ڈاکٹر بشیر بدر کے شعری مجموعے’’امیج‘‘سے منتخب اشعار

ڈاکٹر بشیر بدر کے شعری مجموعے’’امیج‘‘سے منتخب اشعار

انتخاب: عبداللہ نعیم رسول

شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشہ ہے
جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے

ہوائیں روئیں گی سر پھوڑ لیں گی ان پہاڑوں سے
کبھی جب بادلوں میں چاند کی ڈولی رواں ہو گی

سمندر بوڑھے ہو جائیں گے اور اک فاحشہ مچھلی
ہمارے ساحلوں اور جنگلوں کی حکمراں ہو گی

بدن کو چھوڑ کے جانا ہے آسماں کی طرف
سمندروں نے ہمیں یہ سبق پڑھایا تھا

تمام عمر مرا دم اسی دھوئیں میں گُھٹا
وہ اک چراغ تھامیں نے اسے بجھایا تھا

مرے عزیز مجھے قتل کر کے پھینک آتے
بھلا ہوا کہ مرے لب مری صدا سے لڑے

سنہری مچھلیاں بادل میں کوند جاتی ہیں
بدن وہی ہے جو بندش میں بھی قبا سے لڑے

بھر جائیں گے آنکھوں میںآنچل سے بندھے بادل
یاد آئے گا جب گل پر شبنم کا بکھر جانا

یہ ہوا نہ جانے کہاں کہاں بھری دوپہر میں لیے پھرے
مرے برگِ دل ذرا ٹھہر جا تجھے آنسوؤں سے میں سینچ لوں

وارثِ ملک غزل روئے تو رو لینے دو
غسلِ اشکیں سے ہوا کرتی ہے تطہیرِ سخن

ہم جو مٹ جائیں گے مٹ جائے گی تہذیبِ غزل
اپنی تقدیر میں پوشیدہ ہے تقدیرِ سخن

کچھ تو میں بھی بہت دل کا کمزور ہوں
کچھ محبت بھی ہے فطرتًا بد گماں

دینار خوب برسیں گے آنگن میں ساری رات
میں خواب کے شجر کی وہ شاخیں ہلاؤں گا

بس گئی ہے مرے احساس میں یہ کیسی مہک
کوئی خوشبو میں لگاؤں تری خوشبو آئے

چاہے کوئی موسم ہو دن گئی بہاروں کے پھر سے لوٹ آئیں گے
ایک پھول کی پتی اپنے ہونٹ پر رکھ کر میرے ہونٹ پر رکھ دو

میرا تن درختوں میں اس لئے جھلستا ہے سخت دھوپ سہتا ہے
کیا عجب تم آ نکلو اور میرے کاندھوں پر تھک کے اپنا سر رکھ دو

وہ نہیں ہے تو اس کی آس رہے
ایک جائے تو ایک پاس رہے

اس کی زلفیں بہت گھنیری ہیں
ایک شب کا قیام اور سہی

ملبے کے نیچے آ کر معلوم ہوا
سب کیسے دیوار گِرا کر چلے گئے

بڑی آرزو تھی مجھ سے کوئی خاک رو کے کہتی
اُتر آ مری زمیں پر تُو ہی میرا آسماں ہے

آئینوں کا کوئی قصور نہیں
ان میں اپنے ہی عکس ہوتے ہیں

dr-basheer-badar

پھر ان کے نیچے درندوں کے نام کس نے لکھے
ہمیں یقین ہے یہ سب ہمارے چہرے ہیں

بدن کے پیڑ کو خود اس کی شاخ کاٹے گی
یہی تراش زمیں کو نیا شجر دے گی

چڑھا کے پیٹھ پہ بکری کے بچے گھومیں گے
یہ دنیا اب ہمیں سرکس کا شیر کر دے گی

ہم کو بھی اپنی موت کا پورا یقین ہے
پر دشمنوں کے ملک میں اک مہ جبین ہے

سر پر کھڑے ہیں،چاند ستارے بہت مگر
انسان کا جو بوجھ اٹھا لے زمین ہے

چھوٹے قد و قامت پہ ممکن ہے ہنسے جنگل
اک پیڑ بہت لمبا ہے اس کو گرا دینا

اے شوخ غزالو !یہاں دو پھول تو رکھ دو
اس قبر میں خوابیدہ محبت کا خدا ہے

چاند کا داغ دیکھنے والو!
اپنے دامن کے داغ بھی دیکھو

اُس کی قدرت میں نہیں رُک کے کوئی بات سنے
وقت آواز ہے آواز کو آواز نہ دو

میں اسی کھوج میں بڑھتا ہی چلا جاتا ہوں
کس کا آنچل ہے جو کوہسار پہ لہراتا ہے

سانپ کے بوسے میں کیسا پیار تھا کہ فاختہ
پھڑپھڑا کر اک صدائے آسمانی ہو گئی

پھل پک چکا ہے شاخ پہ گرمی کی دھوپ میں
ہم اپنے دل کی آگ میں تیار ہو گئے

یہ کہیں شہرِ آرزو تو نہیں
چلتے چلتے ٹھہر گئے تارے

سُنا ہے انھیں بھی ہوا لگ گئی
ہواؤں کا رخ جو بدلتے رہے

اتنی سیاہ رات میں کس کو صدائیں دوں
ایسا چراغ دے جو کبھی بولتا بھی ہو

بادل اٹھا تھا سب کو رُلانے کے واسطے
آنچل بھگو گیا کہیں دامن بھگو گیا

اگر ایسے گئے تو زندگی پر حرف آئے گا
ہواؤں سے لپٹنا تتلیوں کو چوم کر جانا

سر سے چادر بدن سے قبا لے گئی
زندگی ہم فقیروں سے کیا لے گئی

میں سمندر کے سینے میں چٹان تھا
رات اک موج آئی بہا لے گئی

سینے میں آگ،آگ میں آہن بھی چاہیے
رم جھم برستا باتوں سے ساون بھی چاہیے

اب غم سے کیا ناطہ توڑیں
ظالم بچپن کا ساتھی ہے

گاؤں چھوڑا تو کئی آنکھوں میں کاجل پھیلا
شہر پہنچا تو کسی ماتھے پہ جُھومر جُھوما

بانسوں کے جنگلوں میں وہی تیز بُو ملی
جن کا ہماری بستیوں میں کاروبار ہے

شیشے کا تاج سر پہ رکھے آ رہی تھی رات
ٹکرائی ہم سے رات ستارے بکھر گئے

ہوا کی آنکھ نہیں،ہاتھ اور پاؤں نہیں
اسی لیے وہ سبھی راستوں پہ چلتی ہے

شاخ تھی کمزور شاید اس لیے
پتیوں پر پتیاں مرنے لگیں

یہ تم سے کس نے کہا رات سے میں ڈرتا ہوں
ضرور آئے مرے بازوؤں میں سوئے بھی

ان ہی کے اشاروں پر یہ رات ملی ہم کو
جن چاند سے چہروں کا سایہ بھی سنہرا ہے

چپک گئے مرے تلووں سے پھول شیشے کے
زمانہ کھینچ رہا تھا برہنہ پا مجھ کو

تُو ایک ہاتھ میں لے آگ ایک میں پانی
تمام رات ہوا میں جلا بجھا مجھ کو

وہ مصرعۂ آوارہ دیوانوں پہ بھاری ہے
جس میں ترے گیسو کی بے ربط کہانی ہے

گلاب کس لیے لب کو سجائے سرخی سے
ہرن کی آنکھ میں کاجل کی ہے ضرورت کیا

ہزاروں پتے زمیں پر شہید ملتے ہیں
خزاں کی دھوپ میں نیزہ کوئی چمکتا ہے

وہ بالکونی میں آئے تو راستہ رُک جائے
سڑک پہ چلنے لگے تو ہمارے جیسا ہے

تم مری زندگی ہو یہ سچ ہے
زندگی کا مگر بھروسہ کیا

دو جھیلیں اس کی آنکھوں میں لہرا کے سو گئیں
اس وقت میری عمر کا دریا چڑھا نہ تھا

کہاں سے ذہن میں اک دم مرے خیال آیا
گلاس خالی ہے اس میں کوئی لہو بھر دے

کُھلے سے لان میں سب لوگ بیٹھیں چائے پئیں
دعا کرو کہ خدا ہم کو آدمی کر دے

مرے مزاج کی یہ مادرانہ فطرت ہے
سویرے ساری اذیت میں بھول جاؤں گا

چونکے تو یہ طلسمِ جہاں ٹوٹ جائے گا
عالم تمام حلقۂ زنجیرِ خواب ہے

وہ خشک ہونٹ ریت سے نم مانگتے رہے
جس کی تلاش میں کئی دریا گزر گئے

ساحل پہ رُک گئے تھے ذرا دیر کے لیے
آنکھوں سے دل میں کتنے سمندر اُتر گئے

تم چھت پہ نہیں آئے میں گھر سے نہیں نکلا
یہ چاند بہت بھٹکا ساون کی گھٹاؤں میں

دادا بڑے بھولے تھے سب سے یہی کہتے تھے
کچھ زہر بھی ہوتا ہے انگریزی دواؤں میں

شبنم ہوں،سرخ پھولوں پہ بکھرا ہوا ہوں میں
دل موم،اور دھوپ میں بیٹھا ہوا ہوں میں

جگنو چمکے تو میں چونکوں،تارا نکلے تو میں سہموں
جیسے ہر کوئی میرے ہی گھر آگ لگانے والا ہے

زندگی تُو مجھے پہچان نہ پائی لیکن
لوگ کہتے ہیں کہ میں تیرا نمائندہ ہوں

ہزاروں میل کا منظر ہے اس نگینے میں
ذرا سا آدمی دریا ہے اور صحرا بھی

آج تو اپنی خامشی میں بھی
تیری آواز پا رہے ہیں ہم

دنیا سمجھ رہی تھی کہ اب راکھ ہوچکے
کیسی ہوا چلا دی چہکنے لگے ہیں ہم

وہ غزل کی ایک کتاب تھاوہ گلوں میں ایک گلاب تھا
ذرا دیر کو کوئی خواب تھا،جو گزر گیا سو گزر گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *