فارحہ ایلیاء کی غزلیں

%d9%96%d8%a7%d8%b1%db%8c%da%be%d8%a7

فارحہ ایلیاء نوجوان شاعرہ ہیں اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں زیر تعلیم ہیں جون ایلیا ان کا پسندیدہ شاعر ہے اور یہی وجہ ہے کہ فارحہ کا تخلص بھی ایلیا ہی ہے فارحہ ایلیاءکی چند غزلیں پیش خدمت ہیں

%d9%81%d8%a7%d8%b1%d8%ad%db%81-%d8%a7%db%8c%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%a1

غزل نمبر ایک
بجا تم نے کہا میں لڑکیاں خود سر بناتی ہوں
اکیلے کب تلک لڑتی رہوں لشکر بناتی ہوں

ہوائے تیز میں جب بھی چمن برباد ہوجائے
میں تنکے جوڑ کر چڑیوں کے اجڑے گھر بناتی ہوں

کھلا جب سے نہیں تو میرے ہاتھوں کی لکیروں میں
لکیریں خون سے دیوار پر اکثر بناتی ہوں

اگرچہ قید ہوں پر احتجاجاً اتنا کرتی ہوں
پرندوں کے قفس میں کاغذوں پہ پر بناتی ہوں

تخیل کی کبھی جب چاندنی پڑنے لگے پھیکی
میں ایسی تیرگی میں پھر ترا پیکر بناتی ہوں

زمیں پہ بیٹھ کے مٹی پہ اکثر فارحہ یونہی
تمہارے لوٹ کے آنے کا میں منظر بناتی ہوں

فارحہ ایلیاء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

%d9%81%d8%a7%d8%b1%d8%ad%db%81-%d8%a7%db%8c%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%a1-%db%b6

غزل نمبر دو

۔
میں کیا بتاؤں کہ کس درجہ اضطراب میں ہوں
بچھڑ کے تجھ سے نئے عشق کے عذاب میں ہوں

زرا ٹھہر تو میں آتی ہوں کھولتی ہوں گیٹ
مجھے جگا میں تیرے لوٹنے کے خواب میں ہوں

کتابِ زیست میں لکھی ہوئی کہانی، میں
تمہارے تیسرے حصے کے پہلے باب میں ہوں

تو میرا عکس کہیں اور دیکھتا کیوں ہے ،
میں تیری آنکھ میں رقصاں حسین آب میں ہوں

تو ہر سوال سے پہلے یہ بھول جاتا ہے
تجھے بتایا تھا میں نے میں ہر جواب میں ہوں

فارحہ ایلیاء

%d9%81%d8%a7%d8%b1%d8%ad%db%81-%d8%a7%db%8c%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%a1-%db%b3

۔۔۔۔۔
غزل نمبر تین

بس رُوبرو ہو یار ہی ایسی سبیل کر
یا رب عطا رقیب کو صبرِ جمیل کر

یہ فاصلے رگوں میں اترتے ہیں بن کے زہر
یوں درمیانِ روح نہ قائم فصیل کر

میں بھی تو دیکھ پاؤں تری وسعتِ ستم
میری اذیتوں کو نہ اتنا قلیل کر

اک شخص مانگتی ہوں میں تیری جناب سے
اتنا کرم تو مجھ پہ اے ربِ جلیل کر

ان کو بہت گلے ہیں ترے ہر سلوک سے
میری اداسیوں کو نہ اپنا وکیل کر

بہتر ہے بات کرنے سے اب خامشی یہاں
کرنی ہے گر ضرور تو مت بے دلیل کر

فارحہ ایلیاء
%d9%81%d8%a7%d8%b1%d8%ad%db%81-%d8%a7%db%8c%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%a1-%db%b2۔۔۔۔۔۔۔
غزل نمبر چار

یہ دل بے وجہِ مائل ہو رہا ہے
کسی کا ہجر زائل ہو رہا ہے

ہے پاوں میں یہ چھن چھن بیڑیوں کی؟
یا تیرا خواب پائل ہو رہا ہے؟

یہ دل جو تم سے پہلے شہ تھا اپنا
تم آئے ہو تو سائل ہو رہا ہے!

ہماری آنکھ میں خوں ہے کسی کا
نجانے کون گھائل ہو رہا ہے!

دلیلیں پیار کی دل مانگتا تھا
تمہیں دیکھا تو قائل ہو رہا ہے

جو کے مسئلے سلجھا رہا تھا
وہ اب زیرِ مسائل ہو رہا ہے

کئی دن سے مری آنکھوں میں یونہی
کہیں سے ابر حائل ہو رہا ہے

فارحہ ایلیاء

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

%d9%81%d8%a7%d8%b1%d8%ad%db%81-%d8%a7%db%8c%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%a1-%db%b5

غزل نمبر پانچ
جتنی بھی تہمتیں ہیں لگا دیجیے مجھے
الفت جو کی ہے اس کی سزا دیجیے مجھے

بے وجہ وہ جو آپ کو نفرت ہے آگ سے
آتش ہوں میں بھی آپ بجھا دیجیے مجھے

جائیں گے ہم تو جان سے الفت میں آپ کی
یوں کیجیے کہ اس کی جزا دیجیے مجھے

خود کو سنوارتی ہوں میں اک وصل واسطے
یک چشمِ التفات عطا کیجیے مجھے

میں آپ کے قریب ہوں پھر بھی سکوں نہیں؟
یوں کیجیے جناب گنوا دیجیے مجھے

اک دردِ سر ہوں دیکھیے سوچیں نہ یوں مجھے
میں آپ کی نہیں ہوں بھلا دیجیے مجھے

دل میں کہیں پہ دفن کریں مجھ کو فارحہ
مثلِ نشانِ قبر مٹا دیجیے مجھے

فارحہ ایلیاء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

غزل نمبر چھ
مجھے بس سکوت عزیز تھا میں نے لب کو کیسے ہلادیا
کبھی تو بھی سوچ کے دیکھ لے، ترے عشق نے مجھے کیا دیا

یہ جو ہر زبان پہ عام ہے ترا نام بھی مرا نام بھی
ہمیں عشق سے یہ صلہ ملا، ہمیں تہمتوں سے ملا دیا

یہ تمہارے عشق کا رنگ ہے مجھے شاعری کا ہنر ملا
کوئی بات تم نے کہی مجھے، اسے میں نے شعر بنا دیا

مجھے علم ہے کہ اک اجنبی کو یوں پہروں سوچنا ہے غلط
کروں کیا کہ دکھ مجھے آملے اسے جب بھی میں نے بھلا دیا

مجھے راہِ عشق میں صرف غیروں کے طنز ہی ملے جا بجا
میں اسی کے پیار میں گم رہی میں نے اپنا آپ مٹادیا

وہ تو جب گیا تو گیا سدا ہی نئے دکھوں سے نواز کر
سو ہر ایک دکھ کو کرم نوازی سمجھ کے دل میں سجا دیا

یہی ایک دکھ ہے کہ وہ کبھی مرے دکھ سمجھ ہی نہیں سکا
وہ جو ایک شخص تھا جس کو میں نے ہر ایک دکھ ہی سنا دیا

فارحہ ایلیاء

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *