Dour E Haazir Ke Shouraa Ke Mashhoor Ashaar

Dour E Haazir Ke Shouraa Ke Mashhoor Ashaar

دورِ حاضر کے شعراء کے مشہور اشعار

مختار تلہری صاحب
کدھر سے آئی ہے آواز ناشناس ابھی
یقیں میں لپٹا ہوا احتمال کس کا ہے

تمہاری بات سر آنکھوں پہ لیکن
ہمارے ساتھ کچھ مجبوریاں ہیں

ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی صاحب
کسی کا ہاتھ پکڑ تا رہا ہواؤں کو
تماشہ دیکھ رہے تھے کھڑے کنارے لوگ

تیری انگڑائی دیکھ کر بجلی
انگلی دانتوں تلے دباتی ہے

ڈاکٹر ساجد شاہ جہانپوری صاحب
منّتیں کرتا ھوں تیری ابھی دامن نہ چھڑا
اے مِری عمرِ رواں تھوڑی وفا اور سہی

Dour E Haazir Ke Shouraa Ke Mashhoor Ashaar

تصوّرات کی حد سے گزر گیا ھوں میں
اب ایسا لگتا ھے مجہکو کہ مر گیا ھوں میں

کاش وہ دن بھی کبھی آئے کہ جس دن ساجد
پاؤں میں فن کے یہ سرحد نما زنجیر نہ ھوں

مسرّتوں کے وھاں گُل کبھی نہیں کھلتے
جہاں پہ ھات تو ملتے ھوں دل نہیں ملتے

whatsapp-image-2017-03-08-at-4-21-53-pm

ڈاکٹر حناء امبرین
جب تک وہ سلامت ہے عداوت کا مزا ہے
دشمن کو کبھی جان سے مارا نہیں کرتے

آفتاب ترابی صاحب
جدا ہیں نام مگر کام ایک جیسا ھے
عدو کو دیکھ لیا ،مہرباں کو دیکھ لیا

Dour E Haazir Ke Shouraa Ke Mashhoor Ashaar

آفتاب ترابی صاحب
بات کر لیتا ھوں ماں سے فون پر
جب خدا سے رابطہ ھوتا نہیں

سلیمان جاذبؔ صاحب
کیسے رستے ہیں نگر کیا ہے
زندگانی کا سفر کیسا ہے

تم تو اس گاؤں سے ہو آئے ہو
گاؤں کیسا ہے وہ گھر کیسا ہے

یہ بھی اس نے نہیں پوچھا جاذبؔ
حالِ دل زخم ِ جگر کیسا ہے

توصیف ترنل صاحب
وہ اکیلا ہر کسی کا ہو گیا
یوں تو میں اندر سے تنہاہو گیا

مطلبی نکلے گا کیا معلوم تها
پیار میں مجھ کوبهی دهوکہ هوگیا

Shouraa Ke Mashhoor Ashaar

Dour E Haazir Ke Shouraa Ke Mashhoor Ashaar

سرفرازاحمدسحر صاحب
الجھا ہے جو انکار سے اقرار مسلسل
اک حشر بپا ہے پسِ دیوار مسلسل

ناموس قلم کی بھی سحرؔ بکنے لگی ہے
بازار میں جاری ہے یہ بیوپار مسلسل

افتخار راغبؔ صاحب
اور خفا ہو جائے وہ راغبؔ مجھ سے
جب بھی جتاﺅں پیار کوئی شکوہ کرکے

شفاعت فہیم صاحب
ذہن خالی ہے آجکل ایسے
جیسے کھو جائیں جیب سے پیسے

کسی کا غم غلط کرنے کی زحمت کون کرتا
محبت کس کو کہتے ہیں محبت کون کرتا ھے

Shouraa Ke Mashhoor Ashaar

Dour E Haazir Ke Shouraa Ke Mashhoor Ashaar

جعفر بڑھانوی صاحب
ہر ہفتے بڑھیں دام نہ گر پیٹرول و گیس کے
گھبراہٹ سی ھونے لگتی ھے ٰ رک جائے نہ وکاس

ہم نے دیکھے ہیں ہم سفر ایسے
لوٹ لیتے ہیں راہبر بن کے

امین اڈیرائی صاحب
زندگی رہ گزار زنداں تھی
ہم گذر آئے قیدیوں کی طرح

چھوڑ جاتے ہیں دوستو اک دن
سکھ بھی ہوتے ہیں بیٹیوں کی طرح

نعیم حنیف صاحب
پکار اٹھا ھوں میں اللہ جب بھی وجد میں آکر
تو گونجی ہے صدا ھُو کی زمیں اور آسمانوں میں

Mashhoor Ashaar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *