غلام مصطفے ضیا صاحب کا خصوصی انٹرویو

غلام مصطفے ضیا صاحب کا خصوصی انٹرویو

آن لائن اردو ڈاٹ کام کی جانب سے انٹرویو

انٹرویو: عثمان عاطس

آن لائن اردو: اگر کچھ اپنی اوائل عمری کے باری میں بتانا مناسب سمجھیں تو؟
غلام مصطفے ضیا: جی میرا جنم گاؤں سنئی کے محلہ کھیت میں گجروں کے یہاں ہوا۔ بچپن میں شرارت اس قدرعزیز تھی گویا جس سے دیکھتا ضرور ہنستا کسی کی لال داڑھی تو کسی کا بھونڈا ناک کوئی ممنون چہرہ تو کوئی پرانا میلہ کپڑا پہنے جو نظروں سے گزرا وہ مجھے کھلکھلاتا میرے اندر کے شیطان کو خوب غذا دے جاتا ابا مولوی تھے سو انکے ہمراہ کبھی جو سفر کیا وہاں بھی شرارت پیچھا نا چھوڑتی اب ایسے انسان سے انہوں بھی حیا آتی۔

آن لائن اردو: آپ کا نام اور قلمی نام ؟ نیز اس قلمی نام رکھنے کی کوئی خاص وجہ؟
غلام مصطفے ضیا: میرا نام غلام مصطفے ہے اور ضیا تخلص استعمال کرتا ہوں کوئی اور نام تو نہیں ہاں امی جان نے پیار سے بچپن میں منشی کہہ دیا۔ پھر کیا بارھویں جماعت تک تو سبھی منشی ہی کہتے تھے۔ لیکن چچا جان کے لڑکے بھی جوان ہوئے وہ بھی پڑھنے لکھنے میں مصروف تھے سو انکی وجہ سے میرا نام منشی سے غلام مصطفے یا بھیا جی ہوگیا۔ ضیا تخلص میرا انتخاب ہے مجھے بہت عزیز ہے اسی لئے اپنی بچی کا نام بھی رفعت ضیا ہی رکھا ہے ۔

آن لائن اردو: آپ نے لکھنا کب شروع کیا؟ نیزپہلی تحریر کیا تھی؟ اور آپ کی پہلی تحریرکب اور کہاں شائع ہوئی؟
غلام مصطفے ضیا: لکھنا میری سرشت میں شامل ہے میں پیدا ہی لکھنے کے لئے ہوا۔ اوائل عمری میں جب فیس بک وٹس ایپ یا دوسرا کوئی ذریعہ نہیں تھا تب تو میں اپنی کتابوں کی حالی جگہیں پرکرتا رہتا دھیرے دھیرے کاپی پرکچھ نا کچھ جو لفظ ذہن میں ہوتا بلکہ کبھی کبھار تو گھر والے کوئی آپس میں بات کرتے میں ہو بہو لکھ لیتا جس سے بعد میں خود میں بھی اور گھر کے لوگ خوب ہنسنے کے لئے پڑھتے لگ بھگ بارہویں جماعت میں پہلی بار ایک نعت لکھی تھی اور اس کے بعد تو غزل نعت لکھتا ہی رہتا۔

بدبختی کہیئے یا کوئی حادثہ کے محلے کے ایک نثواری نے میری وہ کاپی ایک بار پڑھنے کو مانگی پھر اپنی بیوی کے صندوق میں بند کردی اور جب مجھے اس کی طلب ہوئی تو جواب ملا کے بیوی کو طلاق دے چکا سو آپکی وہ کاپی اسی کے صندوق میں چلی گئی ہے۔

آن لائن اردو: آپکی کوئی تصنیف؟ برکی کتب ویب سائٹ، بلاک وغیرہ؟
غلام مصطفے ضیا: جہاں تک شائع ہونے کا سوال ہے تو ابھی تک کوئی مکمل مجموعہ شائع نہیں ہوا اور شاعری سے زیادہ میرا شوق افسانہ لکھنے کا ہے سو کئی افسانے روزنامہ اڑان میں شائع ہوچکے ہیں اس کے علاوہ عالمی اردو افسانہ فورم پر بھی جبکہ یوکے قرطاس نے میرا ایک افسانہ قیادت حال ہی میں شائع کیا ہے علاوہ ازیں تنقیدی و تحقیقی مضامین کے ساتھ ساتھ نظم لکھنے کا شوق ہے۔ جب کبھی وافر مقدار میں پیسے ہونگے تو قسط وار چھپوا دیئے جائیں ہندوستان میں اردو ادیب یہ خواہش تو بالکل نا رکھیں کہ انکی کتابوں سے وہ امیر ہونگے بلکہ جو پیسہ رکھتا ہے وہ کتاب چھپوا سکتا ہے۔ کتاب تو کوئی ہے نہیں ہاں بچے امیر ہوگئے یا مجھے خود غربت سے فرصت ملی تو کتابوں کے نام اور چھاپنے کا کام کر دیا جائے گا۔

آن لائن اردو: ان اساتذہ کا نام جن سے آپ اصلاح لیتے ہوں؟
غلام مصطفے ضیا: میں بہت بے استادہ ہوں دراصل یہ سکھانے والے مجھے خود سے کمتر لگتے ہیں اس لئے اصلاح کا سوال ہی بے معنی ہے بلکہ غزل کو میں بوسیدہ سمجھتا ہوں اور نظم میں اصلاح کی کیا ضرورت خیال فن اور الفاظ خود استاد ہوتے ہیں
آن لائن اردو: کون سی تحریر لکھنا چاہتے ہیں لیکن ابھی تک لکھ نہیں پائے؟
غلام مصطفے ضیا: میں ایک بچے کی پیدائش کے عمل سے گزرنے کو سوچتا ہوں اس سے ہو بہو لکھنا چاہتا ہوں لیکن ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ملی۔
آن لائن اردو: آپکو لکھنے کے لئے کون سا وقت، کون سی جگہ پسند ہے، اور کیوں؟
غلام مصطفے ضیا: بعض لوگ کہتے تھے انہیں پاخانے میں سوچنے کا موقع مل جاتا ہے جبکہ میں اکثرشب کے آخری حصے میں لکھتا ہوں اور چلتی ٹرین میرے لکھنے کی خواب گاہ ہے جب کبھی موقعہ ملتا ہے وہاں کاپی قلم نکال لیتا ہوں۔

آن لائن اردو: آپ ماحول بنا کر سوچ سمجھ کر لکھتے ہیں یا شاعری کی طرح خیالات کی آمد ہوتی رہتی ہے؟
غلام مصطفے ضیا: مجھے لکھتے ہوئے ماحول بنانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی کچھ جو سوچا اس سے لفظوں کا لباس پہنا دیا۔
آن لائن اردو: کیا شاعری کے لئے محبت یا غم کا ہونا ضروری ہے؟ نیز کیا آپ نے کبھی محبت کی ہے؟
غلام مصطفے ضیا: شاعری کے لئے محبت کا ہونا اتنا ضروری نہیں جتنا کہ غم اس کی روح ہے اور وہ کوئی بھی شاعر عظیم نہیں ہو سکتا جو غم سے عاری ہو۔ میں شاعروں کو بھوکا رکھنے کا قائل ہوں انہیں بند کمروں میں رکھا جائے ان سے چین آرام چھینا جائے جو لکھیں گے امرت ہوگا۔ ہاں میں نے محبت کی ہے لیکن ایک ایسے شخص سے جو مجھے جانتا ہی نہیں۔

آن لائن اردو: کوئی ایسی کتاب جو آپ چاہتے ہیوں کہ سب کو پڑھنی چاہیئے؟
غلام مصطفے ضیا: آپ کا یہ سوال واقعی ہی اہم ہے کہ کوئی کتاب بتاؤں ویسے تو اردو دان لوگ دیوان غالب کو کم از کم سو بار پڑھیں اس کے علاوہ دریدہ کی آف گرامٹالوجی جو نہیں پڑھ پایا ضرور پڑھ لئے ۔
آن لائن اردو: کن شعراء سے متاثر ہیں؟ نئے اور پرانے آپکے پسندیدہ شاعر کون سے ہیں؟
غلام مصطفے ضیا: مرزا غالب ۔جون ایلیا اور احمد ندیم قاسمی میرے پسندیدہ شاعر ہیں۔
آن لائن اردو: کسی ادبی گروہ سے وابستگی ؟ اردو ادب کی ترویح و ترقی کے لیے جو کام ہو رہا ہے کیا آپ اس سے مطمئن ہیں
غلام مصطفے ضیا: جی میں انہماک انٹرنیشنل اور افسانہ عالمی فورم کا گروپ ممبر ہوں۔

آن لائن اردو: آن لائن اردو ڈاٹ کام اردو ادب کے لئے جو کام کر رہی ہے آپکی نظر میں کیسا ہے؟
غلام مصطفے ضیا: آن لائن اردو ڈاٹ کام جس رفتار سے کسی بھی عام انسان اور ادیب تک رسائی حاصل کرنے والی سوشل سائٹ ہے میرے خیال میں یہ سائٹ اردو ادب کا مستقل اور جامع تجربہ گاہ علم و فکر ہے اکثر بڑے مضامین دیکھائی دیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *