Dr Shahnaz Muzammil Introduction And Lyrics

Shahnaz Muzammil Introduction

محترمہ ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ کا تعارف اور کلام

تعارف
محترمہ شہناز مزمل صاحبہ ایک قابلِ قدرشاعرہ ہیں۔آپکےوالد حشربدایوانی صاحب قادر الکلام شاعراور سحرطراز کہانی کار اور افسانہ نگار تھے۔ تواس لیے کہہ سکتے ہیں کہ آپکو شاعری ورثہ میں ملی، گھر کے ماحول سے شعری مزاج کی تربیت ملی۔

آپ فروغِ زبان و ادب میں بہت فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ اردو ادب کے مجلٰے ادب سرائے، مخزن اور پہچان انکی زیرِ سر پرستی ادب کے قارئین تک پہنچ رہے ہیں۔

آپ 10 اپریل1958ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ 1984ء میں پنجاب یونیورسٹی لائبریری سائنسز میں ماسٹر کیا۔ ایم ۔اے کرنے کے بعد اسلامیہ کالج کوپرروڈ لاہورمیں دوسال تک بطور لائبرین خدمات سرانجام دیں۔ اسکے بعد گورنمنٹ ماڈل ٹاؤن لائبریری میں لائبریری مینیجر، سی آرڈی سی کھاریاں میں ایسرچ ایسوسی ایٹ،ایس اینڈ جی اے ڈی لاہور میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر لائبریری اور قائد اعظم لائبریری میں پروگرام آرگنائزر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں۔

Shahnaz Muzammil poetry

اسی دوران آپ نے 1989ء میں پاکستان میڈیکل کالج لاہور سے ہومیو پیتھک میں ڈاکٹری کا ڈپلومہ ڈی ایچ ایم ایس کیا۔ اسکے علاوہ فرنچ لینگوئج کا شارٹ کورس، نیدر لینڈ میں سائنٹیفک لٹریچر کی ٹریننگ اور کمپیوٹر ایپلی کیشنز اینڈ مینیجمنٹ کا کورس انکے علمی ذوق کی عکاسی کرتے ہیں۔

آپکی ادبی خدمات پورے ذوق وشوق کےساتھ ہمیشہ جاری ہیں۔ مختلف سوشل اور ادبی اداکاروں میں بے پناہ خدمات سرانجام دیں۔ لیڈیز کلب ماڈل ٹاؤن اور انٹرنیشنل وومن اسلامک آرگنائزیشن کی فعال ممیر ہیں۔ اسکے علاوہ سلطان میموریل ویلفیئر پروجیکٹ اور ادب سرائے لاہور کی چیئر پرسن کی حیثیت سے بھی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

whatsapp-image-2017-04-30-at-3-01-15-pm

محترمہ شہناز مزمل صاحبہ کو انکی ادبی و علمی خدمات پرمتعدد ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ہے۔ جن میں ضلع ناظم لاہور میاں عامر محمود کی طرف سے حسن کاردگردگی کی شیلڈ عطا کی گئی۔ منسٹری آف ایجوکیشن کی طرف سے تعریفی سند، چنگ ٹیلنٹ ایوارڈ آف ایجوکیشن، بہترین اردو شاعرہ کا ایوارڈ ، سلمیٰ تصدق ایوارڈ اور پنجاب پبلک لائبریری کی طرف سے بہترین لائبرین کا گولڈ میڈل شامل ہیں۔ آپکے فن و شخصیت پر نعمانہ فاروق نے کتاب لکھی۔

whatsapp-image-2017-04-30-at-3-01-16-pm

اسکے علاوہ بہاولپور یونیورسٹی میں صدف رانی نے 2006ء میں شہناز مزمل کی شخصیت اور فن پر مقالہ لکھ کر ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ سمن آباد کالج کی طالبہ نے محترمہ شہناز مزمل صاحبہ کے سفر نامے ’’دوستی کا سفر‘‘ پر مقالہ لکھا اور پنجاب یونیورسٹی کی ایک طالبہ آپکی مذہبی شاعری پرمقالہ لکھا۔ حنا نعمان نے شہناز مزمل کی ادبی خدمات کے عنوان سے ایم فل کا مقالہ منہاج یونیورسٹی میں جمع کروا دیا ہے۔ اور اکرم خاور کوئٹہ یونیورسٹی سے آپ کے ادبی کام پر پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ گذشتہ تیس سال سے ادب سرائے کے نام سے ایک ادبی تنظیم کی چئیرپرسن ہیں۔ ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ قرآن پاک کا منظوم ترجمہ لکھنے والی پہلی خاتون ہیں

آئیں محترمہ شہناز مزمل صاحبہ کو مزید اکے کلام کے ذریعے جانتے ہیں۔

Shahnaz Muzammil poetry

خود کو اس طرح سے ہم لوگ سزا دیتے ہیں
اپنی ہی آگ سے دامن کو جلا دیتے ہیں
ٹوٹ جاتے ہیں کبھی ضبط کے بندھن سارے
اپنی پلکوں پہ ستاروں کو سجا دیتے ہیں
ہر گھڑی کوچہ احساس میں کھو کر شہناز
دل کو اک جرمِ تمنا سے بچا دیتے ہیں
منزل کوئی ملی نہ کوئی ناخدا ملا
کیوں مجھ سفر نصیب کو رستہ جدا ملا
اس پار جا اترنے کی خواہش کبھی جو کی
ہر پُل ہی درمیان سے ٹوٹا ہوا ملا
کسی کی چنری میں دھوپ باندھی کسی کو وجۂ جمال رکھا
کسی کے دامن میں صبح ٹانکی کسی کو شب کی مثال رکھا

Shahnaz Muzammil poetry

رضا پہ تیری ہوئی میں راضی مگر مجھے آج یہ بتا دے
جواب سارے دیئے کسی کو مرے لیئے کیوں سوال رکھا
تھے عجیب میرے بھی فیصلے میں کڑی کماں سے گزر گئی
رہے فاصلے مرے منتظر میں تو جسم و جاں سے گزر گئی
تھیں طویل اتنی مسافتیں کوئی ساتھ میرا نہ دے سکے گا
وہ یقیں کی حد پہ ٹھر گیا میں ہر اک گماں سے گزر گئی
دستکیں بڑھتی گئیں اور فیصلے ہوتے رہے
ہم دریچے پر گری زنجیر سے لڑتے رہے
خواہشوں کے پھیلنے سے قربتیں کم ہو گئیں
گھر تو بن پائے نہیں خالی مکاں بنتے رہے
پھیلی ممتا کی روشنی ہر سو
میں نے دل کا دیا جلایا ہے

شہناز مزمل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *