افسانچہ فرض ازقلم: رخسانہ نازنین

افسانچہ فرض ازقلم: رخسانہ نازنین

انتخاب از: تسنیم فرزانہ بنگلور

صوفیہ کافی دیر سے برآمدے میں کھڑی آنگن میں دانہ چگتے کبوتروں کو دیکھ رہی تھی۔ سفید بھورے سیاہ کبوتر گھر کی چھت پہ دیواروں پہ بیٹھکرآپس میں ایک دوسرے سے چہلیں کرتے۔ کبھی اونچی پرواز کر آتے۔ کبھی زمین پہ اترآتے۔ انہیں اپنے اپنے ڈربوں کی بخوبی پہچان تھی۔ کسی اور کو اپنے ڈربے میں گھسنے نہ دیتے اور نہ ہی اپنی کبوتری کا کسی اور سے چہلیں کرنا انہیں پسند آتا۔ فوراً ٹھونگ مار کر اپنی کبوتری کو اشارہ کرتے کہ ادھر نہ جائے.! صوفیہ اکثر انکی ایک ایک چال پہ گہرائی سے غور کرتی اور قدرت کے نظام پہ ہر بار اسکا دل پروردگار کے حضور احساس تشکر سے لبریز ہوجاتا۔

اس نے ان کبوتروں کے نام بھی رکھے تھے۔ سندر اور گوری کی جوڑی بہت خوبصورت تھی۔ اور اسے بہت پسند تھی۔ آج پھر سندر تنکے اکٹھے کر رہا تھا تاکہ ڈربے کے اندر اپنا چھوٹا سا گھونسلہ بناسکے اور پھر گوری اس گھونسلے پہ انڈے دے سکے۔ ان انڈوں کو وہ دونوں باری باری سیتے اور پھر بچہ ہونے کے بعد بچے کی پرورش دیکھ بھال مل جل کر کرتے۔ دانہ بھی دونوں ملکر اسے کھلاتے.! یہ منظر بڑا متاثر کن ہوتا اور فطرت کا ایک اصول بھی واضح کرتا کہ اپنی نسلوں کی آبیاری کرنا مرد وزن پہ یکساں فرض ہے۔

آج سندر کو احساس ذمے داری سے تنکے اکٹھے کرتے دیکھ کر اس نے وہیں برآمدے سے پلٹ کر اپنے کمرے میں گہری نیند میں ڈوبے اپنے شوہر اکبر کو دیکھا۔ بارہ بج رہے تھے اور وہ ابھی تک خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہا تھا! بے روزگار نکما شخص جسے اپنی ذمے داریوں اور فرائض کا قطعی احساس نہ تھا۔ صوفیہ نے گوری کو رشک آمیز نگاہوں سے دیکھا اور ایک سرد آہ بھری اور سوچا گوری تو کتنی خوش نصیب ہے کہ سندر کو اپنے فرض کا احساس ہے.! اور میں کتنی بدنصیب کہ اپنے اندر سانس لیتی ننھی سی جان محسوس کر رہی ہوں لیکن میرا شوہر اپنے فرض سے انجان ہے.! بے فکر اور لاپرواہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *