Haal E Dil Ka Jawab By Muskan Qureshi

Haal E Dil Ka Jawab By Muskan Qureshi

حالِ دل کا جواب

از قلم: مسکان قریشی

آج کافی عرصہ بعد وہ دونوں اپنی پسند کی جگہ پر گھومنے آئے تو ساجد نے بانو سے مخاطب ہوتےہوئےکہاکہ تمھیں یہ جگہ بہت پسند ہے نا، بانو نے جواب دیا ہاں، ساجد نے کہا کہ مجھے بھی یہ جگہ اچھی لگتی ہے۔ لیکن میں کتنے ہی عرصہ سے تمھاری اس بات کا انتظار کر رہا تھا کہ کب تم مجھے اس جگہ آنے کا بولو۔ اورمیں تمھیں اس جگہ لے کرآجاوں۔

جواب میں بانو نے پر شکوہ انداز میں ساجد سے کہا کہ آپ اتنا عرصہ میرے کہنے کا انتظار کرتے رہے کہ کب میں بولوں اور تم مجھے یہاں لے آؤ۔ ساجد تم نے ایک باربھی میرے دل میں جھانکر نہیں دیکھا کہ میں کیا چاہتی ہوں۔ جیسے تمھارے دل میں یہ خواہش آگئی کہ میں کافی عرصہ سے تمھاری اس بات کا انتظار کررہا تھا کہ تم بولو تو میں تمھیں اس جگہ لاؤں، کیا یہی خیال میرے دل میں نہیں آیا ہوگا؟ کئی بار آیا تھا لیکن میں تمھارے منہ سے سننا چاہتی تھی کہ تم میری پسند کا خیال رکھتے ہو یا نہیں،

Haal E Dil Ka Jawab

لیکن تم نے بھول کر بھی میری پسند کا خیال نہیں کیا۔ حلانکہ مرد تو باہر ہی ہوتا ہے جب دل چاہتا ہےاورجہاں چاہتا ہےچلاجاتا ہے، لیکن عورت گھرمیں ہی رہتی ہے اور وہ باہر گھومنے پھرنے نہیں جاسکتی کیوں کہ اسے تو اپنے میاں اور بچوں کا ساتھ عزیزہوتا ہے۔ اسکے علاوہ گھر کی کئی ذمہ داریاں اسے باندھے رکھتی ہیں۔ ایسے میں اگر مرد خود سے احساس کرتے ہوئے اسے گھومانے لے جاتا ہے توعورت کی روح کو اندر تک قرار مل جاتا ہے۔

بانو اور ساجد بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ بانو کی نظر ایک جوڑے پرپڑتی ہے جو آپس میں بایتں کررہا تھا۔ کہ کوئی تم سےیہ بات کہےتوتم ایسا کہنا، اس بات کا جواب اس طرح دینا گویا وہ اپنی ہربات اپنی بیوی سے کررہاتھا۔ بانوانکی یہ باتیں سن کرساجد سے کہتی ہے، کہ تم نے تومجھ سے براہ راست اپنے دل کی بات بھی کہنا گوارہ نہیں کیا، اوراسکے لئے قلم کا سہارا لیا۔

اورہاں تم نےکتنی آسانی سےکہہ دیا کہ تم سے کوئی بات کرنا بے کار ہے جب کہ تم نے میرے دل سے ایک بار بھی نہیں پوچھا کے وہ تمھاری باتوں کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ بانو ایک لمحے کو روکی اور پھر سے بولنے لگی، کہ تم نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ تم اب نا میری دوست ہونا ہی دشمن ہو، گو کہ تمھاری نظرمیں یہ بس رسمی سا ساتھ ہے، جو تمھاری اپنی سوچ ہے۔ میں تو تمھارے بارے میں ایسا بھول کربھی نہیں سوچ سکتی اور ہاں تم نے کہا کہ تمھیں جسمانی ضرورت پوری کرنی ہوتی ہے تو تم میرے پاس آتی ہو، تو اس بات کو بھی کلیر کردوں کہ یہ خواہش مردوں پر حاوی ہوتی ہے۔

Haal E Dil Ka Jawab

تم اس عمر میں بھی ایسی خواہش پرمجھ سے شکوہ کررہے ہو، اب جب کہ تمھارے اپنے بچے کالج میں پڑھنےلگیں ہیں۔ بس چند ہی عرصہ بعد ہمارے بچوں کی شادیاں ہونے لگیں گی۔ لیکن کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ مرد کا دل ہمیشہ جوان رہتا ہے تم اب بھی خود کو جوانی کی ہواوں میں اڑتا ہوا محسوس کر رہے ہو۔ بانو ایک آہ بھرتے ہوئے مزید کہتی ہے کہ تمھارے یہ الفاظ میرے دل میں تیر کی طرح چب گئے ہیں۔ کہ تمھیں مجھ سے محبت نہیں ہے۔

جب کے تمھارے ہی الفاظ ہیں جو تم نے قلم کے سپرد کیے کہ تم میرے کھانے پینے کا، بچوں کا اورمیری ساری ذمہ داریاں بہت احسن طریقےسےنبھاتی ہو۔ ساجد اب ان ذمہ داریوں کو پورا کرنےکےلئے بھی مجھےہی جوتنا پڑتا ہے۔ تمھیں توکبھی بھولے سے بھی خیال نہیں آیا کہ میں ایک ماسی ہی رکھ دوں تاکہ اسے تھوڑا آرام کرنے کے بعد مجھ سے دو گھڑی باتیں کرنے کو مل جائے، تم نے اپنی تحریرمیں فاخرہ سے فون والی بات چھیڑی کہ میں تمھاری توجہ حاصل کرنے کے لئے اسے فون کرتا تھا۔

Haal E Dil Ka Jawab

سنو فاخرہ سے جلنے کی بات تو دل میں جب آتی کہ جب میں تمھیں ٹھکرا دیتی۔ میرے دل میں تو تمھاری محبت آج بھی روز اول کی طرح جگمارہی ہے، شک کرنا تو مرودں کا وطیرہ ہوتا ہےاگر اس کی بیوی یا محبوبہ کسی سے رسمی گفتگو ہی کر رہی ہو وہ بلاوجہ کی آگ میں جل جاتا ہے۔ کہ اس سے کیا بات کررہی تھی کیوں کررہی تھی وغیرہ، بس بعض اوقات عورتوں کومردوں سےغیررسمی گفتگو بھی کرنی پڑ جاتی ہے، تو اس ذرا سی بات پرطلاقیں ہوجاتی ہیں۔

اور خو د بڑھاپے میں بھی جوانی کی ہواوں میں اڑتا ہے۔ بانو بغیر روکے بول رہی تھی کہ تم نے کتنی آسانی سے کہہ دیا تمھیں مجھ سے محبت نہیں رہی جب کہ تم نے خود ہی اس بات کا اظہار کرلیا کہ تم میرے کھانے پینے، گھراور بچوں کا خیال اور باقی تمام ذمہ داریاں سیلقے سے نبھاتی ہوتوپھرمحبت نا ہونے کا شکوہ کیسا؟؟ تمھیں اس عمرمیں بھی اپنی بیوی کے لیمپ بجھانے کی ضرورت ہے۔

Haal E Dil Ka Jawab

سنوعورت ہر بات برداشت کرلیتی ہےلیکن یہ کبھی برداشت نہیں کرتی ہے کہ اس کی سچی محبت کو ٹھکرا دیا جائے۔ تم نے وہ بات تو سنی ہی ہوگی نا کہ عورت کان سے سن کر محبت کرتی ہے اور مرد آنکھ سے دیکھ کرکل تمھارا سنا ہوا ہر لفظ آج بھی میری آنکھوں میں رس گھولتا ہے۔ تم اپنے دل کا اظہار مجھ سے براہ راست کرتے تومجھے اچھا لگتالیکن تم نے تو کمرے میں طوطا رکھنے کی بات کردی۔

خود کو اس قابل بھی نہ سمجھا تم خود ہی مجھ سے براہ ست باتیں کرلو یہ سوچ کرکہ کیا پتہ یہ بھی میری باتیں سننے کی منتظرہو۔ شام کا سورج غروب ہونے کو تھا۔ لیکن ساجد کے دل کس سورج ابھررہا تھا اوروہ یہ سوچ رہا تھا میری محبت نے اپنا ” حالِ دل ” مجھ سے براہ راست کہا، لیکن میں نے اپنے دل کا اظہار کرنے کے لئے قلم کا سہارا لیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *