Hamd e Bari Tala Lyrics By Mian Waqar ul Islam

Hamd e Bari Tala Lyrics By Mian Waqar ul Islam

حمد باری تعالی پیش خدمت ہیں

پھیلا ہوا ہے چار سُو یہ رَب کا نور ہے
میں کیا ہوں مجھ کو کس لئیے خود پر غرور ہے

مجھ بے خبر کو آج تک اپنی خبر نہیں
میرے لہو میں دوڑتا رَب کا شعور ہے

حیراں ہے عقل اُس کی عطاﺅں پہ ہر گھڑی
یوں نعمتوں میں بھر دیا رَب نے سرور ہے

رُوشن کتاب خیر و بقاءکی نوید ہے
بے علم اِس کی رحمتوں سے کتنا دور ہے

بدکار ، گناہگار پہ اپنا فضل کیا
توبہ کے در پہ ہوں کھڑا کہ وہ غفور ہے

شاعر: میاں وقارالاسلام

حمد باری تعالی

Hamd e Bari Tala Lyrics By Mian Waqar ul Islam

یا اللہ رحیم تو ہی ہے

یا اللہ رحیم تو ہی ہے
یا اللہ کریم تو ہی ہے

تیری شان جل جلالٰہ ھو
یا اللہ عظیم تو ہی ہے

میں جب بھی مشکل میں پڑا
ملا تو ہی مشکل کشا

تیرے ہاتھ میں سب شفاعتیں
یا اللہ حکیم تو ہی ہے

تو ہی نگہباں میرے خدا
تو ہی پاسباں میرے خدا

کیا ڈھونڈوں میں تیرے سوا
کوئی راستہ کو د َر کھلا

میری چاہتیں ہیں بِلا وجہ
یہ مسافتیں ہیں بِلا وجہ
جن راستے ہوں چل پڑا
وہ منزلیں ہیں بِلا وجہ

یا اللہ رحیم تو ہی ہے
یا اللہ کریم تو ہی ہے

تیری شان جل جلالٰہ ھو
یا اللہ عظیم تو ہی ہے

شاعر: میاں وقارالاسلام

حمد باری تعالی

Hamd e Bari Tala Lyrics By Mian Waqar ul Islam

زباں ذکرِ الہی سے کبھی خالی نہیں ہوتی
ہوں جیسے بھی مرے حالات بدحالی نہیں ہوتی

یہاں زندہ دلوں پر ہی تو خوشیاں راج کرتی ہیں
اگر چھائی ہو مایوسی تو خوشحالی نہیں ہوتی

کبھی مردہ دلوں کی حسرتیں پوری نہیں ہوتیں
مگر ایمانِ کامل سے بداعمالی نہیں ہوتی

اگر منزل ہی باطل ہو ڈگر سیدھی نہیں ہوتی
مسافت راہِ حق پر ہو تو پامالی نہیں ہوتی

یہاں نظرِ جہاں دیدہ بہت مسرور ہوتی ہے
بدل ڈالے اگر دل سمت ہریالی نہیں ہوتی

شاعر: میاں وقارالاسلام

حمد باری تعالی

Hamd e Bari Tala Lyrics By Mian Waqar ul Islam

بھولا نہیں تجھے میں بس یہ بتا رہا ہوں
میں دل جلا نہیں ہوں میں دل جلا رہا ہوں

ہارا میں خود سے جب بھی تو سر جھکا دیا ہے
میں آسرے پہ اپنے بے آسرا رہا ہوں

آخر تڑپ اٹھی ہیں پُر سوز میری شامیں
میں رت جگوں کو اپنے کب سے جگا رہا ہوں

اندھے ہوئے ہیں رستے سب میرے ہی عمل سے
توبہ کی بجھتی شمعیں کب سے جلا رہا ہوں

برسا الہی پھر سے! وہ رحمتوں کے بادل
اشکوں کو اپنے یارب کب سے بہا رہا ہوں

شاعر: میاں وقارالاسلام

حمد باری تعالی

Hamd e Bari Tala Lyrics By Mian Waqar ul Islam

شاید عمل یہ میرا پسندیدہ نہیں ہے
مایوسیوں سے آنکھ یہ نم دیدہ نہیں ہے

میں کیسے بڑھوں آگے نظر کچھ نہیں آتا
اندھی ہے عقل کیونکہ جہاں دیدہ نہیں ہے

نظریں چرا کے یاں سے چاہوں گا میں گزرنا
رب سے یہ جانو کچھ بھی تو پوشیدہ نہیں ہے

عاصی نے بھی اپنے پر ہیں ظلم بہت ڈھائے
اور اپنے کیے پر بھی رنجیدہ نہیں ہے

توبہ تو کر لی ڈر کر رب سے وقار تو نے
لگتا ہے تیرا دل تو سنجیدہ نہیں ہے

شاعر: میاں وقارالاسلام

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *