“فیض احمد فیض اور اردو ادب”

"فیض احمد فیض اور اردو ادب"

کالم نگار: ڈاکٹر حنا امبرین طارق

دنیاءِ اردو ادب پر جن شخصیات نے حکومت کی ان میں ایک بڑا نام فیض احمد فیض ہے۔ فیض صاحب انگریزی، اردو، فارسی اور عربی زبان پر مہارت رکھتے تھے۔انہوں نے فارسی اردو اور پنجابی زبان میں شاعری کی۔ ان کی مشہور کتب میں “نقشِ فریادی”، “دست صبا”، ” دست تہہ سنگ” ناقابل فراموش ہیں۔ فیض احمد فیض کو مطالعہ کرنے والا محسوس کر سکتا ہے کہ آذادی کی محبت اور لگن ان کے اشعار میں کس قدر واضع ہے۔ اگست ۱۹۴۷ میں فیض نے صبح آزادی یوں لکھی

یہ داغ داغ اجالہ ، یہ شب گذیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں

فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
کہیں تو ہو گا شب سست موج کا ساحل

img-20171122-wa0056

جہاں سیالکوٹ نے ہمیں علامہ اقبال جیسا روشن ستارہ دیا وہیں ۱۳فروری ۱۹۳۰ میں فیض سے نوازہ۔ فیض کا دور اردو ادب کے جدید اور روشن ادوار میں سے ہے، جو کہ تقریباً ۱۹۳۰ میں شروع ہوا اور اب تک جاری ہے۔ فیض کی شاعری میں متحرک اور رواں استعاروں میں ہمارے وطن کے پھولوں کی خوشبو ہے۔ ان کے خیالات میں جمہوری مقاصد کی چمک ہے۔

بول کے لب آذاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے
تیرا ستواں جسم ہے تیرا
بول کہ جاں اب تک تیری ہے
بول کہ سچ زندہ ہے اب تک
بول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے

فیض کی اشعار ہمارے اندر کردار کی استقامت اور رفعت پیدا کرنے کی تہذیبی مقاصد ظاہر کرتاہے۔
ہم قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں
ہم لوگ سرخرو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں

فیض کی شاعری میں ایک صاحب دل کا جوش اور ولولہ ہے اس میں قوم کی قوم کا دل دھڑکتا ہے۔
وہ لوگ بڑے خوش قسمت تھے
جو کام کو کام سمجھتے تھے
یا کام سے عاشقی کرتے تھے
ہم جیتے جی ناکام رہے
کچھ عشق کیا
کچھ کام کیا
کام عشق کے آڑے آتا رہا
اور عشق سے کام الجھتا رہا
پھر آخر تنگ آ کر ہم نے
دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
کچھ عشق کیا
کچھ کام کیا

گو کہ تیرگی کا استعارہ انکی شاعری میں بار بار آیا۔ لیکن وہ اشعار زیادہ تابناک ہیں جو وطن پرطلوع ہونے والے نورالاولین کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ اقبال کے بارے میں فیض صاحب فرماتے ہیں؛

آیا ہمارےدیس میں اک خوش نوا فقیر
آیا اور اپنی دھن میں غزل خواں گذر گیا
تھیں چند ہی نگاہیں جو اس تک پہنچ سکیں
پر اس کا گیت سب کے دلوں میں اتر گیا

اور اس کے ساتھ ہی ۲۰نومبر ۱۹۸۴ میں فیض احمد فیض اس دنیا کو الوداع کہا۔ اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ وہ ایک امید ایک روشنی بن کر ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *