Dr Rizwan Ali Ke Aizaz Mein Shayari Nashist

Dr Rizwan Ali Ke Aizaz Mein Shayari Nashist

ڈاکٹر رضوان علی کے اعزاز میں شعری نشسست

رپورٹ و تصاویر: مسرت عباس ندرالوی

لٹریری فورم آف نارتھ امریکہ کے بانی شاعر و ادیب ڈاکٹر رضوان علی کے اعزاز میں شعری نشسست۔ نشست جمعرات 27 جولائی کو ابوظہبی میں ڈاکٹرصباحت عاصم واسطی کے درویش کدے پر منعقد کی گئی جس میں امارات میں مقیم اردو شعراء نے شرکت کی اور اپنا اپنا کلام پیش کیا۔

Group photo

ڈاکٹر رضوان علی مختصر وقت کے لیے دوبئی تشریف لائے تھے، جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی صاحب نے امارات کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے انکےاعزاز میں شعری نشست کا اہتمام کیا۔ نشست کی صدارت معروف شاعر سید تصورحسین صاحب نے کی اور نظامت کے فرائض نوجوان پختہ شاعر آصف رشید اسجد نے ہمیشہ کی طرح خوبصورتی سے ادا کیے۔

مہمانِ خصوصی جناب ڈاکٹر رضوان علی صاحب اور صدرِ محفل جناب سید یعقوب تصور صاحب کے ساتھ دیگر شعراء میں جناب عباس شایان صاحب، جناب شہباز شمسی صاحب، جناب طارق نعیم صاحب، جناب آفتاب بابر ہاشمی صاحب، جناب مسرت عباس ندرالوی صاحب، جناب اکرام اعظم صاحب، جناب الفت شاداب صاحب، جناب احیاء بھوجپوری صاحب، جناب ندیم احمد صاحب، جناب عبدالسلام عاصم صاحب، جناب آصف سروش صاحب، جناب آصف رشید اسجد صاحب اور محترمہ ڈاکٹر ثروت زہرہ صاحبہ اور ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی صاحب نے اپنا کلام پیش کیا۔

Group photo

ڈاکٹر رضوان علی امارات میں مقیم شعراء کے کلام سے بے حد متاثر ہوئے اور خود بھی اپنے بہترین کلام پر تمام سامعین سے بھر پورداد وصول کی۔ ڈاکٹر واسطی صاحب نے ہمیشہ کی طرح تمام مہمانوں کی تواضع بہترین کھانوں سے کی جس کے لیے ہم ان کے الگ سے شکر گزار ہیں۔

شعراء کا کلام اورتصاویر حاضرِ خدمت ہیں

جناب عباس شایان صاحب

shadab ulfat

کیسے کٹ پاتی زندگی اکیلی پردیس میں
ہمسفر ہوتی اگر نہ شاعری پردیس میں
میں نے بھارت میں جلایا تھا دیا تعلیم کا
مل رہی ہے اُس دیئے سے روشنی پردیس میں

جناب شہباز شمسی صاحب

shahbaz shamsi

ستم گر کی نوازش ہو رہی ہے
میری آنکھوں سے بارش ہو رہی ہے
سجا کے رکھی تھی ہم نے جو دل میں
وہ چَکنا چُور خواہش ہو رہی ہے

جناب طارق نعیم صاحب

tariq husain

جب سے جنونِ شوقِ تمنا پگھل گیا
پیکر مرا پھر اک نئے سانچے میں ڈھل گیا
صحراء کی دھوپ جس کو جِلا بخشتی رھی
وہ شخص زلفِ یار کے سائے میں جل گیا

جناب آفتاب بابر ہاشمی صاحب

aftab babar hashmi

ہجر تیرا تھا جو سینے سے لگائے رکھا
ورنہ سیلاب میں سامان کی کیا قیمت ہے
ہم نے بڑھایا ہاتھ محبت کا اس طرف
اس نے بڑھائی آگ سخن ور کے روپ میں

جناب مسرت عباس ندرالوی

musarat abas

جہاں رسموں رواجوں کی یہ مجبوری نہیں ہوتی
وہاں پر دو قبیلوں میں کوئی دوری نہیں ہوتی
یہ مانا لوٹ آتی ہے چٹانوں سے یہ ٹکرا کر
مگر جو لوٹ کر آئے صدا پوری نہیں ہوتی

جناب اکرام اعظم صاحب

ikram azam

لے چلے ہو تو کہیں دُور ہی لے جانا مجھے
مت کسی بِسری ہوئی یاد سے ٹکرانا مجھے
اب مجھے تُو ہی بتا دونوں میں کیوں تجھ کو چُنوں
تُو نے رکھا نہ مجھے درد نے چھوڑا نہ مجھے

جناب الفت شاداب شیری صاحب

abas shyan

اب زمین و آسماں کے سب کناروں سے الگ
گڑھ رہا ہوں اپنی دنیا ان ستاروں سے الگ
گرد میری اڑ رہی ہے چاند تاروں میں کہیں
ترز اس نے پائی ہے سب خاکساروں سے الگ

جناب احیاء السلام بھوجپوری صاحب

جب کبھی درد کی تصویر بنانے نکلے
زخم کی ےتہہ میں کئی زخم پرانے نکلے
پہلے نفرت کی وہ دیوار گرائے احیاء
پھر محبت کا نیا شہر بسانے نکلے

جناب ندیم احمد شہزاد صاحب

nadeem ahmad shahzad

سب ہیں تلاشِ ذات کے رستے کی کھوج میں
لیکن سفر کے واسطے تیار کون ہے
خواہش ہے ایک بار گزر کے میں ہجر سے
دیکھوں مقامِ وصل کے اُس پار کون ہے

جناب عبدالسلام عاصم صاحب

abad u salam

کیوں نہیں ملتا کبھی شام کا سورج مجھ سے
میں بھی تو روز بھٹکتا ہوں تھکی شام کے ساتھ
اپنی آنکھوں میں سجے خواب بچانے کے لیے
کرچیاں دل کی اٹھاتا ہوں میں آرام کے ساتھ

جناب آصف سروش صاحب

syed asif sarwash

اِدھر جگنو تھے میری مٹھیوں میں
اُدھر سورج کھڑا گھبرا رہا تھا
چراغوں کی حفاظت کرتے کرتے
ہواؤں کی نظر میں آ رہا تھا

جناب آصف رشید اسجد صاحب

جنوں کی کار گزاری سمجھ سے باہر ہے
یہ دن میں نجم شماری سمجھ سے باہر ہے
اگر یہاں پہ تمھارا ہی حکم چلنا ہے
تو پھر یہ رائے شماری سمجھ سے باہر ہے

محترمہ ڈاکٹر ثروت زہرہ صاحبہ

dr sarwat zahra

راہ و رسم رکھنے کے بعد ہم نے جانا ہے
جس سے آشنائی ہے وہ تو ناشناسی ہے
دیکھ کر تمھیں کوئی کس طرح سنبھل پائے
سب حواس جاگے ہیں کیسی بد حواسی ہے

جناب ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی صاحب

dr sabahat asim

جو بھی کچھ دیکھتے ہیں وہ بھی کہاں دیکھتے ہیں
یہ حقیقت ہے کہ ہم صرف گماں دیکھتے ہیں
ہر طرح اس میں ہمیں فائدہ پہنچا صاحب
آپ کس طرح محبت میں زیاں دیکھتے ہیں

جناب ڈاکٹر رضوان علی صاحب

dr Rizwan ali

یہ کس خدا کے نام کا چرچا ہے ہر طرف
ہر ایک بُت کدے میں تو پتھر دکھائی دے
بجھتا چراغ شام کے سائے اداسیاں
اندر جو حال ہے وہی باہر دکھائی دے

جناب سید یعقوب تصور صاحب

syed yaqoob husain

اگر ہوا ہوں میں سَم گزیدہ کسی کو الزام دوں تو کیسے
میں اپنا ہی خون پی رہا ہوں میں اپنی ہی آستین میں ہوں
نبیﷺ و آلِ نبی کی نہجہِ معینہ پہ ہوں گامزن بس
مجھے نہ فرقوں میں بانٹ واعظ نہ سین میں نہ شین میں ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *