Fun-E-Nasar ke Shahbaz-E-Qalam

      No Comments on Fun-E-Nasar ke Shahbaz-E-Qalam
fan-e-nasar

فنِ نثر کے شہبازِ قلم

رپورٹ: یوسف شیخ شیرازی

واٹسپ کی دنیا میں اردو ادب کے حوالے سے پہلا آن لائن نثری پروگرام دی بیسٹ اردو فکشن گروپ کے زیرِ اہتمام 14فروری بروز منگل کو پاکستانی وقت سے 7 بجے شروع ہوا۔ جس کی صدارت فرمارہے تھے جناب وقار مصطفی صاحب لاہورپاکستان سے۔ نظامت کے فریضہ کو انجام دینے کیلیے مدعو کیا گیا تھا جناب مختار تلہری صاحب کو انڈیا سے۔ اورجہاں رونقِ بزم کی خاطر مدعو کیے گئے تھے نامور قلمکار جناب ببرک کارمل جمالی صاحب تو وہیں شمعِ بزم قیصر حمید صاحب تھے۔

touseef turnal

اس بزم کو زینت بخشنے کیلیے اپنی کاوشوں کو بروئے کار لانے والے حضرات میں نعیم حنیف صاحب آزاد کشمیر سے، امین اڈیرائی صاحب لاہور پاکستان سے، جمیل ارشد صاحب ناگپور انڈیا سے ،یوسف شیخ شیرازی جونپور انڈیا سے، عبدالمقیت صاحب گجرات انڈیا سے اور وسیم عقیل شاہ ممبئی انڈیا سے تشریف فرماتھے۔

روایتِ بزرگاں کو مد نظر رکھتے ہوے جناب مختار تلہری صاحب نے جوکہ نظامت فرمارہے تھے ایک مختصر سی جامع تمہید کے بعد حمدِ باری سے آغاز محفل کیا۔

MukhtarTalhri

اول و آخر کے دو دو اشعار کہ
ذہن و قرطاس و قلم پر ہے عنایت تیری
تب رقم کرنا میسر ہوئی مدحت تیری
اور

تب کہیں حمد کے اشعار مکمل ہو پائے
میری محنت میں جو شامل ہوئی رحمت تیری

بعد ازاں یہ بات اظہرمن الشمس ہیکہ رب العالمین کے بعد گرکوئی ذات ہے تو وہ رحمۃ اللعالمین ہی کی ذات ہے جو تعریف و توصیف کے لائق ہے۔ چنانچہ مدحت سرکار کیے لئےآزاد کشمیر کے ایک معروف اورمخصوص لب و لہجے کے شاعر جنابshozaib kashir شوزیب کاشر کو دعوت دی گئی۔ جنہوں نے اپنے اشعار میں نہ صرف مدینہ کی سیر کرائی بلکہ اوجِ ثریا کا راستہ بھی بتلایا اول وآخر کے اشعار
تو سیدِ عالم ہے رفعنا لک ذکرک
پیارے تجھے کیا غم ہے رفعنالک ذکرک
اور

مداح شہِ کون و مکاں ہوں، مجھے کاشر
کیا خوف جہنم کا، رفعنالک ذکرک

بعدہ محفل کا باضابطہ آغاز کرنے کی لیے جناب نعیم حنیف صاحب کو دعوت دی گئی جنہوں نے اپنی زندگی کے ایسے واقعہ کو الفاظ جامہ پہنایا تھا جو شکرانِ نعمت کا ایک نرالا اندازرکھتا ہے۔ عام طور پر اس جہان میں ہر کوئی بے بسی کا رونا روتا ہے۔ جبکہ محترم کی تحریر کچھ اس طرح تھی اپنے ایک سفر دوران جس رکشہ میں وہ سوار اپنی منزل کی طرف رواں تھے وہ پیروں سے معذور تھا باوجود معذوری کے ڈرائوری کرنا یقیناً ایک ہمت اور شکر گزاری کی کمیاب مثال ہے۔

Qaisar hameed

بعد ازاں محفل کو آگے بڑھاتے ہوئے آواز دی گئی جناب امین اڈیرائی صاحب کوجنہوں نےاپنی تحریر کو گلدستہ کے نام کرتے ہوے ایک قابلِ رشک اور پراثر جملہ اردو ادب کے حوالے کر گئے کہ” جناب میں پھول بیچتاہوں خوشبو نہیں بعد ازاں جمیل ارشد خان صاحب نے اپنی تحریر میں زندگی کی اس ضرورت پر روشنی ڈالی جو غالبا اس طرقی یافتہ دور میں مفقود ہوتی جارہی اور وہ ہے صدائے دل یعنی ” دعا “

بعدہ یوسف شیرازی نے ایک تحریر دو کا سکہ بیس کی نوٹ میں وقت کی اہمیت اور تعلیم کی خاطر جہد مسلسل کی طرف whatsapp-17-2-2017-jpg1رہنمائی فرمائی۔ اسکے بعدعبدالمقیت صاحب نے اپنی تحریر میں کتاب سے گفتگو کرتے ہوئے ایک حقیقت سے روشناس کرایا کتاب کی نصیحت کی شکل میں کہ مجھے جگانا مت ورنہ زمانے میں انقلاب آجائیگا۔ پھروسیم عقیل شاہ نے نشان نامی افسانہ پیش کیا

اوراب دعوت دیگئی رونقِ بزم ببرک کارمل جمالی صاحب کو جن کی تحریر آخر کب تک ایسا ہوگا؟ اہالیانِ بزم پر سکوت طاری کر گئی۔ اوراسی سکوت کو توڑنے کی لیے ناظمِ بزم جناب مختار تلہری صاحب نے صدرِ محترم جناب وقار مصطفی صاحب کو دعوت دی جنہوں نے اپنے افسانے والدہ کے خیالات کے ذریعہ اس سلسلہ کو آخری کڑی سے جا ملایا۔ اور اس طرح سے واٹسپ کی دنیا کا یہ انوکھا پروگرام اپنے ساحل جا لگا۔

فن نثر کے شہبازِقلم

رپورٹ: مختار تلہری بریلی اتر پردیس انڈیا

چودہ فروری 2017 بروز منگل شام 7 بجے پاکستانی وقت کے مطابق واٹس ایپ کی دنیا میں پہلا آن لائنArshad jameel انٹر نیشنل ایک عظیم الشان نثری پروگرام۔ ” فن نثر کے شہبازِقلم ” کے نام سےبیسٹ اردو پوئٹری کی شاخ دی بیسٹ اردو فکشن گروپ کےزیرِاہتمام منعقد کیا گیا جس میں متعدد قلمکاروں نے اپنے خوبصورت افسانے پیش کئے۔ خیال رہے کہ اس عظیم الشان پروگرام کی صدارت محترم المقام جناب وقار مصطفٰی سپرا صاحب نے فرمائی جولاہور پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں اورنظامت کے فرائض جناب مختار تلہری صاحب نےانجام دئیے۔

مہمان خصوصی محترم ببرک کارمل جمالی بلوچستان پاکستان اور مہمان اعزازی محترم قیصر حمید صاحب رونجھو بیلا پاکستان رھے۔ چونکہ پروگرام اپنی نوعیت کے اعتبار سے امتیازی خصوصیت کا حامل تھا اس لئے بہت سے محبان اردو ادب نے خوب خوب پزیرائی فرمائی ۔

Babrak karmal

پروگرام کا آغاز سابقہ روایات کے مطابق ناظم مشاعرہ نے اپنے حمدیہ کلام سے کیا جس پر سامعین حضرات نے خوب داد و تحسین سے نوازا۔ اس کے بعد ایک جواں سال جدید لب و لہجہ کے عظیم شاعر جناب شوزیب کاشر صاحب (کشمیر)کو نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنے کی دعوت دی گئی انہوں نے اپنی انعام یافتہ نعت پاک سے سامعین کو مسرور کردیا اور خوب داد وصول کی جسکا ایک مطلع قارئین کی نذر۔
تو سید عالم ھے رفعنا لک ذکرک
پیارےتجھےکیاغم ھےرفعنالک ذکرک

بعد ازاں نثریہ پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے ناظم مشاعرہ نے سب سے پہلے جناب نعیم حنیف صاحب کھوئیرٹwhatsapp-17-2-2017ہ آزاد کشمیر۔ کو آواز دی انہوں نے۔ ایک سچی کہانی پر مبنی بہترین افسانہ پیش کیا جو بہت پسند کیا گیا جسکے ابتدائی الفاظ یوں ہیں۔” اللہ کا شکر کیسے ادا کرتا ہے۔ اسکے بعد جناب امین اڈیرائی صاحب اڈیرولال سندھ پاکستان کو آواز دی گئی جنہوں نے اپنی نثری کاوش بعنوان گلدستہ پیش کی اور خوب واہ واہ حاصل کی جسکا آخری جملہ ھے ” ھم پھول بینچتے ہیں خوشبو نہیں ” اس کامیاب افسانے کے بعد جناب جمیل ارشد خان صاحب ناگپور مہاراشٹر انڈیا نے ایک مختصر افسانہ بعنوان ” بھول ” پیش کیا جو لوگوں کو بہت آیا اور خوب سراہا گیا۔

whatsapp-17-2-2017-jpg7

پھراورایک خوبصورت افسانے کیلئے جناب یوسف شیخ صاحب جونپور (شیرازِ ہند) کو دعوت دی گئی جنہوں نے ” دو کا سکہ بیس کا نوٹ ” عنوان کے تحت اپنی تحریر سے لوگوں کو محفوظ فرمایا۔ اسکے بعد جناب عبد المقیت اعزازی صاحب احمدآباد، گجرات، انڈیا نے بہت عمدہ افسانہ ” میری گفتگو ایک کتاب کے ساتھ ” سنایا اور کافی داد وصول کی۔

پروگرام کامیوں کی جانب بڑھتا رہا اسی خوشگوار ماحول میں جناب وسیم عقیل شاہ صاحب ممبئی، مہاراشٹر، انڈیا کو ناظم مشاعرہ نے آواز دی انہوں نے بھی بہت خوبصورت افسانہ ” نشان ” کے عنوان سے پیش کر کے خوب واواہی لوٹی۔ اب بزم کے مہمان اعزازی محترم قیصر حمید رونجھو، بیلہ، بلوچستان سے التماس کیا گیا کہ وہ اپنے دلنشین افسانے سے نوازیں۔

محترم کے بعد مہمان خصوصی محترم المقام جناب ببرک کارمل جمالی بلوچستان نے اپنا طویل افسانہ ” آخر کب تک ایسا ہوگا ” کے عنوان سے دل کو چھو لینے والے افسانے سے نوازا جو whatsapp-17-2-2017-jpg6بہت ہی پسند فرمایا گیا۔

سب سے آخر میں حسب روایت پروگرام کے صاحب صدر کہنہ مشق افسانہ نگار محترم المقام عالیجناب وقار مصطفٰی سپرا لاہور پاکستان سے التماس کیا گیا کہ وہ اپنے بیش قیمت افسانے سے سامعین کو محظوظ فرمائیں۔ صدر محترم نے تحریر کی طوالت سے بچتے ہوئے وائس رکارڈنگ کے ذریعے ” ایک والدہ کے خیالات ” کو لیکر بہت ہی عمدہ فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا پورا پروگرام بڑی خوش اسلوبی سے انجام پزیر ہوا آخر میں ناظم مشاعرہ نے سب کا شکریہ ادا کرتے ھوئے اختتام کا اعلان کیا۔ س پروگرام کے منتظم محترم توصیف ترنل صاحب تھے جن کا تعلق ھانگ کانگ سے ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *