Ehad Saaz Shayar Nasir Kazmi Ki Yaad Main Bzm e Idraak Ka Mushaaira

Ehad Saaz Shayar Nasir Kazmi Ki Yaad Main Bzm e Idraak Ka Mushaaira

عہد ساز شاعر ناصرکاظمی کی یاد میں بزمِ ادراک کا مشاعرہ

(بیورو رپورٹ سعودی عرب (ڈاکٹرحناءامبرین

یاد کے نہاں خانوں میں ہر وقت ہزاروں نام تہہ در تہہ رکھے ہوتے ہیں۔ انسان کسی بھی شعبے میں ترقی کی منازل حاصل کرنے کے لئے ماضی کی یاد حال کا عمل اور مستقبل کی سوچ ایک ساتھ لے کر چلتا ہے۔ جو مشاہیر اپنی زندگی میں کارہائے نمایاں انجام دے چکے ہیں، اُن کو یاد رکھنا بھی ایک فرض کی ادائیگی کے زمرے میں آتا ہے۔ دنیائے ادب میں ناصر کاظمی ایک ایسے شاعر ہیں جو ایک وقت میں ماضی حال اور مستقبل تک رسائی رکھتے ہیں۔

گزشتہ دنوں بزمِ ادراک نے دہران انٹرنیشنل ہوٹل میں عہدساز شاعر ناصرکاظمی کی یاد میں ایک نشست کا اہتما کیا۔ اِس نشست کی صدارت کا اعزاز رحجان ساز شاعر ادیب اور محقق راہیؔ فدائی کو حاصل ہوا۔ نظامت کے فرائض شاعر ادیب افسانہ نگار اور بزمِ ادراک کے روحِ رواں محمد ایوب صابر نے ادا کئے۔ نشست دوحصو ں پر مشتمل تھی ، پہلے حصے میں ناصرکاظمی کے فن پر روشنی ڈالی گئی جبکہ دوسرے حصے میں شاندار محفلِ مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔

محمد ایوب صابر نے ناصر کاظمی کے فن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو ادب کی تاریخ ایسے بے شمار ستاروں سے روشن ہے جو اپنے وقت پر نمودار ہوئے اور اپنی روشنی چھوڑ کر فلک کے اُس پار چلے گئے۔ ناصرکاظمی کی شاعری کا مطالعہ کرنے یہ سراغ ملتا ہے کہ انہوں نے غمِ دوراں اور غمِ جاناں کے درد سے آشنائی حاصل کی ہے ۔انہوں نے اپنے اسلوب سے شاعری کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔ انہوں نے پامال زمینوں کا استعمال نہیں کیا بلکہ سادہ انداز میں ایسی گہر ی باتیں کہی ہیں کہ قاری دھنگ رہ جاتا ہے۔

اُن کی شاعری پر آواز کا جادو جگا کر کئی غزل گائیک بامِ عروج تک پہنچ گئے۔ حسن الدین خان نے کہا کہ ناصرکاظمی کے اشعار سن کر ایسا لگتا ہے کہ علامہ اقبال کے بعد شعر ی دنیا میں ناصرکاظمی نے اپنا مقام حاصل کیا۔ اِس نشست میں شرکت کے بعد ناصر کاظمی کی شاعری میں میری دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔ شہریار محمد خان نے کہا کہ ناصرکاظمی بلند مرتبہ اردو شاعر ہیں ، اُن کے کلام میں انفرادیت ہے۔ انہوں نے اپنے اشعار میں دریا کو کوزے میں بند کیا ہے یہی ایک اچھے شعر کی خوبی ہے اور ناصرکاظمی اِس معیار پر پورا اترتے ہیں۔

داؤد اسلوبی نے کہا کہ ناصر کاظمی کی شاعری میں وہی آہنگ اور تازگی ہے جو اُن سے پہلے اساتذہ کے کلام میں موجود تھی۔ اُن کی شاعری موجودہ دور میں بھی زندہ و جاوید ہے اور وقت کے ساتھ اور بھی تاباں ہو گی۔ شعر و ادب کی دنیا میں ناصر کاظمی کا نام ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔ محمد رفیق آکولوی نے کہا کہ میں ایوب صابر کا ممنون ہوں جنہوں نے اِس دور میں جب لوگ زندہ احباب کو بھول رہے ہیں ایسے دور میں اساتذہ کی یاد میں نشست کا اہتمام کرنا ایک قابلِ تحسین عمل ہے۔

جو تخلق کار بظاہر زمیں دوز ہوچکے ہیں اُن کے لئے دوستوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ادب کی حقیقی خدمت ہے۔ اِس کے علاوہ ایک عظیم شاعر کے حق میں دُعا کرنا ایک مقبول عمل ہے ۔ ناصر کاظمی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں اور رہیں گے ۔ خالد صدیقی نے کہا کہ ناصرکاظمی نہ صرف اعلیٰ پائے کے شاعر تھے بلکہ اُن کے اسلوب میں نرالاپن تھا۔ اُن کی خاص خوبی یہ تھی کہ اپنے وقت کے قد آور شعرا کے درمیان رہ کر اپنا الگ مقام پیدا کیا۔

آج کی تقریب اِ س بات کی گواہ ہے کہ ناصرکاظمی کا فن زندہ ہے۔ سرفراز حسین ضیا نے کہ میرے لئے یہ اعزاز ہے لاہور میں میرا موجودہ گھر ناصر کاظمی کی گلی میں ہے۔ میں کالج لائف میں رسالے کرائے پر لے کر آتا تھا۔ ہر رسالے میں ناصر کاظمی کا کلام شامل ہوتا تھا۔ اُس دور میں ریڈیو پاکستان پر سب سے زیادہ ناصرکاظمی کا کلام نشر ہو تا تھا۔ ناصرکاظمی کی شاعری مین یہ خوبی ہے کہ وہ دل میں اتر جاتی ہے۔ انہوں نے نہ صرف غزل میں کمال پیدا کیا بلکہ نظم کے میدان میں بھی اعلیٰ درجے کے شاعرتھے۔ ناصر کاظمی جیسے شعرا نے ادب کو پہچان دی ہے۔

2017-05-21-photo-00000063

تنویر احمد تنویرؔ نے کہا کہ ناصرکاظمی کی شاعر تعلیمی نصاب کا حصہ ہے۔ ناصرکاظمی ایک ایسے سچے تخلیق کار ہیں جو اپنے لہجے سے پہچانے جاتے ہیں۔ ناصر کاظمی ریڈیو کے ساتھ منسلک تھے اور اوّل درجے کے گلوکاروں نے اُن کا کلام گایا اور شہرت کی بلندیوں تک پہنچ گئے۔ معروف غزل سنگر غلام علی نے ناصر کاظمی کی غزل کا پہلا مصرع’’دل میں اک لہر سی اُٹھی ہے ابھی‘‘ کو بے شمار انداز سے ادا کیا ہے ، میرے خیال میں ناصرکاظمی کا کلام ہی ایک لہر تھی جس نے سب کو اپنا ہم خیال بنا لیا۔

اِس سے ثابت ہوگیا کہ سچا فنکار کبھی نہیں مرتا۔ آج بھی ہم لوگ اُن کا نام لے رہے ہیں اِس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ ادب کی بے لوث خدمت کرنے والوں کو وقت یاد رکھے گا۔ راہی ؔ فدائی نے صدارتی کلمات میں کہا کہ آج کی محفل میں ناصرکاظمی کے بارے میں شخصی اور ادبی آرا سامنے آئی ہیں، ناصر کاظمی اردو شعر و ادب کا معتبر نام ہیں ۔اُن کا نام اِس حوالے سے بھی معتبر ہو جاتا ہے کہ 1930ء کے بعد ترقی پسند ادب کا چرچا رہا۔ ترقی پسند تحریک پر بہت زیادہ توجہ دی جانے لگی۔

شعرا شعوری یا لاشعوری طور پر اِس تحریک سے جُڑ گئے ۔ قدامت اور کلاسک کونظر انداز کیا جانے لگا تھا۔ 1960ء کے بعد جدیدیت آئی۔ اِس دور مین اکثر ترقی پسندوں کو بُر ا بھلا کہا جانے لگا۔ اُس زمانے میں ترقی پسندوں کے خلاف بات کرنے کو جدیدیت کا نام دیا گیا۔ اِن تمام حوالوں میں ناصر کاظمی کا فن مستحکم رہا ہے۔ ہم ناصرکا ظمی کے فن کا احاطہ اُن کے اشعار سے کریں گے۔ ہمارے سامنے یہ بات زیادہ اہم نہیں کہ کتنے گلوکاروں نے ناصرکاظمی کا کلام گایا ہے۔

ناصرکاظمی کلاسک اور جدت کے درمیان کا ایک راستہ ہیں انہوں نے میر اور غالب کو آگے بڑھایا اور ترقی پسند تحریک سے متاثر ہوئے بغیر اپنی شاعری کو ایک محفوظ مقام تک لے آئے اور یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کو کلاسک سے آگے بڑھاتے ہوئے جدید سرحدوں میں داخل ہونے کی کوشش کی اور اِس میں کامیابی حاصل کر لی۔ انہوں نے اپنی شاعری میں قدیم انداز کو نیا لباس پہنا کر پیش کیا ہے۔ ناصرکاظمی اپنے لب و لہجے کی وجہ سے زندہ رہیں گے۔ اِس کے بعد راہی فدائی نے ناصر کاظمی کے لئے دعائے مغفرت کرائی اور تمام نے آمین کہا ، اِس طرح ایک روایت کو زندہ کیا گیا۔ اب طعام اور چائے کا وقفہ کیا گیا۔

اِس کے بعد نشست کا دوسراحصہ شروع ہوا۔ جس میں شاندار محفل مشاعرہ کا اہتما م کیا گیا۔ اِس محفل کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ شعرا اپنی غزل سے پہلے نعتیہ اشعار سے آغاز کر رہے تھے۔ مشاعر ے میں سبحان اللہ ، واہ واہ اور مکرر ارشاد کا ایک تسلسل جاری تھا۔ شعرا اپنے بہترین کلام سے شعور وآگہی کا سامان مہیا کر رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ایک خاص قسم کے سرور نے محفل کو اپنے حصار میں لے لیا ہے۔ وقت تھم گیا ہو اور ساعتیں کلام کر رہی ہوں۔

محمد ایوب صابر، داؤد اسلوبی، رفیق آکولوی، خالد صدیقی ، سرفراز حسین ضیا، تنویر احمد تنویر اور راہی فدائی نے اپنا کلام پیش کیا۔ محمد رمضان، حسن الدین خان، قاضی امان اللہ، مشیر احمد اور سلمان خالد کی شرکت نے محفل کی رونق دوبالا کر دی۔ آخر میں محمد ایوب صابر نے تما م شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ اِ س طرح یہ یاد گار محفل اختتام پذیر ہوئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *