Hijab Abbasi Introduction

      No Comments on Hijab Abbasi Introduction
حجاب عباسی غزل

محترمہ حجاب عباسی صاحبہ کا اجمالی تعارف

حجاب عباسی معروف شاعر ،ڈراما نگار اور سینیئر براڈ کاسٹر محترم شعیب حزیں مرحوم کی صاحبزادی ہیں جن کی کتاب’تاریخِ اسلام‘۵۰ء کی دہائی میں ایف اے کے نصا ب میں شامل رہی ہے۔ حجاب عباسی نے تعلیم کے مدارج بالترتیب کراچی اور کوئٹہ میں مکمل کیے ۔

بی اے کوئٹہ سے کیا بعد ازاں کوئٹہ ریڈیو پر ایک عرصے تک اناؤنسمنٹ کی اور ساتھ ہی کوئٹہ ٹیلیویژن پر نیوز کمنٹری اور ڈاکو مینٹر یز پڑھتی رہیں۔اُنہیں دِنوں گورنمنٹ سروس میں آ گئیں اور بلوچستان کی ایک خاتون منسٹر کی پی اے کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھائیں۔محکمہ سوشل ویلفیئر کے تحت چلنے والت ذہنی و جسمانی معذور بچوں کے ادارے شمع میں بحیثیت آفیسر کام کیا جہاں اچھی کاردگردگی کی بنیاد پر جاپان کی ٹریننگ کیلئے نامزد کی گئیں

تاہم اپنی بہن کی حادثاتی موت کی وجہ سے جاپان نہ جا سکیں ۔گھریلو ذمہ داریاں بڑھ جانے کی وجہ سے ملازمت کو خیر باد کہا۔گزشتہ کئی برسوں سے کراچی میں رہائش پزیر ہیں۔حجاب عباسی کا رجحان ابتدائی سے فنونِ لطیفہ کے مختلف شعبوں سے رہا ہے۔

حجاب عباسی غزل
آٹھ سال کی عمر میں کوئٹہ ریڈیو سے نشر ہونے والے پہلے ڈرامے ’رازِ درونِ پردہ‘میں ایک کشمیری بچی کا کردار ادا کیا یوں اُنہیں کوئٹہ ریڈیو کی پہلی نونہال آرٹسٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔اس کے بعد 12 سال کی عمر تک ریڈیو کے کم و بیش 100 ڈراموں اور فیچرز میں حصہ لیا ۔کہانیاں لکھنے کا بھی شوق تھا لہذا ریڈیو پاکستان کراچی سے رات 8 بجے کی خبروں کے بعد نشر ہونے والے مشہور پروگرام ’آؤ بچوں کہانی سنو‘کے لیے اَن گنت کہانیاں لکھیں ۔

ریڈیو کے ساتھ ساتھ ٹیلی ویژن کے لئے ڈراما نگاری بھی کرتی رہیں۔گزشتہ برس 10 مئی کو’مدرز ڈے ‘کے موقع پر اُن کا ڈراما ’بات ہے رسوائی کی ‘ٹیلی کاسٹ کیا گیا تھا ۔ٹی وی چینلز کے لیے ڈراما نگاری کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔کہانیوں اور ڈراموں کے ساتھ ساتھ افسانہ نگاری بھی کی ۔روزنامہ مشرق ،کوئٹہ کے زیرِ اہتمام نوجوانوں کے افسانوں کے مقابلے میں حجاب عباسی کے افسانے ’نغمہ‘کو اول انعام سے سرفراز کیا گیا،

متعدد انعامات اور تعریفی اسناد حاصل کیں۔افسانے ،مضامین اور کتابوں پرتجزیے ادبی رسائل میں تواتر سے شائع ہو رہے ہیں تاہم شاعری کے مقابلے میں افسانہ نگاری کی طرف رغبت کم رہی یہی وجہ ہے کہ ادبی منظر میں اُ ن کی شناخت بحیثیت شاعرہ زیادہ ہے،قارئینِ ادب بہت جلد اُن کے مجموعہ افسانہ سے مستفید ہوں گے ۔

حجاب عباسی کی بنیادی شناخت شاعری ہے ۔اُنہوں نے پہلی غزل 13 سال کی عمرمیں کہی جو بعد ازاں روزنامہ جنگ،کوئٹہ کے ادبی صفحے پرشائع ہوئی1983ء میں کل پاکستان مشاعرہ ،سبی میلہ میں پاکستان کے نامی گرامی اور بزرگ شعراء کے ساتھ کلام پڑھنے کا موقع ملا۔

پہلا شعری مجموعہ ’تجدیدہجر ‘کے نام سے 2007ء میں شائع ہوا جسے ادبی حلقوں میں زبردست پزیرائی حاصل رہی ۔دوسرا مجموعہ کلام’تحیرِہجر شائع ہو چکا ہےمحترمہ حجاب عباسی صاحبہ کا اجمالی تعارف اورانکے کے خوبصورت میں ایک غزل قارئین کرام کرام کے لئے پیش خدمت ہے

حجاب عباسی غزل

غزل

سارے گلے رکھے ہیں اُس نے کتاب کر کے

سارے گلے رکھے ہیں اُس نے کتاب کر کے
اب کیا سخن لکھیں ہم اُس کو جواب کر کے
ہم پر ہی قرض اُس کی دلداریاں نہیں ہیں
بیٹھے ہیں فرقتوں کا ہم بھی حساب کر کے
وہ جا چکا ہے پھر بھی خوشبو سی ہر طرف ہے
گزرا ہے وصل موسم دل کو گلاب کر کے

حجاب عباسی غزل

یہ کیا کہ تم بھلا دو ہم کو نہ کچھ سمجھ کر
ہم تم کو پوچھتے ہیں عالی جناب کر کے
اِک دردِ لا دوا کو پہلو میں سینت رکھا
اِک شکل کو رکھا ہے آنکھوں میں خواب کر کے
تم فردِ زندگی میں قائل حساب کے ہو
چاہا تھا ہم نے رکھنا چاہت نصاب کر کے
اب بھی ہے وقت سن لو پھر ڈھونڈتے پھرو گے
اِک شاعرہ یہاں تھی وہ جو حجابؔ کر کے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *