Farhan Dil Beautiful Ghazals

      No Comments on Farhan Dil Beautiful Ghazals
Farhan Dil Beautiful Ghazals

پہلے سب کا لہجہ دیکھنا پڑتا ہے
آخر میں آئینہ دیکھنا پڑتا ہے

مجھ کو تیری ایک جھلک پانے کے لیے
کس کا کس کا چہرہ دیکھنا پڑتا ہے

سب کے بس کی بات کہاں اس کا دیدار
خواب بھی اس کے جیسا دیکھنا پڑتا ہے

مجھ میں اتنی تاب کہاں اس کو دیکھوں
مجھ کو اس کا سایہ دیکھنا پڑتا ہے

اس کی کماں سے تیر نکلتا ہے جب بھی
پہلے اپنا سینہ دیکھنا پڑتا ہے

روز تری ہر یاد کھرچنی پڑتی ہے
دل کا کونا کونا دیکھنا پڑتا ہے

میں تم کو پہچان تو لوں تم کیا شئے ہو
ہر خطّے کا رقبہ دیکھنا پڑتا ہے

جب بھی اس سے دل کی باتیں کرنی ہوں
پہلے اس کا لہجہ دیکھنا پڑتا ہے

تب دنیا کی چال سمجھ میں آتی ہے
اکثر اس کو الٹا دیکھنا پڑتا ہے

ایسا موڑ بھی عمر کا آتا ہے اک دن
سب کو اپنا پیچھا دیکھنا پڑتا ہے

اپنی کوئی رائے دینے سے پہلے
ہر منظر کو پورا دیکھنا پڑتا ہے

اونچے اونچے لوگوں سے جب ملتا ہوں
جھک کر سب کا چہرہ دیکھنا پڑتا ہے

کون اس محفل میں جائے جس محفل میں
پہلے اپنا حلیہ دیکھنا پڑتا ہے

Farhan Dil Poetry In Urdu

Farhan Dil Beautiful Ghazals

یہ بھی بیماری ہے پیسے والوں کی
سستے کو بھی مہنگا دیکھنا پڑتا ہے

پہلے میں یاروں سے کھل کر ملتا تھا
اب تو ان کا عہدہ دیکھنا پڑتا ہے

محفل میں بھی وہ نوبت آجاتی ہے
اپنے آپ کو تنہا دیکھنا پڑتا ہے

اکثر مجھ سے ملنے آنے والوں کو
دروازے پر تالا دیکھنا پڑتا ہے

جب سے یاروں کے چہرے تبدیل ہوئے
ہر چہرہ دوبارہ دیکھنا پڑتا ہے

جب رستے میں سورج پشت پہ آئے تو
اپنے آگے سایہ دیکھنا پڑتا ہے

چوک میں ہر دن تازہ منظر ہوتے ہیں
اک کھڑکی سے کیا کیا دیکھنا پڑتا ہے

پہلے پیاسے کنویں تک آجاتے تھے
اب کنویں کو پیاسا دیکھنا پڑتا ہے

farhan dil

روز ہمیں ہوتا ہے منزل کا دھوکہ
روز سفر کا تارہ دیکھنا پڑتا ہے

یار عجب ہیں تیری دنیا کے قانون
ایک اور تین کو تیرہ دیکھنا پڑتا ہے

چاہے لکڑی کا ہی سہارہ کیوں نہ رہے
اندھے کو بھی رستہ دیکھنا پڑتا ہے

سچ کی لڑائی آساں تھوڑی ہوتی ہے
پیاسے رہ کر دریا دیکھنا پڑتا ہے

تب بینائی ، بینائی کہلاتی ہے
قطرے میں بھی دریا دیکھنا پڑتا ہے

آنکھ لکیروں تک آخر میں جاتی ہے
سب سے پہلے نقطہ دیکھنا پڑتا ہے

Farhan Dil Poetry

Farhan Dil Beautiful Ghazals

جتنا دیکھا اتنا سوچو، ختم کرو
جتنا سوچو اتنا دیکھنا پڑتا ہے

سب کرداروں کے اپنے افسانے ہیں
اپنا اپنا حصہ دیکھنا پڑتا ہے

اب میں دل میں ارمانوں کو کیوں پالوں
سب کو ٹوٹا پھوٹا دیکھنا پڑتا ہے

آنکھوں میں کچھ خواب سجانے پڑتے ہیں
پھر خوابوں کو بکھرا دیکھنا پڑتا ہے

سچائی کی جنگ بڑی مشکل ہے میاں
پانی سر سے اونچا دیکھنا پڑتا ہے

سڑکیں اچھی، گھر جاکر بھی کیا حاصل
سونا سونا کمرہ دیکھنا پڑتا ہے

بستر، نیند اور آنکھ میں اب بنتی ہی نہیں
رات گئے تک پنکھا دیکھنا پڑتا ہے

بات کا کیا ہے، کہہ کر آگے بڑھ جاؤں
کس نے کیا کیا سوچا، دیکھنا پڑتا ہے

شوق سے بتلاتا ہے جب میرا بیٹا
سب کچھ دیکھا بھالا دیکھنا پڑتا ہے

میں کب دیکھتا تھا پیچھے مڑ کر دنیا
لوگوں نے سمجھایا ، دیکھنا پڑتا ہے

سود و زیاں کا قائل کب تھا دل لیکن
کیا کھویا کیا پایا،  دیکھنا پڑتا ہے

Farhan Dil Beautiful Poetry In Urdu

Farhan Dil Beautiful Ghazals

دل کو بس ایک وار سے بے جان کردیا
اس نے بچھڑ کے فیصلہ آسان کردیا

میں نے بس ایک بات کہی تھی نباہ پر
باتیں سنا کے اس نے پریشان کردیا

یادیں بھی چھینیں،خواب و تصوّر بھی لے لیے
اس نے تو میری روح کو ویران کردیا

دونوں کے دل ملائے تھےاک واردات نے
اک حادثے نے دونوں کو انجان کردیا

میں نے ہی اس سے پوچھی نہ آنے کی وجہ اور
پیدا کسی بہانے کا امکان کردیا

ماضی مٹا دیا مرے قرطاسِ ذہن سے
تم نے تو میرا برسوں کا نقصان کردیا

Farhan Dil Beautiful Ghazals

Farhan Dil Beautiful Ghazals

ہوئے جو خوفزدہ، آسمان بھرنے لگے
تھکے تھے پھر بھی پرندے اڑان بھرنے لگے

دوکان توڑی،  فسادی مکان بھرنے لگے
پھر امن ہوگیا، تاجر دوکان بھرنے لگے

نہ دیکھ پائے تھِرکنا چراغ کی لَو کا
اجالے خود ہی ہواؤں کے کان بھرنے لگے

عجیب ہیں مری بستی کے سارے جادوگر
کہ بیٹی مار دی، گڑیوں میں جان بھرنے لگے

رویّے اکھڑے تو خاموش بدگمانی کی ریت
تمہارے اور مرے درمیان بھرنے لگے

شکاری اپنی جبلّت سے ہوگئے مجبور
جہاں ہرا ہوا جنگل، مچان بھرنے لگے

جنھوں نے زیست کے سب مرحلے نبھائے تھے
جوابی پرچہ سرِ امتحان بھرنے لگے

یہ زندگی بھی عجب ساہوکار ہے پیارے
کہ جو بھی سانس بھرے وہ لگان بھرنے لگے

عجیب رسم ہے دنیا ترے رویّوں کی
کہ جرم ایک کرے، خاندان بھرنے لگے

تو یہ سمجھنا قیامت کی آمد آمد ہے
زمیں کی چینخوں سے جب آسمان بھرنے لگے

گرہستی چھوڑ کے محفل میں شعر پڑھنے لگیں؟
تمہاری خوشبو سے لوگوں کے لان بھرنے لگے

کہ تو نے رشتے میں اتنی جگہ ہی کیوں رکھّی
کہ میرے کان ترے بدگمان بھرنے لگے

یہ کیسا روگ ہے فرحان دِل ترے دل کا
کہ اس کا نام سنے اور اڑان بھرنے لگے

Farhan Dil

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *