سو ہاوہ۔ سید پور گاؤں اور مری تو اتنی دفعہ لے کر گئی تھی کہ ان لوگوں کو مری کے نام سے ہی ابکائیاں آنے لگتی تھیں۔ ہمت والی اتنی تھی کہ ٹشو میچ کی اذیت ۔۔۔۔۔بار بار خون ٹیسٹ کیلئے دینے کےبعد وہ ویسے ہی تروتازہ نظر آتی۔ آخر کس مٹی کی بنی ہوئی ہے یہ عورت۔ اس نے کیسے اس کا ذہن پڑھ لیا ہو۔ اور کہنے لگی جب آپ سب کچھ کسی اور کیلئے کر لو۔ تو دین کا یہ جزبہ بڑی سرشاری،طمنایت بخشتا ہے۔ میں یہ سب اپنا گھر بچانے کیلئے کر رہی ہوں۔ زبیر نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔’’تمہیں ڈر نہیں لگتا۔‘‘اس نے جزباتی قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ،’’ڈر ہم عورتوں سے ڈرتا ہے۔

دردزہ کو صرف عورت ہی برداشت کرتی ہے۔ یہ درد پہاڑ کو سہنا پڑے تو وہ دو ٹکڑے ہو جائے۔ پھر بچہ ضائع ہونے کے چھوٹے چھوٹے آپریشن۔ ڈلیوری کیلئے آپریشن یہ ہم عورتیں ہی تو برداشت کرتی ہیں۔‘‘سہیل اور زبیر اس عورت سے بری طرح شاکی ہونے کے باوجود اس سے بے حد متاثر بھی تھے۔ جب ڈاکٹر نے کڈنی ٹرانسپلانٹ کا کہا۔ رضوان کے والدین نے پہلے اپنے گھر اور پھر رشتہ داروں سے پوچھا، کچھ لوگ تو سنتے ہی بھاگ گئے۔ انہوں نے کبھی خون کا عطیہ نہیں دیا تھا۔ پھر وہ کیسے گردہ دے کر ادھوری زندگی بسر کرتے۔

ایسے وقت میں بڑوں بڑوں کا پانی پِتہ ہو جاتا ہے۔ پھر عورت کتنی بہادر ہے۔ جس نے صرف عورت کا قرضہ اتارنے کیلئے اپنے آپ کو پیش کر دیا، جب یہی بات زبیر نے اس عورت سے پوچھی تو وہ کہنے لگی۔’’میں نے خود ہی انہیں منع کر دیا۔ انہوں نے باہر نکل کر روزی روٹی کمانی ہے۔ جانے کب پھر کہیں باہر جانا پڑ جائے۔ مزدوری کرنی پڑے ۔ تو آپریشن کے بعد کی محتاط زندگی یہ کیسے گزر سکتے ہیں۔ میں تو گھر میں ہی ہوتی ہوں۔ میں اپنی خوراک ، ادویات اور پانی کی inktakeکا دھیان رکھ سکتی ہوں۔‘‘کبھی کبھی زبیر اور سہیل اس عام سی شکل و صورت کی لڑکی کو دنیا کی خود غرض اور ظالم عورت سمجھتے۔

اور دوسرے ہی لمحے وہ عظمت کے بلند مقام پر کھڑی نظر آتی۔۔۔۔جہاں فرشتوں کے پر بھی جلتے ہیں۔ رضوان نے اپنے دفتر چھٹی کیلئے جب نئی درخواست لکھی تو دفتر والوں نے اسے کمال مہربانی سے علاج کے چیک کے ساتھ یہ بھی لکھا کہ آپ صرف چھ مہینے تک دفتر کے’’پے رول‘‘ پر رہ سکتے ہیں اور آج وہ تین مہینے گزارنے کے بعد اگلے تین مہینوں کی درخواست کیلئے لکھتے ہوئے سوچ رہا تھا۔ اب یہ میری آخری درخواست ہے۔ اس کے بعد اور یہ ادھورا جملہ چھوڑتے ہوئے اسے خیال آیا۔Ik Lamha Mein Muqeed Zindagi

زندگی بھی تو ایڈ ہاک پہ گزر رہی ہے۔ ہر ڈائیلیسس کی اذیت سہنے کے بعد وہ یہ ہی سوچتا ہے۔ کہ جانے کتنے اور دن۔۔۔۔۔ ڈاکٹرز نے جب ایک چھوٹے آپریشن کے بعد بازو میں پلاسٹک کی نالی لگائی ، تو آپس میں بات کرتے ہوئے، وہ کہہ رہے تھے’’بار بار سوئیاں لگانے سے ان کی وین ریپچر ہو گئی ہیں۔ اب یہ نالی کافی عرصہ پر ابلم نہیں ہونے دے گی۔‘‘رضوان سوچ رہا تھا۔’’تو کیا قبر میں یہ نالی بھی میرے ساتھ۔  اس سے آگے وہ نہ سوچ سکا۔ اس کی خوبصورت بیوی صائمہ سامنے کھڑی اسے زندہ رہنے کی ہمت بندھاتی نظر آئی۔

جانے وہ کون سا خوبصورت اور خوش قسمت لمحہ تھا۔ جب عدنان نے صائمہ کو اپنے لیے پسند کیا تھا۔ صائمہ جس پر پورا کالج مرتا تھا۔ اور اس کی وجہ سے طالب علموں میں دوستی اور دشمنی کے پیمانے طے ہوا کرتے تھے۔ اسے جب عدنان نے مسخر کر لیا ، تو کالج میں کچھ دنوں بھونچال کے بعد حالات نارمل ہوتے چلے گئے۔ منگنی پر تمام دوست آئے۔ اور شادی پر جو کبھی صائمہ کو اپنا بنانے کا اعلان کیا کرتے تھے۔ آج بارات کے آگے ناچتے ہوئے، دوست کی خوشیوں میں شریک تھے۔

دو بچوں کے بعد بھی صائمہ اتنی ہی خوبصورت تھی۔ اور پھر جب اس بیماری نے گھر میں ڈیرے ڈالے تو صائمہ نے خدمت کے ساتھ ساتھ اس کا حوصلہ بڑھانے کیلئے بھی اپنا آپ وقف کر دیا۔ رضوان کی دوا، غذا کا وہ خاص خیال رکھتی ۔ بچوں کو سکول لے جانا۔ رضوان کی ڈائیلیسس کیلئے اس کے ساتھ جانا اور جب رضوان پیاس کے ہاتھوں تڑپنے لگا، تو اسے پانی پینے سے باز رکھنے کیلئے وہ رضوان کی ڈانٹ ڈپٹ برداشت کرتی۔ رضوان ڈائیلیسس مشین کے پاس لیٹا ہوا تھا۔ اپنے جسم سے نکلتے خو ن کو دیکھ رہا تھا۔Ik Lamha Mein Muqeed Zindagi

عام وجود سے خون نچوڑنے کے بعد اسے صاف کر کے دوبارہ جسم میں داخل کیا جا رہا تھا وہ سوچ رہا تھا’’یہ اذیت ناک لمحے کب ختم ہوں گے۔‘‘ کب تک وہ یوں اپنے خون اور جسم کی آلودگی دور کرنے کیلئے مشینوں کا محتاج رہے گا۔ صائمہ نے پیار سے ہاتھ تھامتے ہوئے پوچھا۔ کیا سوچ رہے ہو۔‘‘’’میں کب تک ان اذیت ناک لمحوں کو سہتا رہوں گا۔ کہیں میری ہمت ہی نہ ٹوٹ جائےصائمہ نے آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو بہت اندر جزب کیا اور اپنی ہمت ناتواں سے بچی کھچی توانائی کو یکجا کیا۔

صائمہ نے اپنا ہاتھ اس کے منہ پر رکھتے ہوئے کہا ، مایوس نہیں ہوتے۔۔۔۔۔ ابھی دونوں باتیں کر ہی رہیں تھے کہ ڈاکٹر ندیم مسکراتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔’’ہاں بھئی! ہفتے کو صبح چھ بجے تمہارا آپریشن ہے۔ اور ہاں دھیان رکھنا۔ تمہاری ڈونر کہیں غائب ہی نہ ہو جائے ۔‘‘صائمہ نے زبردستی کی مسکراہٹ طاری کرتے ہوئے کہا، ’’ڈاکٹر صاحب فکر نہ کیجئے۔ ہم نے خاتون کو فائیو سٹار ہوٹل میں مقیّد کیا ہوا ہے اور چہل قدمی کیلئے ہر وقت ایک گاڑی اور دو گارڈ تعینات رہتے ہیں۔ جہاں اس کی خواہش پوری کرنے کیلئے چراغ کا جن موجود رہتا ہے۔

آپریشن کی رات رضوان ،صائمہ ، سہیل زبیرکے ساتھ وہ خاتون روزینہ اور اس کا شوہر دونوں رات بھر جاگتے رہتے ۔ ہر شخص اپنے لمحہ میں موجود اپنے اپنے خوف اور اپنی اپنی خواہشات کیلئے جاگتا رہا۔ ڈاکٹرز نے رضوان کے بازو سے پلاسٹک کی نالی نکال دی۔ رضوان کے گھر والے مبارکبادیں وصول کر رہے تھے۔ گاڑی میں بیٹھے ہوئے اس نے گلو کیر آواز میں کہا۔ اگر میں نے تنگ کیا ہو تو معاف کر دیجئے گا۔ در اصل سیر کی ہانڈی میں جب سوا سیر پڑ گیا۔ تو چھلکنا لازمی تھا ناں ۔۔۔۔۔ گاڑی دور جا رہی تھی اور زبیر سوچ رہا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *