Farhat Abbas Shah Beautiful Ghazals

      No Comments on Farhat Abbas Shah Beautiful Ghazals
Farhat Abbas Shah Beautiful Ghazals

تم جو مر جاؤ تو خالق کی رضا نے مارا
میں ہی وہ ہوں کہ جسے ٹھیک قضا نے مارا

َموت بر حق ہے یہ ایمان ہے میرا لیکن
تم مجھے مار کے کہتے ہو خدا نے مارا

ایک شاعر کہاں کر سکتا ہے خود کش حملہ
تم مرو گے تو کہوں گا کہ دعا نے مارا

تم چراغوں کو بجھانے میں بہت ہو مشاق
اور یہ الزام لگاتے ہو، ہوا نے مارا

مجھ کو پہچان لو میں عشق زدہ، ہجر زدہ
ہاں مرے بارے میں لکھ دو کہ وفا نے مارا

بیچ کر جھوٹی مسیحائی منافعے کے لیے
کتنے آرام سے کہتے ہو وبا نے مارا

قتل کر پاتے مجھے کانٹے یہ جرات ان کی
میں تو وہ گُل ہوں جسے دستِ صبا نے مارا

کوئی مرتا ہے سڑک پر کوئی بیماری سے
ہائے وہ شخص جسے چشمِ خفا نے مارا

ہائے تعلیم فروشی نے مِرے بچوں کو
میرے ماں باپ کو بھی مہنگی دوا نے مارا

کیا ہی اچھا تھا کہ تُو چپ ہی کھڑا رہ جاتا
اک مسافر تھا جسے تیری صدا نے مارا

وہ بھی گن لو کہ جو ہیں مارے گئے جنگوں میں
وہ بھی گن لو جنھیں غربت کی بلا نے مارا

لوگ لکھیں گے مِرے بارے مرے مرنے پر
ایک صحرائے محبت کو گھٹا نے مارا

مرنے والا تری نفرت سے کہاں تھا فرحت
میرے دل کو تو محبت کی شفا نے مارا

Farhat Abbas Shah Poetry In urdu

Farhat Abbas Shah Beautiful Ghazals

زباں ہے تو نظر کوئی نہیں‌ ہے
اندھیرے ہیں، سحر کوئی نہیں ہے
محبت میں فقط صحرا ہیں جاناں
محبت میں شجر کوئی نہیں‌ ہے
خموشی چیختی جاتی ہے لیکن
کسی پر بھی اثر کوئی نہیں‌ ہے
بھری بستی میں‌ تنہا کر گئے ہو
کہ جیسے یاں خطر کوئی نہیں ہے
اگر انساں کے بارے پوچھتے ہو
بہت سے ہیں مگر کوئی نہیں ہے
میں اپنے آپ ہی سے ڈر رہا ہوں
مجھے تیرا تو ڈر کوئی نہیں‌ ہے

Farhat Abbas Shah Romantic Ghazals

Farhat Abbas Shah Beautiful Ghazals

لاکھ  دوری ہو مگر عہد نبهاتے رہنا
جب بهی بارش ہو میرا سوگ مناتے رہنا

تم گئے ہو تو سر شام یہ عادت ٹهہری
بس کنارے پہ کهڑے ہاتهہ ہلاتے رہنا

جانے اس دل کو یہ آداب کہاں سے آئے
اس کی راہوں میں نگاهوں کو بچهاتے رہنا

ایک مدت سے یہ معمول ہوا ہے اب تو
آپ ہی روٹهنا اور آپ مناتے رہنا

Farhat Abbas Shah Ghazals

Farhat Abbas Shah Beautiful Ghazals

تم کو معلوم ہے فرحت کہ یہ پاگل پن ہے
دور جاتے ہوئے لوگوں کو بلاتے رہنا
آنکھ بن جاتی ہے ساون کی گھٹا شام کے بعد
لوٹ جاتا ہے اگر کوئی خفا شام کے بعد
وہ جو ٹل جاتی رہی سر سے بلا شام کے بعد
کوئی تو تھا کہ جو دیتا تھا دعا شام کے بعد
آہیں بھرتی ہے شب ہجر یتیموں کی طرح
سرد ہو جاتی ہے ہر روز ہوا شام کے بعد
شام تک قید رہا کرتے ہیں دل کے اندر
درد ہو جاتے ہیں سارے ہی رہا شام کے بعد
لوگ تھک ہار کے سو جاتے ہیں لیکن جاناں
ہم نے خوش ہو کے ترا درد سہا شام کے بعد
خواب ٹکرا کے پلٹ جاتے ہیں‌بند آنکھوں سے
جانے کس جرم کی کس کو ہے سزا شام کے بعد
چاند جب رو کے ستاروں سے گلے ملتا ہے
اک عجب رنگ کی ہوتی ہے فضا شام کے بعد
ہم نے تنہائی سے پوچھا کہ ملو گی کب تک
اس نے بے چینی سے فورا ہی کہا شام کے بعد
میں اگر خوش بھی رہوں پھر بھی مرے سینے میں
سوگواری کوئی روتی ہے سدا شام کے بعد
تم گئے ہو تو سیہ رنگ کے کپڑے پہنے
پھرتی رہتی ہے مرے گھر میں قضا شام کے بعد
لوٹ آتی ہے مری شب کی عبادت خالی
جانے کس عرش پہ رہتا ہے خدا شام کے بعد
دن عجب مٹھی میں‌جکڑے ہوئے رکھتا ہے مجھے
مجھ کو اس بات کا احساس ہوا شام کے بعد
کوئی بھولا ہوا غم ہے جو مسلمل مجھ کو
دل کے پاتال سے دیتا ہے صدا شام کے بعد
مار دیتا ہے اجڑ جانے کا دہرا احساس
کاش ہو کوئی کسی سے نہ جدا شام کے بعد

Farhat Abbas Shah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *