آج کی شخصیت گلِ نسرین صاحبہ

آج کی شخصیت گلِ نسرین صاحبہ

انتخاب: عثمان عاطسؔ

گلِ نسرین صاحبہ کا اصل نام نسرین اختر ہے۔ وہ ملتان میں پیدا ہوئیں۔ اوروہیں سکونت پذیر ہیں۔ انہوں ابتدائی تعلیم ملتان سے ہی حاصل کی۔ ایم ۔اے انگلش، ایم اے اردو کیا۔ اور اب ایم فل کر جاری ہے۔ درس و تدریس کے ساتھ ساتھ ذاتی بزنس کی دیکھ بھال بھی کرتی ہیں۔ انکے مشاغل سوشل ایکٹیوسٹ جنرل سیکرٹری۔ انجمن تجارت و ملازمت و زراعت پیشہ خواتین ملتان.

سابقہ ڈسٹرکٹ پریزیڈینٹ۔سوسائٹی فار ہیومن رائٹس خبریں پاکستانسابقہ ضلع ممبر بیت المال کمیٹی ملتان گورنمنٹ پاکستان سابقہ ووکیشنل ٹرینر ایجوکیشنل کالج ملتان گورنمنٹ پاکستانسابقہ انگلش ٹرانسلیٹر فار چاینیز پاک عرب ریفاینری لال پیر

ادبی مشاغل: شاعری ۔ (اردو ۔ انگلش ۔ پنجابی ۔ سرایکی )شاعری۔ نثر ۔ افسانہ ۔ کہانی  مزاح ۔ (اردو) ادبی وابستگی۔

ان کی اب تک دو کتابیں منظرِ عام پر آچکی ہیں ۔

آنکھیں خواب لکھتی ہیں شاعری 2004
ماسی نامہ نثری مزاح 2018  
(زیر اشاعت: ہم نے محبت گروی رکھ دی (شاعری

گلِ نسرین صاحبہ خوبصورت اشعار کہتی ہیں آئیے ان کا نمونۂ کلام دیکھتے ہیں

لمحہ لمحہ ان سے خوشبو آتی ہے
میں نے حمد کے جتنے لفظ بھی لکھے ہیں

میری آنکھیں پتھر ہونے والی ہیں
آخر کب تک خواب کا رستہ دیکھوں گی

زندگی کا راز ہم پر کب کھلا
جانے کیسا سلسلہ ہے زندگی

دوسروں کی ذات پر تنقید کرنا چھوڑ دو
ہو سکے تو اپنے اندر دیکھنا اور سوچنا

اُجلی اُجلی سوچیں اچھی لگتی ہیں
پھولوں جیسی باتیں اچھی لگتی ہیں

لفظ وہی جو سیدھے دل میں جا اتریں
درد میں ڈوبی غزلیں اچھی لگتی ہیں

خامشی ہی خامشی ہے ہمقدم
گنگناتی آہٹوں کے شہر میں

ہم یقیں کی سلطنت کو چھوڑ کر
کیسے رہتے وسوسوں کے شہر میں

سچ ہے اپنے ہونٹوں پر
جو ہوتا ہے ہونے دو

خالی آنکھیں کہتی ہیں
پھر خوابوں میں کھونے دو

جیون کے اس ساگر میں
قطرہ قطرہ بہنا ہے

میں نے سب کے اُوڑھے دکھ
کون سنے گا میرے دکھ

خوشیوں کی اک خواہش میں
بارش بن کر برسے دکھ

دریاؤں کو بہنے دو
نین کٹورے بھرنے دو

دل کی وادی بنجر ہے
پھول وفا کا کھلنے دو

جھوٹ کا پرچار کرتے کس طرح
پیار سے انکار کرتے کس طرح

عمر گزری راحتوں کی گود میں
غم کا دریا پار کرتے کس طرح

دیکھنی ہے زندگی کی بے بسی
زہر پی کر مسکرانا ہے ابھی

جی رہے ہو تم ابھی تک خواب میں
خواب نے تو ٹوٹ جانا ہے ابھی

گلِ نسرین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *