(آج کی شخصیت نامور افسانہ نگار غلام عباس صاحب (مرحوم

(آج کی شخصیت نامور افسانہ نگار غلام عباس صاحب (مرحوم

(آج کی شخصیت نامور افسانہ نگار غلام عباس صاحب (مرحوم

غلام عباس 17 نومبر 1909ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے تھے لیکن ان کی زندگی کا بیشتر حصہ لاہور، دہلی اور کراچی میں بسر ہوا۔ ان کی پہلی کہانی کا نام بکری تھا جو انہوں نے 1922ء میں تحریر کی تھی۔ تاہم ان کا پہلا باقاعدہ افسانہ جلاوطن کو سمجھا جاتا ہے جوٹالسٹائی کے ایک افسانے سے ماخوذ تھا۔ 1928ء میں جناب غلام عباس لاہور سے شائع ہونے والے بچوں کے مشہور ماہنامے پھول سے وابستہ ہوگئے۔ اسی دوران غلام عباس صاحب کا پہلا طبع زاد افسانہ ”مجسمہ“ شائع ہوا۔ لیکن غلام عباس کی شہرت کا باقاعدہ آغاز آنندی سے ہوا جو سب سے پہلے 1939ء میں شائع ہوا تھا۔

یہی ان کے افسانوں کے پہلے مجموعے کا نام بھی تھا جو 1948ء میں شائع ہوا تھا۔ 1938ء میں غلام عباس صاحب آل انڈیا ریڈیو سے منسلک ہوگئے اور اس دوران انہوں نے ریڈیو کے رسالوں آواز اور سارنگ کی ادارت کی۔ قیام پاکستان کے بعد وہ ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوئے اور اس کے رسالے آہنگ کے مدیر مقرر ہوئے۔

آنندی کے بعد غلام عباس صاحب کی متعدد کتابیں شائع ہوئیں۔ جن میں افسانوں کے مجموعے جاڑے کی چاندنی، کن رس، زندگی نقاب چہرے، ناول گوندنی والا تکیہ، انگریزی افسانوں کے تراجم الحمرا کے افسانے، فرانسیسی ادب پارے سے ماخوذ جزیرہ سخنوراں، ناولٹ دھنک اور بچوں کے لئے نظموں کا مجموعہ چاند تارا شامل ہیں۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کی سوانح عمری فرینڈز ناٹ ماسٹرز کا اردو ترجمہ ”جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی“ بھی غلام عباس صاحب کی کاوشوں کا نتیجہ تھا۔

غلام عباس صاحب نے اپنے افسانوی مجموعوں آنندی اور جاڑے کی چاندنی پر انعامات و اعزازات بھی حاصل کئے۔ 1967ء میں انہیں حکومت پاکستان نے بھی ستارہ امتیاز سے نوازا تھا۔ جناب غلام عباس 2 نومبر 1982ء کو کراچی میں وفات پاگئے اور سوسائٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *