حمیدہؔ شاہین صاحبہ کے خوبصورت کلام میں سے منتخب اشعار

حمیدہؔ شاہین صاحبہ کے خوبصورت کلام میں سے منتخب اشعار

انتخاب: ارشد محمود ارشد

ﻣﯿﺮﮮ ﻧﺎﺧﻦ ﮐﺴﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﭨﻮﭨﮯ
ﯾﮧ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺧﻼﺻﮧ ﮨﮯ، ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺗُﻮ ﮨﮯ

کبھی تو بول مِرے ساتھ روشنی کی زباں
میں طاقِ ہجر ہوں ، مجھ میں کوئی چراغ جلا

تختے نے پہچان لیا ہو گا
تم پیڑوں پر تیر چلاتے تھے

آدھے جب سولی پر لائے گئے
باقی آدھے ڈھول بجاتے تھے

دنیا تیرے مطلب کی ہے ، تُو دنیا کے مطلب کا
اور دونوں کے پاس نہیں ہے کچھ بھی میرے مطلب کا

اصلی بات پہ کیا پھل آتا ہا ہا کار کے موسم میں
سب نے باغ لگا رکھا ہے اپنے اپنے مطلب کا

وہ کیسری جو مری اوڑھنی پہ کھل نہ سکا،
اب اپنا بیج کہیں اور بو رہا ہو گا

شجرِ خامشی آنگن میں کھڑا رہنے دے
میرے سر پر میرا کوئی تو بڑا رہنے دے

یہ مِرا وعدہ کہ بنجر نہیں ہونے دوں گی
اپنی مٹّی میں مِرا پاؤں گڑا رہنے دے

میں تِرے گھر میں لگایا گیا پتھر ہی سہی
اب مجھے طاقِ زیاں میں ہی جَڑا رہنے دے

ہم نے جب سے اک دوجے کو پہنا ہے
شہر میں ہے مشہور ہماری خوش پوشی

اب کوئی پہچان کہاں درویشی کی
رنگ برنگے آ بیٹھے ہیں سادوں میں

جگہ دے دو ذرا سی دیکھنے کو
مِری آنکھیں ہیں پیاسی دیکھنے کو

کسی نے کچھ نہیں دیکھا ابھی تک
لگی ہے بھیڑ خاصی دیکھنے کو

گھر نے وہ دن بھی دیکھ رکھے ہیں
کچھ نہیں تھا مرے سوا گھر میں

ہاتھ میں کاسہ ، کلائی میں کڑا سجتا ہے
در بڑا ہو تو سوالی بھی کھڑا سجتا ہے

یہ صفِ دل زدگاں ہے تجھے احساس رہے
تُو یہاں صرف مِرے ساتھ کھڑا سجتا ہے

جس طرف سے بھی ملاوٹ کی رسد ہے رد ہے
ایک رتّی بھی اگر خواہشِ بد ہے، رد ہے

جب چڑھائی پہ مِرا ہاتھ نہ تھاما تونے
اب یہ چوٹی پہ جو بے فیض مدد ہے ، رد ہے

دستر خواب سجانا تھا اور چیزیں تھیں کم یاب
ایک پلیٹ میں دنیا کاٹی، دوجی میں کچھ خواب

حمیدہؔ شاہین

حمیدہؔ شاہین صاحبہ کے خوبصورت کلام میں سے منتخب اشعار

ذرا سا شر تھا اگر خیر سے نکل جاتا
تعلقات کا مفہوم ہی بدل جاتا

کوئی میری آب و ہوا میں رہتا تو جانتا
کہ یونہی تو برف نہیں جمی مِرے چار سُو

سڑک کنارے کھڑے درختوں سے پوچھتی ہوں
کوئی گزرتا بھی ہے کہ بس عادتاً ہرے ہو

تو نے دیوار سے لگایا تھا
دیکھ ! بستر سے جا لگے ہم تو

کرتی ہے کم ذات چھنن چھن
پاؤں میں ہے اک مات چھنن چھن

چرخے میں گھنگرو بندھوا لے
اپنے آپ کو کات چھنن چھن

اپنے کمرے میں اتنا ٹہلنا پڑا
زندگی بھر نہ پیروں کے چھالے گئے

کئی نسلوں میں دیتا ہے دکھائی
ہے ایسی چیز ماؤں کا سلیقہ

بتا دیا ہے تجھے، یہ سماں نہیں ہونا
نظر ہٹائی تو ہم نے یہاں نہیں ہونا

بے ثمر پیڑ کا جب فیصلہ کرنا چاہو
اس میں آباد پرندوں سے بھی لینا رائے

ہر سُو ہا ہا کار ہے ، کس کی سنے پکار
سمٹی اپنے پاؤں میں تار پہ چلتی نار

جھلملائی ہیں مجھے دیکھ کے آنکھیں اُس کی
روشنی سی کوئی دیوار کے اُ س پار ہوئی

حمیدہؔ شاہین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *