Farhan Dil Selective Qataat | Farhan Dil Poetry In Urdu

Farhan Dil Selective Qataat

اللہ جس سے خوش ہوا بیٹی نواز دی
آپ اس کو قتل کر کے خسارہ نہ کیجیے

بیٹی تو گھر کا نور ہے گھر کا چراغ ہے
اس کو بجھا کے گھر میں اندھیرا نہ کیجیے

Farhan Dil Selective Qataat

Farhan Dil Selective Qataat

اے ماں کے پیٹ میں بیٹی کو مارنے والو
ذرا تو سوچو کہ تم کس جہاں میں گُم ہوتے

تمہاری ماں بھی تو آخر کسی کی بیٹی ہے
اگر وہ مار دی جاتی تو آج تم ہوتے؟

Farhan Dil Selective Qataat 

Farhan Dil

 

پہنچ کر گھر میں دروازے پہ دستک جب بھی دیتا ہوں
غلط ہی کیوں نکلتا ہے ہمیشہ میرا اندازہ

مرے منہ سےنکلتا ہے ہمیشہ نام بیٹے کا
مگر بیٹی ہی اٹھ کر کھولتی ہے روز دروازہ

Farhan Dil Beautiful Qataat 

Farhan Dil Selective Qataat

سامنے آتی ہے سچائی بڑھاپے میں نئی
ٹوٹ کر رہ جاتی ہے امید ساری باپ کی

بیٹوں کو فرصت کہاں ہے حال اس کا پوچھ لیں
بیٹیاں ہی کرتی ہیں تیمار داری باپ کی

Farhan Dil Selective Qataat

بٹھا کر میں نے کاندھے پر جسے دنیا دکھائی ہے
مرے اس بیٹے کی آنکھوں میں دنیا ہی سمائی ہے

مگر بیٹی جسے سسرال میں سو کام ہوتے ہیں
نبھا کر ساری ذمہ داری مجھ سے ملنے آئی ہے

Farhan Dil Selective Qataat 

Farhan Dil Selective Qataat

نہ مارو بیٹی کو غربت سے خوف کھا کر تم
یہ اپنا رزق زمانے میں لے کے آتی ہے

کسی غریب سے پوچھو تو وہ بتائے گا
یہ اپنے حصے کا کھانا اسے کھلاتی ہے

Farhan Dil Selective Qataat

بھرنی تو پڑے گی تجھے نقصان کی قیمت
بیٹی کے ہر اک خواب کی ارمان کی قیمت

مانگے گی وہ جب تیرا گریبان پکڑ کر
تو کیسے چکا پائے گا اس جان کی قیمت

Farhan Dil Selective Qataat 

Farhan Dil Selective Qataat

 

بس ایک کن سے زمین و زمان بھرنے لگے
تری خدائی سے دونوں جہان بھرنے لگے

خدایا کوئی کہاں ہے خدائی کے قابل
ترا ہی دم ہے جو سارا جہان بھرنے لگے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *