Foziya Rabab Unique Ghazals

Foziya Rabab Unique Ghazals

فوزیہ رباب صاحب کی بہترین غزلیں قارئین کرام کت لئے پیش خدمت ہیں

سونا چاہت ہیرا من شہزادے کا
عشق سراپا پیراہن شہزادے کا

اس سے بڑھ کر کیا دولت کی چاہ کروں
میرے پاس ہے سندر من شہزادے کا

ان کو آنسو مت کہنا اچھے لوگو
آنکھ میں اترا ہے ساون شہزادے کا

ایک دعا ہی لب پر اٹکی رہتی ہے
کبھی نہ چھوٹے اب دامن شہزادے کا

میں بھی ہوں انمول نگاہوں میں اس کی
اور بھلا کیا ہوگا دھن شہزادے کا

آس لگائے نین بچھائے ہر لمحہ
رستہ دیکھے یہ برہن شہزادے کا

کروں دعائیں دیپ بہا کر پانی میں
میرے سنگ کٹے جیون شہزادے کا

جب بولے تو صحرا میں بھی پھول کھلیں
شیریں لب، سیراب سخن شہزادے کا

ہر پل ہر دم رستہ دیکھا کرتی ہوں
میں پگلی، دیوانی بن شہزادے کا

کیسے روٹھتا اور جھگڑتا رہتا ہے
دیکھے کوئی پاگل پن شہزادے کا

شہزادی کی سانسوں میں وہ بستا ہے
اس کی روح ہے اور بدن شہزادے کا

مجھ میں رباب ہے یوں چاہت شہزادے کی
روح سے باندھ لیا بندھن شہزادے کا

Foziya Rabab Best Ghazals

Foziya Rabab Unique Ghazals

یونہی دکھ ہو جاویں گے کم شہزادے
آ جا سکھ کے خواب بنین ہم شہزادے

اپنے ہوش گنوا بیٹھی ہوں پھر سے آج
سوچ رہی ہوں تجھ کو ہردم شہزادے

شہزادی کے خواب عذاب نہ کر جانا
ہو جاویں گی آنکھیں یہ نم شہزادے

میری روح میں تیری یاد اترتی ہے
ہولے ہولے مدھم مدھم شہزادے

ایسا سخت تکلم آخر کیوں، بولو؟
کیوں ہو اتنے برہم برہم‫ شہزادے؟

شہزادے، کچھ اور نہ مانگے شہزادی
نکلے تیری بانہوں میں دم شہزادے

سارے پت جھڑ، اور بہاریں تیرے نام
میرا جیون، میرے موسم شہزادے

تجھ سے ہی مانوس ہوا سو تُو جانے
جگ کیا جانے دل کا عالم شہزادے

آنسو تجھ کو ڈھونڈیں ہیں دیوانہ وار
شہزادی کی آنکھیں ہیں نم، شہزادے

کب تک تنہا تنہا ٹوٹیں، بکھریں گے؟
روح میں روح کو ہونے دے ضم شہزادے

کب تک تنہا چُنتی جائے زخم رباب
رکھ میٹھے لفظوں کے مرہم شہزادے

Foziya Rabab Unique Ghazals

Foziya Rabab Unique Ghazals

تمھارے ساتھ چپ رہنا مجھے اچھا نہین لگتا
مگر خود سے تمہیں کہنا مجھے اچھا نہیں لگتا

مجھے اب عمر بھر یونہی تمہارے ساتھ چلنا ہے
مگر دریاؤں مین بہنا مجھے اچھا نہیں لگتا

مجھے محسوس ہوتا ہے وہی تحریر کرتی ہوں
ہوا کو اب دیا کہنا مجھے اچھا نہیں لگتا

تمہیں اچھی لگی جب سے مری یہ سادگی جاناں
سنورنے کو کوئی گہنا مجھے اچھا نہیں لگتا

تمہارے زخم ہوں تو میں انہیں آنکھوں میں رکھ لوں گی
کسی کا اور دکھ سہنا مجھے اچھا نہیں لگتا

سہیلی کے لیے میں جان اپنی دے بھی سکتی ہوں
کبھی روئے مری بہنا مجھے اچھا نہیں لگتا

Foziya Rabab

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *