دیوانِ فراقؔ سے منتخب اشعار

دیوانِ فراقؔ سے منتخب اشعار

انتخاب: عبداللہ نعیم رسول

ڈھک لئے تاروں بھری رات نے ہستی کے عیوب
آنسوؤں سے شبِ غربت میں کفن مجھ کو دیا

پر فرشتوں کو دیے تو نے تو کیا غم اس کاہے
یہی کیا کم ہے کہ انساں کا چلن مجھ کو دیا

عشق والوں میں وہ پہلی سی نہ گرمی نہ تڑپ
حسن والوں میں وہ اگلی سی وفا ہے نہ جفا

کم سے کم موت سے ایسی مجھے امید نہیں
زندگی تُو نے تو دھوکے پہ دیا ہے دھوکا

مٹا مٹا کے محبت سنوار دیتی ہے
بگڑ بگڑ کے یوں ہی زندگی بنائے جا

خیالِ گیسوئے جاناں کی وسعتیں مت پوچھ
کہ جیسے پھیلتا جاتا ہو شام کا سایہ

میں نے اس آواز کو پالا ہے مر مر کے فراقؔ
آج جس کی نرم لو ہے شمعِ محرابِ حیات

نہ کوئی وعدہ،نہ کوئی یقیں،نہ کوئی امید
خبر نہیں مجھے کیوں تیرا انتظار ہے آج

راز کے صیغے میں رکھا تھا مشیت نے جنھیں
وہ حقائق ہو گئے میری غزل میں بے نقاب

تاریکیاں مجاز کی اکثر چمک گئیں
جلوہ فروز شمعِ حقیقت ہے دور دور

سنگ و آہن بے نیازِ غم نہیں
دیکھ ہر دیوار و در سے سر نہ مار

دیوانِ فراقؔ سے منتخب اشعار

ازل سے سینۂ جبریل جس سے ہے محروم
قفس میں پال رہا ہوں وہ حسرتِ پرواز

نگاہیں مطلعِ نو پر ہیں ایک عالم کی
کہ مل رہا ہے کسی پھوٹتی کرن کا سراغ

کارِ مرقع ساز نہیں فنِ شاعری
لیتا ہے لفظ لفظ غزل میں نیا جنم

میرے نغمے نہیں یہ میں ہوں فراقؔ
میری گفتار ہے مرا کردار

ترا کلام بھی خاموشیوں کا حامل ہے
مرا سکوت بھی لفظ و بیاں سے دور نہیں

آزردگئ حسن بھی کس درجہ شوخ ہے
اشکوں میں تیرتی ہوئی کچھ مسکراہٹیں

کسی کی آنکھ میں ملتے ہیں دونوں وقت فراقؔ
ہم اک نگاہ میں شام و سحر کو دیکھتے ہیں

فراقؔ دوڑ گئی روح سی زمانے میں
کہاں کا درد بھرا تھا مرے فسانے میں

موجِ صبا کی پوچھ نہ سفّاک دستیاں
ڈوبی ہوئی ہیں خون میں پھولوں کی بستیاں

ہزار شکر کہ مایوس کر دیا تو نے
یہ اور بات کہ تجھ سے بھی کچھ امیدیں تھیں

ہر انقلاب کے بعد آدمی سمجھتا ہے
کہ اس کے بعد نہ پھر لے گی کروٹیں یہ زمیں

اگر مصائبِ دنیا کو دور کرنا ہے
کچھ اپنی اپنی مصیبت سے بے خبر ہو جاؤ

لپک رہے ہیں وہ شعلے کہ ہونٹ جلتے ہیں
نہ پوچھ موجِ شرابِ کہن کی آنچ نہ پوچھ

ہزار بار زمانہ ادھر سے گزرا ہے
نئی نئی سی ہے کچھ تیری رہگزر پھر بھی

جہاں بھی جستجوئے دوست میں ٹھہر جاتے
یقین جان کہ منزل قریب ہی ہوتی

شبِ فراق میں اٹھے حجابِ یاس و امید
تمام عمر میں بس ایک ہی تو رات ہوئی

خدا کو پا گیا واعظ،مگر ہے
ضرورت آدمی کو آدمی کی

جینا جو آگیا تو اجل بھی حیات ہے
اور یوں تو عمرِ خضر بھی کیا،بے ثبات ہے

قوموں کو گمراہ کیا ہے
شاعر کی بے راہ روی نے

دیکھ کے تیرا پیکر تاباں
سورج چاند پسینے پسینے

آج فراقؔ کی نرم نوائی
چیر گئی راتوں کے سینے

تو مخاطب بھی ہے قریب بھی ہے
تجھ کو دیکھوں کہ تجھ سے پیار کروں

سر خوشی میں بھی چونک اٹھتا ہوں
تیرے غم کی نشانیاں نہ گئیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *