Ghaneemat By Dr Irshad Khan

      No Comments on Ghaneemat By Dr Irshad Khan
Ghaneemat By Dr Irshad Khan

غنیمت

ازقلم: ڈاکٹر ارشاد خان

اسلم بہت دنوں سے اپنے ابو سے نئے جوتوں کی فرمائش کررہا تھا ۔ اس کے والد جمیل ایک دفتر میں معمولی ملازم تھے۔ بینک سے قرض لے کر بڑی مشکل سے چھت میسر ہوئی تھی۔ ہر ماہ بینک کی قسط اسے مہاجن کی یاد دلاتی، فرق صرف یہ تھا کہ مہاجن گھر آکر سود سمیت اصل وصول کرتا جبکہ اسے خود جاکر بینک کی قسط ادا کرنی پڑتی ورنہ مکان کی قرقی کاخدشہ اور اس سے زیادہ اڑوس پڑوس میں جو عزت بنارکھی تھی اس کے جانے کا خوف۔

حسب سابق آج بھی تنخواہ ملی تو سب سے پہلے جدید مہاجن کا قرض،مختلف بلوں کا بوجھ اور قلیل آمدنی کے باوجود سرکار کا حصہ الگ کیا ۔ ضروریات زندگی کا تخمینہ لگانے کے بعد اپنے بیٹے کو مژدہ سنایا کہ ، ” بیٹے ! چلو شام میں تمہیں جوتے دلاتے ہیں۔

Ghaneemat By Dr Irshad Khan

اسلم کا دل بلیوں اچھلنے لگا۔ وہ جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھنے لگا کہ دوستوں کے درمیان نئے جوتے پہن کر اکڑ کر چل رہا ہے اور اس کے دوستوں کی نظر اس کے چہرے سے زیادہ اس کے جوتوں پر گڑی ہے اور گویا وہ آسمان میں اڑرہا ہے ۔ ہائے ! احساس بھی کیا چیز ہے !! پیروں سے زمین چھوڑ دیتا ہے۔

سر شام وہ اپنے ابو کے ساتھ جوتوں کی دکان میں داخل ہوا۔ دکاندار اسے مختلف جوتے دکھاتا رہا مگر اسکی نظرمیں کوئی جچتا ہی نہیں تھا۔ دیرینہ خواہش پوری ہوتو اس میں بہتری کا عنصر شامل ہو ہی جاتا ہے۔ یہی کیفیت اسلم کی تھی مگرجمیل کی مجبوری اسکا محدود بجٹ مہنگا جوتا دلانے سے معذور تھا۔ اسلم نے ایک مہنگا جوتا پسند کیا لیکن جمیل نے اسے سختی سے رد کر دیا۔

اپنی لایعنی خوابوں کی تکمیل یوں منتشر دیکھتے اسلم منہ بسورے کاؤنٹر سے لگ کر باہر سڑک پر دیکھنے لگا۔ اسکی نظریں فٹ پاتھ پر دوڑتی تھکی ماندی زندگی کی جوتیوں پر پڑیں۔ ہرقسم کے جوتے، چپل۔ سیاہ ، سرخ، زردی مائل، چاکلیٹی، قیمتی، اوسط درجے کے، نئے پرانے، کچھ ایسے تھے کہ ریٹائر ہونے کے باوجود ریٹائر نہیں ہوئے یا نہیں کئے گئے تھے۔

Ghaneemat By Dr Irshad Khan

دفعتاً ایک کار دکان کے سامنے آکر رکی۔ پچھلی سیٹ سے دو خوش جمال بچے اترے۔ آسودگی انکے چہروں سے جھلک رہی تھی۔ ڈرائیونگ سیٹ سے ایک با رعب شخصیت اتر کر بچوں کے ساتھ کاؤنٹر پر کھڑی ہوگئی۔ مہنگے جوتے آنا فاناً پیک ہوگئے۔ اسلم نے ایک عجیب بات دیکھی ۔ ۔ اسی کار کی اگلی سیٹ پر بیٹھی دس بارہ سال کی بچی بڑی حسرت و یاس سے دکان کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اسلم سے رہا نہ گیا، وہ تیز قدموں سے اس کی طرف بڑھا۔

” کیا بات ہے ، تم دکان میں نہیں آئیں ؟”

وہ اسکا منہ تکنے لگی۔ ” کیا اس دکان کے جوتے تمہیں پسند نہیں ؟” اسلم نے اگلا سوال جڑدیا۔ وہ جواب دینے کی بجائے اپنے پیروں کی طرف دیکھنے لگی ۔ اسلم نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا۔

لڑکی کے دونوں پیر گھٹنوں سے نیچے کٹے ہوئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *