نامور شاعر، نغمہ نگار، فلمساز حضرت حمایت علی شاعر خالق_حقیقی سے جاملے انا للہ و انا الیہ راجعون

hamayat

مجلس_فروغ_ اردو ادب، دوحہ۔قطر کا تعزیتی اجلاس

حمایت صاحب کے وصال سے اردوادب میں جو خلا پیدا ہوا ہے اس کا پر ہونا ممکن نہیں۔ہم ایک بڑے تخلیق کار سے محروم ہوگئے ہیں۔چیئرمین مجلس جناب محمد عتیق

حضرت حمایت علی شاعر 14/جولائی1926ء میں اورنگ آباد، بھارت میں ایک فوجی خاندان میں پیدا ہوئے۔
1950ء کے اوائل میں وہ کراچی میں آکر ریڈیو پاکستان کا حصہ بنے۔ ریڈیو میں مختلف ذمے داریاں انجام دینے کے ساتھ ساتھ 60ء کی دہائی میں انھوں نے پاکستان کی فلمی دنیا میں بطور گیت کار قدم رکھا اوربہت سے خوب صورت گیت لکھے۔
حمایت علی شاعر کے کئی ادبی و تحقیقی کارنامے ہیں جن میں سے ایک اردو ادب میں غزل کے آغاز سے لے کر عصرحاضر تک غزل کے بدلتے اسلوب ، رجحانات اور روایات کے ساتھ ساتھ شعرائے کرام کے انداز پر بھی تفصیلی روشنی ڈالنا بھی شامل ہے۔
آپ نے جدید اردو شاعری میں ’’ثلاثی‘‘ کے فن کو ایجاد کیا۔آپ نے پی ایچ ڈی کے سلسلے میں اپنا مقالہ ’’ پاکستان میں اردو ڈراما‘‘ ، سندھ یونیورسٹی (حیدر آباد ) سے جمع کروایا۔نہایت عالم فاضل شاعر۔آپ کے ڈراموں کا مجموعہ ’’ فاصلے‘‘ کے عنوان سے طبع ہوا۔آپ کی ایک اور تصنیف ’’شکست کی آواز‘‘ میں منظوم ڈرامے شام ہیں ۔حمایت علی شاعر سندھ یونیورسٹی میں درس و تدریس سے وابستہ رہے اور رٹائرمنٹ کے بعد ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہو گئے ۔
1950ء میں آپ کا شعری مجموعہ ’’گھن گھرج‘‘ بھارت سے شایع ہوا ۔آپ ۹ ؍ عدد شعری مجموعوں کے خالق ہیں ،ا ن میں سے واحد گیتوؓ کا مجموعہ ’’سرگم‘‘ ہے۔دیگر مجموعوں میں ’’آگ میں پھول‘‘ ، ’’ مٹی کا قرض ‘‘ ،’’تشنگی کا سفر ‘‘ اور ’’ہارون کی آواز‘‘ شامل ہیں ۔حمایت علی شاعر نے اردو کے مختلف شعرأکا انتخاب ’’دودِ چراغِ محفل‘‘ کے عنوان سے شایع کیا ۔شیخ ایاز کے بارے میں ایک جامع تحقیق’’شیخ ایاز‘‘ کے عنوان سے کی جو اسی عنوان سے شایع ہوئی ۔1979ء میں آپ کی دوسری تحقیق ’’ اردو نعتیہ شاعری کے ۷۰۰ سال‘‘ ہندُستان سے شایع ہوئی ۔ ’’برزخ‘‘ آپ کے نثری ڈراموں پر مبنی کتاب کا نام ہے ۔شعر و شاعری کے علاوہ آپ صحافت ، ادارت ۔تدریس ، فلم سازی ،ہدایت کاری اور نغمہ نگاری سے بھی منسلک رہے۔

hamayat-ali-shair

آپ نے حیدر آباد سندھ میں دو اخباروں میں بھی ملازمت کی جن کے نام ’’جناح‘‘ اور ’’ منزل‘‘ تھے۔ساتھ ہی آپ نے حیدر آباد سندھ میں ’’ارژنگ‘‘ کے نام سے ایک ثقافتی ادارہ بھی قائم کیا تھا۔حمایت علی شاعر نے دو فلمیں ’’نوری‘‘ اور ’’گڑیا‘‘ بھی بنائیں اور فلم ’’آنچل‘‘ اور ’’دامن‘‘ کے لیے نغمہ نگاری پر آپ کو ’’نگار ایوارڈز‘‘ بھی دیے گئے۔
2002ء میں حکومت ِ پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس دیا گیا۔
آج بعمر 93 برس 16 جولائی 2019ء کو کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں بعارضہ قلب رحلت فرما گئے، جہاں اپنے بیٹے بلند اقبال کے پاس مقیم تھے، ان کی وفات کی تصدیق ان کے فرزند ڈاکٹر اوج کمال نے کی جو کراچی میں مقیم ہیں، ان کی تدفین ٹورنٹو میں ہوئی۔
حمایت شاعر مجلس_فروغ_اردوادب، دوحہ۔قطر کی دعوت پر مجلس کی سالانہ تقریبات میں دو بار تشریف لائے ۔چیئرمین مجلس جناب محمد عتیق کی صدارت میں ان کا تعزیتی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی اور پس ماندگان کے لیے صبر_جمیل کی دعا کی گئی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *