Faqeer Faisal Abadi ke Alvidai Are Hanju Moti ki Taqreeb e Ronamai

Faqeer Faisal Abadi

رپورٹ : ادب ڈیسک الخبر
دیارِ غیر میں تیس برس ادبی پیڑوں کے سایہ میں گزارنے کے بعد جب ایک درویش ادبی مسافر اپنا زادِ سفر باندھ کر اپنے وطن کی طرف عازمِ سفر ہونے کی تیاری کر رہا ہے تو ادب قبیلے کا ایک مقام پر اکٹھے ہو کر اُس کومحبتوں اور دُعاؤں کے سائے میں رخصت کرنا ایک توانا روایت ہے۔

گزشتہ دنوں عالمی اردو دھنک الخبر اور الخبر سوشل فورم نے گلف دربار ریستوران میں ایک ایسی ہی شاندار تقریب کا اہتما م کیا ، جس میں پنچابی زبان کے منفرد شاعر فقیر فصل آبادی کی الودعی تقریب اور ان کے تیسرے شعری مجموعے’’ہنجو موتی‘‘ کی رونمائی کا اہتمام کیا ۔ تقریب کی صدارت شاعر، فکاہ نگار اور افسانہ نگار محمدایوب صابر نے فرمائی۔

مہمانانِ خصوصی کی نشستوں پر منفرد لہجے کی شاعرہ و سفرنامہ نگار اور ادبی خاندان کی چشم و چراغ ،بزمِ کامرانی کی روحِ رواں غزالہ کامرانی اور اردو ٹوسٹ ماسٹرس کے خازن محمد مظفر احمد متمکن تھے جبکہ مہمانانِ اعزازی کی نشست پر صاحبِ جشن فقیر فصل آبادی تشریف فرما تھے۔

نظامت کے فرائض الخبر سوشل فورم کے روحِ رواں سرفراز حسین نے اپنے مخصوص انداز میں ادا کئے۔محفل کے آغاز سے پہلے مہمانوں کو پُر تکلف عشائیہ پیش کیا گیا۔ محفل کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کی سعادت سرفراز حسین ضیا نے حاصل کی۔

Faqeer Faisal Abadi

اُس کے بعد صدرِ مجلس نے ’’ہنجو موتی‘‘ کی رونمائی فرمائی۔ عالمی اردو دھنک الخبر اور الخبر سوشل فورم کی جانب سے فقیر فیصل آبادی کوایک خوشنما شیلڈ پیش کی گئی۔بزمِ کامرانی کی جانب سے مسعود جمال نے فقیر فصل آبادی کو روایتی سندھی اجرک پیش کی۔ محفل دو حصوں پر مشتمل تھی پہلے حصے میں فقیر فیصل آبادی کے فن اور شخصیت پر روشنی ڈالی گئی اور کلامِ شاعر بزبان شاعر پیش کیا گیا۔

سرفراز حسین ضیاء نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہ فقیر فصل آبادی منظقہ شرقیہ میں پنجابی زبان کا نمائندہ شاعر ہے جس نے تسلسل کے ساتھ اپنا ادبی سفر جاری رکھا ہے۔ اِن کی شاعری پُر اثرا ور دلپذیر ہے۔ صادق کرمانی نے کہا کہ فقیر فیصل آباد ی جس لگن اور ہمت کے ساتھ شعری میدان میں کھڑے ہیں یہ جذبہ قابل تحسین ہے۔

عبدالسلیم نے کہا کہ مجھے پنجابی زبان پر عبور نہیں اس کے باوجود میں فقیر فصل آبادی کی شاعری سن کر پنجابی زبان کی چاشنی محسوس کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ محمدمظفر احمد نے کہا کہ میں تقریباً 15برس سےفقیر فصل آبادی سے آشنا ہوں انہوں نے ناسازئی طبع کے باوجود ادبی محفلوں میں شرکت کے ایک ایسا کارنامہ دیا جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

غزالہ کامرانی نے کہا کہ میں جب فقیر فصل آبادی کی شاعری سنتی ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے میں خود پنجاب کے کسی گاؤں میں پہنچ گئی ہوں اور وہاں کے رسم و رواج اور تہذیب تمدن کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہوں۔ اس کے بعد کلام شاعر بزبانِ شاعر کے لئے فقیر فصل آبادی کو ڈائس ہر آنے پر دعوتے ، انہوں نے اپنے اپنے متعدد گیت اور غزلیں پیش کر کے محفل کو گرما دیا۔

صدر مجلس محمدایوب صابر نے صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے ایک شاندار تقریب کا اہتمام کرنے کرنے پر صادق کرمانی ، سرفراز حسین ضیا اور عقیل آصف کو مبارکباد دی اور منتظمین کی اِس کاوش کو سراہا جنہوں نے فقیر فصل آبادی جیسے درویش صفت انسان کے لئے اس قدر اہتمام کیا ۔ انہوں فقیر فصل آبادی کے فن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ فقیر فیصل آبادی کی شاعری وارداتِ قلبی کی مظہر ہے اِن کی شاعری پڑھنے سے یہ احساس جاگزیں ہو تا ہے کہ انہوں نے خود پر جبر کرکے کچھ نہیں لکھا بلکہ معاشرے کے جبرو استبداد کو سپردِ قرطاس کیا ہے

انہوں نے پنجاب کے صوفی شعراء کی زبان میں اپنا پیغام عام لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ اِس کا اندازہ اِن کے گیتوں کی کتاب ’’ہنجو موتی‘‘کا مطالعہ کرنے سے ہوتا ہے۔ ہنجو کے ساتھ انسان کا پیدائش کے بعد پہلا اور موت سے پہلے آخری رابطہ ہوتا ہے۔ زندگی میں بار ہا ایسے مواقع آتے ہیں جب ہنجو موتی بن کی آنکھوں کی منڈیر سے ڈھلک جاتے ہیں۔

وہ ہنجو جو آنکھ سے بے اختیار نکل پڑے وہ موتی بن جاتا ہے اور جو ہنجو آنکھ کے اندر جذب کرنا پڑجائے وہ بے پناہ ضبط کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تقریب کا پہلا حصہ اختتام پذیر ہو ا ، اب شعری نشست کا آغاز ہو ا۔ شعراء نے اپنے منتخب اور دلپذیر کلام سے محفل کو ایک یاد گار موقع میں تبدیل کر دیا۔ سامعین نے دل کھول کر داد دی۔

faqeer

ہال تالیوں اور مکر ر ارشاد کی آوازوں سے گونجتا رہا۔ اِس محفل کی ایک خاص بات جسے برسوں یاد رکھا جائے گا، جب شعری نشست میں فقیر فصل آبادی اپنا الودعی گیت مترنم آواز میں سنا کر ڈائس سے اترے تو اسٹیج اور ہال میں موجود تمام احباب نے کھڑے ہو کر فقیر فصل آبادی کو دیر تک تالیوں کو صورت میں خراج تحسین پیش کیا، یہ سعادت منطقہ شرقیہ میں شاید ہی کسی رخصت ہونے والے کے حصے میں آئی ہو۔

اِس طرح نصف شب کے بعد یہ یادگار تقریب اختتام پذیر ہوئی۔ قارئین کے ادبی ذوق کی تسکین کے لئے شعرا ء کے کلام سے منتخب اشعار پیش ہیں۔

سرفراز حسین ضیاء
بھلامانس بھی شاطر ہو گیا ہے
یہاں ہر شخص تاجر ہو گیا ہے
قیامت کے ہیں یہ آثار صاحب
یہاں ہر جُرم وافر ہو گیا


رانامحمد اقبال
سیاست اِنج ای چلدی رہنی
کِسے دی منجھی ٹُھکنی نئیں
جنھے مرضی رپھڑھ پئے جان
اے دنیا داری رُکنی نئیں


سلیم حسرت
لانا نہ کبھی بھول کے کولا مرے آگے
رکھو تو فقط ساغر و مینا مرے آگے
لیڈر میں بڑا ہو ں میں کرپش پہ اڑا ہوں
ڈاکو بھی بہت اس سے ہے اچھا مرے آگے


باقر عباس فائز
زندگی مجھ کو کبھی عشق سے آزاد نہ کر
وصل میں رہنے دے مجھ کو کبھی برباد نہ کر
روند مت قدموں تلے یوں مرے سپنوں کا محل
مرے ارمانوں کی تُو کھوکھلی بنیاد نہ کر


عقیل آصف
اپنی پرواز آسمان میں رکھ
لمس لیکن زمیں کا دھیان میں رکھ
یوں بکھر جا کہ سب سمٹ جائے
لامکانی کو اب مکان میں رکھ


مسعود جمال
پھیلا ہے وحشتوں کا اندھیرا چہار سُو
کوئی دیا جلاؤ غزل کہہ رہا ہوں میں
روشن ہے کائنات یہ جس کے جمال سے
اُس کو بھی تو سناؤ غزل کہہ رہا ہوں میں


ضیاالرحمن صدیقی
میں جانتا ہوں یہ روشن جہان میرا ہے
زمیں نہیں ہے مگر آسمان میرا ہے
میرا یہ جسم کسی کا اسیر ہو تو رہے
میرا ضمیر مگر پاسبان میرا ہے


صادق کرمانی
اِس قدر مدہوش ہیں دنیا کی رنگینی میں ہم
ہم سے اک لمحہ بھی اب ذکرِ خدا ہوتا نہیں
عمر بھر کا روگ بن جاتی ہے اس کی یاد بھی
دور ہو کر جب کوئی دل سے جدا ہوتا نہیں


غزالہ کامرانی
ہو کے انسان پھر غرور اتنا ؟
اُڑ رہے ہو کیوں آسمانوں پر
کوئی انمول بِکنے آیا ہے
اِس لئے بھیڑ ہے دُکانوں پر


فقیر فصل آبادی
مِل لؤ وِیر گلے اَج مینوں مڑ کے مِلنا نال سبب
یاداں چاہت پیار محبت ساڈے دلاں چ رکھے رب
میں نہیں بُھلنے ہیرے وِیرے نہ اِس ادب نظارے نوں
جاندی وار سلام فقیر ؔ دا ادب قبیلے سارے نوں


محمدایوب صابرؔ
چاک پر رکھ کر مرے اندر کا گھاؤ بھر دیا
جانے کیا خاکِ شفاہے کوزہ گر کے ہاتھ میں
ساری بستی کے لئے ہے روشنی کا وہ سفیر
ایک مٹی کا دیا ہے کوزہ گر کے ہاتھ میں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *