آن لائن اردو ڈاڑ کام: ڈاکٹر فخر عباس کے شعری مجموعے’’یہ جو لاہور سے محبت ہے‘‘سے منتخب اشعار

آن لائن اردو ڈاڑ کام: ڈاکٹر فخر عباس کے شعری مجموعے’’یہ جو لاہور سے محبت ہے‘‘سے منتخب اشعار

انتخاب: عبداللہ نعیم رسول

پیار ہوتا ہے وہ حقیقت میں
وہ جو ہوتا ہے بول چال کے بعد

خنجر بن کر چبھتا ہے انکار مجھے
تیرے منہ سے سننا ہے اقرار مجھے

تم بھی اسے جو دیکھ لو کہنے لگو غزل
جادو مرے کلام میں جس جادو گر کا ہے

مجھ سے ملنا ہے تو خلوت میں ہی ملنے آنا
بات یوں غیر کے ہوتی ہے کہاں ہوتے ہوئے

گھر نہیں پاس تو کیا جرم ہوا ہے مجھ سے
لامکاں وہ بھی تو ہے اپنا مکاں ہوتے ہوئے

میں ڈاکڑہوں، بھروسے کے اس تعلق سے
کسی بھی وقت مجھے تو جگا لیا گیا ہے

یہ اس طرح تو نہیں تھا کہ ہو گیا جیسا
یہ میرا ملک ہے لیکن یہ کھا لیا گیا ہے

زمیں اس لیے بھی حوالہ ہے میرا
فلک کا بھی ہے اک کنارہ زمیں پر

سوئے آسماں اُس کی ماں دیکھتی ہے
کہ بیٹا ہوا پارا پارا زمیں پر

بیٹھے تو ان پہ آ گری دیوار یک بہ یک
سمجھے تھے لوگ سایۂ دیوار ہے یہاں

میں اُس سے جو ملنے چلا جا رہا ہوں
کڑی دھوپ میں کوئی شدت نہیں ہے

نام تکبر سے پُر میرا
عجز میں ہے سلطانی میری

زخم بھرتے تھے مرے،زخم نئے لگنے سے
درد میرا مرے دردوں کی دوا کرتا تھا

چھیڑ دی ہے غزل نئی میں نے
دل کو میرے بھی ہے قرار کہاں

مجھ سا کوئی نہ مل سکا اُس کو
پھر وہ میرا ہی ہو گیا اک دن

ڈاکٹر فخر عباس

فقر کی رمزیں جب سے میں نے سمجھی ہیں
ٹاٹ مجھے کمخواب دکھائی دیتے ہیں

چاند کی صورت بنجر ہوں یہ ممکن ہے
چہرے جو مہتاب دکھائی دیتے ہیں

تنے کو لگے گُھن کی کس کو خبر ہے
یہاں لوگ شاخوں پہ پھل دیکھتے ہیں

تم جو روٹھے ہو تو محسوس ہوا ہے مجھ کو
مجھ سے کوئی بھی محبت نہیں کرنے والا

سنتا اُن کی بات نہیں جب کوئی تو
لوگوں کو پھر شور مچانا پڑتا ہے

ایک کبھی پھر ہو نہیں پاتے
فرقوں میں جو بٹ جاتے ہیں

دل میں عاشق کے ہے فتور میاں
حُسن والوں کا کیا قصور میاں

ہم لوگ صدا دے کے گزر جائیں گے یونہی
ہوتے ہیں کہاں سارے گدا مانگنے والے

زندگی رات کو جب مجھ سے خفا ہوتی ہے
موت سے ہاتھ ملاتا ہوں میں سو جاتا ہوں

سو کتابیں بھی سمٹ سکتی ہیں بس اک شعر میں
شاعری میں ہے خدا نے یہ ہنر رکھا ہوا

دورِ غالبؔ میں ہوا کرتے تھے قاصد آدمی
فیس بُک کو اب تو ہے اک نامہ بر رکھا ہوا

یہ جو لاہور سے محبت ہے
یہ کسی اور سے محبت ہے

ایک تہذہب ہے مجھے مقصود
مجھ کو اک دور سے محبت ہے

جیسے پتا چلا اُسے نوکر ہوں شاہ کا
کیسا عجیب شخص تھا غصے سے بھر گیا

تم سے رشتہ ہی نہیں تو یاد اتنی کس لئے؟
کر رہا ہے دل مرا فریاد اتنی کس لئے

وہ نہ دیکھے تو اُس کی مرضی ہے
لمحہ لمحہ دکھائی دیتا ہوں

قتل کر کے وہ سو نہیں پایا
بن کے سپنا دکھائی دیتا ہوں

بے یقینی کا ہے غبار بہت
پھر بھی تُم پر ہے اعتبار بہت

عشق سپنوں سے کرنے والا ہوں
اچھی آنکھوں پہ مرنے والا ہوں

آن لائن اردو ڈاڑ کام: ڈاکٹر فخر عباس کے شعری مجموعے’’یہ جو لاہور سے محبت ہے‘‘سے منتخب اشعار

صحرا میں تجھ کو بھوک سے مرتے دکھائی دیں
جنت سے اپنے شہر کی باہر نکل کے آ

میک اپ کے باوجود ہیں اتنی اُداسیاں؟
تھوڑا خوشی کا رنگ بھی چہرے پہ مل کے آ

چھاؤں دیتا ہے جو زمانے کو
اس کے سر پر ہی سائبان نہیں

اتنی پیاری ہو خود غزل ہو تم
لاکھ شعروں کا اک بدل ہو تم

حور جیسی ملی ہو دنیا میں
صبر میں نے کیا تھا پھل ہو تم

نازک بدن ہے زندگی لیکن کڑے ہیں غم
کیسے اٹھاؤں میں انہیں مجھ سے بڑے ہیں غم

ڈاکٹر فخر عباس

پھول چہرے سدا یوں کھلے ہی رہیں
اپنے بچوں سے ہر غم چھپانے لگا

لے کے بیوی الگ اُس کو رہنے لگی
ماں کا بیٹا اگر کچھ کمانے لگا

اپنی مٹی کا لطف کیا جانے
جس کے کپڑے خراب ہوتے ہیں

اپنے مٹی میں عشق شامل ہے
ہم جو اہلِ چناب ہوتے ہیں

اتنا آساں نہیں تمہیں ملنا
لاکھ اس میں بہانے لگتے ہیں

ماں کے چہرے سے یاد آتا ہے
جب خدا کو بھلانے لگتے ہیں

بچوں کو دھمکاتے وقت یہ سوچا ہے؟
تیری باتوں سے وہ کتنا ڈر لیتے ہیں

روک لیا کرتا ہوں میں طوفانوں کو
یعنی اپنے دل کے سب ارمانوں کو

تارے توڑ کے لا سکتا ہوں
اس کا دل بہلا سکتا ہوں

واعظ تُو کس گمان میں رہتا ہے یار چھوڑ
تُو اُس کو دیکھ لے گا ترا دل بھی کرے گا

تم ہو تازہ غزل اک نئی بات ہو
حسنِ منظوم ہو عکسِ نغمات ہو

پیاری آنکھوں والی تُو نے
چھین لیاد لدار کسی سے

ڈاکٹر فخر عباس

کتنی ماؤں کی ہیں اب تک گودیاں ویراں ہوئیں
کس قدر اس ملک میں ہیں خوبرو مارے گئے

آنکھوں کے راستے بھی بیاں دل کا حال ہو
مل کر جو بات ہو گی فخر فون پر نہیں

مری حیات میں ایسا بھی درد مند آیا
جو عیب تھا مرا اُس کو بڑا پسند آیا

میں نہ بن پایا ترا پر تُو تو ہو جا اور کی
مت اکیلے رہ فضا اچھی نہیں لاہور کی

تم جو لاہور اب نہیں آتے
دل کہیں اور لگ گیا ہے کیا؟

مجھے ٹھکرا دیا تُو نے فقط شاعر سمجھ کر
مری نظمیں ترے بچے سلیبس میں پڑھیں تو پھر؟

وقت سے پہلے جھانک رہی ہے چاندنی میرے بالوں کی
سیل سے لے کر پہن رہا ہوں کپڑے کتنے سالوں سے

کوئی لاہور کو بچا لو یار
اس کو پیرس بنانے والے ہیں

مرمریں ہاتھ لے کے آئیں ہیں
پھول بھی چوم کر لیے جائیں

مُجھ پہ غصہ تُو کیا اُتارے گا
تُو مری خامشی سے ہارے گا

ڈاکٹر فخر عباس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *