Himmat-E-Mardan Madad-E-khuda By Naeem Hanif

      No Comments on Himmat-E-Mardan Madad-E-khuda By Naeem Hanif
Himmat-E-Mardan Madad-E-khuda

بہت عرصہ پہلے کی بات ہے کہ میرا میرپور جانے کا اتفاق ہوا۔ میرپور پہنچ کر اپنا کام ختم کر کے بن خرما کی طرف اپنا رخت سفر باندھنے کے لئے رکشہ کا انتظار کرنے لگا۔ کچھ رکشوں کو روکنے کی ناکام کوشش کی کیونکہ اُن رکشوں میں پہلے سے ہی سواریاں بیٹھی ہوئیں تھیں۔ اللہ اللہ کر کے ایک رکشہ ڈرائیور کو ترس آ گیا۔

Himmat-E-Mardan Madad-E-khuda
اتفاق سے بندے زیادہ ہونے کی وجہ سے مجھے ڈرائیور کے ساتھ بیٹھنا پڑا۔ کچھ دیر گزرنے کے بعد میں نے ڈرائیور کے ساتھ گفت و شنید شروع کر دی۔ اسی دوران میں نے اندازہ لگایا کہ ڈرائیور ہر کام اپنے ہاتھوں سے کر رہا ہے۔ مثلاً ریس دینا گئیر تبدیل کرنا اور بریک لگانا۔ میرے استفسار پر ڈرائیور نے بتایا کہ میں معزور انسان ہوں اس لئے دیسی طریقہ سے رکشہ تیار کرایا ہوا ہے تاکہ مجھ کو پاؤں کی اور ٹانگوں کی ضرورت نہ پڑھے۔

Himmat-E-Mardan Madad-E-khuda
اُس کی باتیں سُن کے میرے تخیل کے گھوڑے نے ایک لمبی دوڑ لگا دی۔ قریب 5سال پہلے کی بات ہے کہ مجھےاپنی مسجد میں رمضان المبارک میں آخری عشرہ میں اعتکاف کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ ہمارے ساتھ گوڑہ کے ایک درویش صفت بزرگ صوفی احمد دین صاحب اعتکاف کی نیت سے مسجد میں آئے۔ صوفی صاحب کی عمر اس وقت بقول صوفی صاحب کے 105 سال سے زیادہ تھی(یاد رہے کہ صوفی صاحب ابھی بھی حیات ہیں۔اللہ پاک اُن کو صحت عطا فرمائیں آمین)۔

رات نماز تراویح کے وقت میں میں صوفی صاحب کے ساتھ کھڑا ہوا اور مجھے سخت حیرت ہوئی کہ صوفی صاحب نے تمام رکعتیں  (بشمول تراویح و نماز عشاء) کھڑے ہو کر ادا کیں۔ میں نے پوچھا صوفی صاحب یہ کیا آپ نے ساری نماز کھڑے ہو کر پڑھی ہے کیا آپ کو تھکاوٹ محسوس نہیں ہوتی۔ تو صوفی صاحب نے بڑا ایمان افروز جواب دیا کہ بیٹا اللہ نے اگر صحت دی ہے تو بیٹھ کے نماز پڑھنے سے اس کی نا شکری ہوتی ہے۔

Himmat-E-Mardan Madad-E-khuda
صوفی صاحب کا جواب سُن کے میں کافی دیر تک سوچتا رہا کہ یہ لوگ ہیں جو صیح معنوں میں اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں اور ہم نے تو ناشکری کے تمام ریکارڈ توڑ رکھے ہیں۔ جب رکشے کے ڈرائیور سے پوچھا تو اُس کے چہرےپر نا شکری کے آثار کے بجائے ہمت کے آثار نظر آ رہے تھے اورمجھے اُس پر ترس کے بجائے رشک آ رہا تھا۔

اور وہ اپنی معزوی پر بجائے اللہ سے شکوہ کرنے کے اُس پاک زات کا شکر ادا کر رہا تھا۔ دعا ہے کے اللہ ہم شکر ادا کرنے کی ہمت عطا کرے آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *