Hameeda Shaheen 2 line Poetry

      No Comments on Hameeda Shaheen 2 line Poetry
Hameeda Shaheen 2 line Poetry

حمیدہؔ شاہین صاحبہ کے شعری مجموعے’’دشتِ وجود‘‘ سے منتخب اشعار

انتخاب: عبداللہ نعیم رسول

ابنِ آدم پر وہ لمحے آ چکے ہیں بارہا
جتنے دن آدم نے جنّت میں گزارے، ہیچ ہیں

اپنی مٹی پر کھڑے ہونا حمیدہؔ سیکھ لو
پیر جم جائیں تو پھر سارے سہارے ہیچ ہیں

نگاہ بھر کے تری کائنات دیکھ سکوں
مرے وجود سے باہر کبھی اچھال مجھے

تھاموں گی ترے ساتھ یہ چکرائی زمیں بھی
پہلے یہ بگولے تو سمٰوٰت سے کھولوں

میں اس امید پر پھرتی ہوں حیوانوں کی بستی میں
کوئی چہرہ کبھی ان میں بھی انسانی نکل آئے

اس نے مردوں کی روایت سے بغاوت کی ہے
رنگ آنکھوں کو زیادہ دیے،آنسو کم کم

آسمانوں کی دعوت پہ لبیک کہہ کرتو دیکھیں ذرا
اپنے پنجروں کو بھی ساتھ ہی لے اڑیں،آؤ کچھ تو جئیں

میرے ہر خلیے پر تیرا حق تسلیم
اپنی ذات کو بھی میری ملکیت لکھ

تیری آنکھیں مری تقدیس کی شاہد ہیں
بابِ حسن تو لکھا،بابِ عصمت لکھ

جھلک میں اور نظارے میں فرق ہوتا ہے
مزہ کہانی کا دیتا ہے اقتباس کہاں

حال میں زندہ رہنا مشکل ہو جائے
اپنے آپ کو یاں ماضی میں مت الجھا

وہ ہے صیدِ انا،جلتا رہے گا
کہیں تنہا پڑا جلتا رہے گا

میں اپنے آپ سے نکلوں تو دیکھوں
مرے رستے ہیں کیا،منزل کدھر ہے

وہ میرے ساتھ دھیما ہو رہا ہے
مری نیچی نگاہوں کا اثر ہے

ہم دعاؤں میں بھی نہیں مخلص
چاہتے کیا ہیں،مانگتے کچھ ہیں

علم و ایمان میں تضاد رکھا
جانتے کچھ ہیں،منانتے کچھ ہیں

تو کسی اور رنگ میں جیتا
میں کسی اور دھیان میں ہارا

بتانِ حرص و ہوس ایستادہ ہیں ہر سو
یہ شہرِ زندہ دلاں ہے کہ سومنات کوئی

نہ آنسوؤں پہ تھا قابو،نہ رک سکی تھی ہنسی
وفورِ شوق میں کی اس نے یوں پذیرائی

Hameeda Shaheen 2 line Poetry

Hameeda Shaheen 2 line Poetry

دریچے کھول دیتا ہے زمانہ
ذرا سا ہو صداؤں کا طریقہ

یوں کسی کو مانتا کوئی نہیں
فن بتاتا ہے کہ یہ فن کار ہے

روشنی کا راز کھلتا ہی نہیں
ہر کرن کی منفرد تفسیر ہے

فلک نے تو مری سزا معاف کی
زمیں کے ہاتھ میں نئی صلیب ہے

ابھی مجھ میں ذرا سی زندگی ہے
ابھی موجود ہوں گہرائیوں میں

پرائی چھاؤں کا ہے کیا بھروسہ
سکوں ملتا ہے اپنے ہی شجر سے

اس کی آنکھ میں آنسو ہیں
میرا چہرہ زیرِ آب

خود رو پودوں کی مانند تمنائیں
جتنا کاٹو اور زیادہ بڑھتی ہیں

قاتل ہی جب منصف ہوں
خون بہا دیتا ہے کون

کبھی توبول مرے ساتھ روشنی کی زباں
میں طاقِ ہجر ہوں،مجھ میں کوئی چراغ جلا

سود و زیاں کا روز حساب کیا جائے
اپنوں میں کب کھلتا ہے ایسا کھاتا

شکر ہے دل کا ساتھ چھوٹ گیا
ورنہ برباد ہو گئی ہوتی

آپ کے خواب دیکھتی جاؤں
آپ کو خون میں رواں رکھوں

جان پڑتی گئی درختوں میں
طائرِخوش کلام جب چہکے

کس نے پازیب کر دیے تارے
میرے پیروں میں روشنی چھنکے

حمیدہؔ ؔ جی ! محبت حادثہ ہے
محبت میں نہیں ہوتا چناؤ

Hameeda Shaheen 2 line Poetry

Hameeda Shaheen 2 line Poetry

کاش کوئی کہے،بیچتا ہوں محبت،وفا،آگہی
میں کہوں،دام تم اپنی مرضی کے لو اور سب تول دو

پل میں آ جاتی ہے پیروں میں اونچی دستار
دھجی دھجی ہو جاتی ہے شاہانہ پوشاک

ہمیں پابندیوں سے ہے محبت
ہماری داستاں منظوم لکھنا

میری چھوٹی چھوٹی بات پکڑنے والا
اپنی ہر لغزش رکھتا ہے بھول کی مد میں

ہماری آہِ زیرِ لب حمیدہؔ چار سو گونجی
وہ دہشت ناک سنّاٹا ہوا طوفان کے پیچھے

میں اپنی چادر کے کتنے ٹکڑے کروں گی آخر
گلی گلی میری بیٹیاں ننگے سر کھڑی ہیں

Hameeda Shaheen

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *