Dil Nashi Koi Aur Tha By Zara Faraz

dillnashi koi aur tha

دلنشیں کوئی اور تھا

تحریر: زارا فراز

پورے چھ گھنٹے بعد اسے ہوش آیا، اس نے لرزتی ہوئی پلکیں اٹھائیں۔ سب سے پہلے جو چہرہ نظر آیا وہ زید کا تھا، کتنے بے تاب تھے وہ اس کے لئے، آنکھیں کھلتی دیکھتے ہی لپک کر پاس آئے، بے قرار لہجے میں پوچھا “عظمی کیسی ہو؟ کہتے ہوئے کمزور ہاتھ تھام لیا ” جی الحمدللہ ” نقاہت کی وجہ سے اسکی آواز لڑکھڑا نے لگی۔

تمہیں مبار ک ہو، ہمارا بیٹا ہوا ہے” زید مسکراتے ہوئے اسکے رخسار چھو رہے تھے تب اس نے ذرا سی گردن گھمائی، ایک بالکل ننھا وجود، اسکے جسم کا حصہ، اسکے جگر کا ٹکرا اسکے پہلو میں پڑا، اپنی بے حد باریک سی آواز میں روتا ہوا، اسے اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ اٹھنے کی نا کام سی کوشش کرنے لگی تب ہی سسٹر آئی اور سہارا دے کر اسے بیٹھا دیا۔ گو کہ اسے تکلیف بہت تھی مگر اسکی ممتا ننھے سے وجود کو آغوش میں لینے کے لیے بیتاب تھی۔

زید نے بچے کو اٹھا کر اسکی گود میں ڈال دیا، مگر خود بھی بچے کو تھامے رہے کیوں کہ عظمی پوری طرح سے اس پھول سے بچے کو سنبھالنے میں ناکام ہو رہی تھی، زید مسکراتے ہوئے اسے محبت پاش نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ نقاہت کے باوجود بھی اسکے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکان تھی۔ وہ بچے کو بڑے پیار سے تک رہی تھی، اور ننھا وجود مسلسل روئے جا رہا تھا۔ اچانک اس کی ممتا نے جوش مارا اور اس نے بچے کو اپنے سینے سے لگالیا۔ ماں کی چھاتی سے لگ کر وہ ایک دم چپ ہو گیا۔ زید دھیرے سے ہنسے اور رخ پھیر لیا، وہ شرما گئی۔

dillnashi koi aur tha

“تم نے کیا سوچا؟ کیا نام رکھو گی؟ “” آپ کو جو پسند ” اس نے د ھیرے سے کہا ” بیٹی ہوتی تو اپنی پسند کا رکھتا، اب اسکا نام تم ہی رکھو گی” وہ انکی محبت پر مسکرا دی…. زید کے موبائل پر کسی کا فون آیا وہ وارڈ روم سے نکل کر باہر چلے گئے وہ بچے میں مشغول ہوگئی، نام تو اس نے سوچ ہی رکھا تھا مگر زید نے اسے نام رکھنے کا اختیار دے کر اعزاز بخشا تھا۔ “طلحہ… اگر اس نام سے خوبصورت کوئی اور نام ہوتا تو وہی رکھتی” وہ خود سے ہم کلام تھی، اندر آتے زید نے اس کی بڑبڑاہٹ سن کر دروازے پر ہی رک گئے۔

“طلحہ…؟ مجھے معلوم تھا تم یہی نام رکھو گی اور نہ بھی رکھتیں تو میں رکھ دیتا” اس نے حیرت اور اشتیاق سے اپنے بے حد خوبرو شوہر کو دیکھا، جیسا انکا حسن تھا ویسا ہی ان کا ظرف بھی … وہ انہیں ایسی نظر سے دیکھ رہی تھی جیسے عمر میں پہلی بار دیکھا ہو، “طلحہ… ” یہ نام اسکی کتاب زندگی کے پہلے ورق پر بہت ہی روشن حروف میں سچے جذبوں کے ساتھ لکھا گیا تھا۔

وہ جذبے وقت کے ساتھ محبت کے رنگ میں ڈوبتے گئے… وہ رنگ جو پھولوں سے چرایا جائے اس میں خوشبو کا ہونا لازمی تو ہے اور خوشبو کو کسی دور یا کسی جنم میں بھی قید نہیں کیا جا سکا… سو اسکی محبت کی خوشبو بھی سارے خاندان میں پھیل گئی… “طلحہ اور عظمی” “عظمی اور طلحہ”عظمی اس شور سے ڈر گئی مگر طلحہ سارے کزنز کے شوخ جملوں کا جم کر مقابلہ کرتا اور ٹکر کا جواب دیتا، آخر سارے کزنز نے ہتھیار ڈال دئیے اور بزرگوں تک دونوں کی نسبت کی بات لے کر پہنچے پھر ان کے درمیان لمحوں میں منگنی سے لے کر شادی تک کا فیصلہ ہو گیا۔

طلحہ خوش اورعظمی مطمئن تھی۔ مگر اب دونوں کی ملاقات میں سارے کزنز نے پہرے لگا دئے۔ طلحہ تڑپ کر رہ گیا مگر عظمی محظوظ ہوتی رہی۔ ’’ ظالم لڑکی تم ہی ملنے کی راہ نکالو ناں ‘‘اسکے موبائل پر طلحہ کا ٹیکسٹ تھا، وہ ہنس پڑی اور اسے رپلائی کر دیا۔ زمستان کی یخ رات اور پورا چاند، سرگوشیوں میں محو تنہائی، خوابیدہ ماحول، چاروں سمت اپنا حسن بکھیر رہے تھے، وہ چھت کے اوپر کھلے آسمان کے نیچے گرم کپڑوں میں ملبوس خود کو سردی سے بچاتا اپنی جان حیات کا بے صبری سے انتظار کر رہا تھا۔

dillnashi koi aur tha

کھٹ… کھٹ… کی آہٹ سنائی دی، وہ سیڑھیوں پر سے ہوتی ہوئی سامنے سے آتی دکھائی دی اور پھر اسکے قریب،پھربھی درمیان میں کافی فاصلہ رکھے ہوئے

“السلام علیکم ” ” وعلیکم السلام… بہت انتظار کروایا یار تم نے” طلحہ نے تھوڑی ناراضگی جتائی، سوری سب کے سونے کا انتظار کر رہی تھی، یہ کہو اتنی سردی میں چھت پر کیوں بلایا؟ اف ادھر تو کافی سردی ہے، میں سردی سے مر رہی ہوں” جواب دیتی ہوئی وہ سچ مچ بری طرح کانپ رہی تھی۔

مرنے کی بات مت کرو عظمی… اسکی آنکھیں اندھیرے میں جھلملا اٹھی۔ اس نے اپنا گرم کوٹ اتارا اور دھیرے سے اس کے نازک شانے پر ڈال دیا ” بس تمہیں قریب سے دیکھنے کے لئے بلایا ہے۔ کتنے دن ہو گئے تمہیں پاس سے دیکھے ہوئے اب یہ دوری سہی نہیں جاتی دل چاہتا ہے آج ہی بھگا لے چلوں۔ ’’دھیرج … شادی کو دن ہی کتنے رہ گئے ہیں‘‘

زندگی اتنی بھی اجازت نہ دے تو عظمی تم کیا کرو گی، میرے بغیر رہ پاؤ گی؟ ” نا جانے اس لمحے طلحہ کے لہجے میں ایسا کیا تھا کہ وہ پورے وجود سے لرز گئی۔ ” میں جاؤں نیچے؟ “نا چاہتے ہوئے بھی وہ ناراض ہو گئی، اور پلٹ کر جانے کے لئے قدم اٹھائے ” ٹھہرو یار… ” اس نے پیچھے سے اس کی کلائی تھام لی وہ رکی ضرور مگر پلٹ کر نہیں دیکھا جاؤ مگر ناراض تو نہیں ہو ناں ؟؟‘‘ وہ اس کے روبرو تھا، وہ بس نفی میں سر ہلا پائی۔

مسکراؤ پہلے پھر جانے دوں گا” اسکی کلائی اب بھی اس کے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں تھی، وہ ناراض ناراض سی مسکراتی ہوئی سیدھے اسکے دل پر وار کر رہی تھی، اس نے کلائی چھوڑ دی، “اب جاؤں؟ ” وہ اس کے بغل سے گزرکر جانے کو تھی “چلی جانا… پہلے یہ تو بتاؤ مجھ سے کتنی محبت کرتی ہو؟ ” ہر دفعہ کا دہرایا ہوا سوال، مگر اس سوال کے بغیر اس کی ملاقات مکمل ہو جاتی یہ ناممکن تھا۔

dillnashi koi aur tha

بہت زیادہ” اس جواب نے اسکے اندر دور تک طمانیت پھیلا دی تھی، وہ زمین پر بہت آہستہ آہستہ اپنے پیر کا وزن رکھتے ہوئے سیڑھیاں اترنے لگی طلحہ اسکے پیچھے تھا آخری سیڑھی پر اس کا کورٹ اتار کر اسے واپس کرتے ہوئے شکریہ کہا اور اپنے کمرے کے جانب مڑ گئی، طلحہ بھی محتاط قدموں سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔

وہ صبح عام صبحوں سے ذرا بھی مختلف نہ تھی۔ وہی مرغوں کی بانگیں، فجر کے وقت مؤذن کی اذان…وہی چڑیوں کی چہچہاہٹ … وہی طلوع آفتاب سے پہلے کا دلنشیں منظر … سب کچھ روز کے معمول کی طرح تھا۔ مگر ایک چراغ سحر، رات کے جانے کس پہر بجھا، جس نے ہر آنکھ تلے اندھیرا کر دیا، سارے گھر میں کہرام مچ گیا۔ آہ و فغاں کی دردناک صدائیں بلند ہونے لگیں، ہر کسی کے لہجے میں بے یقینی کے ساتھ غم کی کیفیت، ہر کوئی اس کے کمرے کی طرف دوڑتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔

دیکھتے ہی دیکھتے سارا گھر لوگوں سے بھر گیا… ہر کسی کی زبان پر ایک ہی سوال۔۔۔ کیسے موت ہوئی…؟ ” ہم نےاسے کل شام تک اچھا بھلا دیکھا تھا…… اور آج؟ اس کی موت کا یقین نہیں ہوتا” “میت کب اٹھے گی؟ “کب ہوا انتقال؟ ” وہ کتنا دلخراش منظر تھا جب اسکی میت اٹھائی جانے لگی… زور زور سے کلمہ طیبہ کی گونج، اور سسکیوں کی آوازیں اپنوں اور اہل بستی کا دل چھلنی کر رہی تھی، آنکھیں اشک بار، ہر چہرہ پر نم۔ مگر دو آنکھیں تھیں بالکل خشک اور ساکت “عظمی آخری دیدار کر لو بیٹی… طلحہ کا جنازہ اٹھایا جا رہا ہے۔

محبوب کا دیدار آخری تھا وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس بے جان وجود کو دیکھ رہی تھی اچانک ہی اس نے ایک دل خراش چیخ ماری، اور پورے قد سے لہراتے ہوئے گرنے لگی اس وقت جو دو بازوں نے اسے تھاما وہ زید کے بازو تھے۔ عظمی بیہوش ہو چکی تھی مگر طلحہ اپنے آخری سفر کو چل پڑا اسکی خاطر بھی نہ رکا تھا وہ پورے گھر میں خاموشی اور اداسی نے ڈیرہ ڈال دیا۔ سبھی کا دردمشترک تھا، ہر کوئی ایک دوجے سے چھپ کر روتا مگر ایک دوسرے کے سامنے مضبوط بننے کی کوشش کرتا۔

عظمی کے سارے کزن اسکا خاص خیال رکھتے اسے ایک پل بھی تنہا نہیں چھوڑتے، اور سب سے زیادہ زید اسکا خیال رکھتے وہ روتی تو اپنی انگلیوں کی پوروں سے اسکے رخسار کے سارے آنسو چن لیتے، وہ کھانا نہیں کھاتی تو اپنے ہاتھ سے لقمے بنا بنا کر اس کے منہ میں ڈال کر کبھی زبردستی اور کبھی پیار سے کھلاتے… مگر خود وہ کھانا کھانا بھول جاتے عظمی کی حالت دیکھ کر سگے بھائی کا غم تازہ ہو جاتا، وہ خود تنہائی میں جا کر پھوٹ کر روتے تب انہیں چپ کرانے اور دلاسہ دلانے والا کوئی نہیں ہوتا… تب ان کے رخسار سے آنسو کوئی نہیں پونچھتا۔

اس غم ناک سانحے کے بعد زید عظمی کے بہت زیادہ قریب ہوگئے، دونوں ہی کا غم مشترک تھا مگر عظمی اس بات سے بے نیاز آنسو بہاتی رہتی، مگر کب تک… ایک دن آنسوؤں کا سمندر بھی خشک ہو گیا… بس دو خوبصورت اور اداس آنکھیں ہی رہ گئی… جو اپنی. جانب دیکھنے والوں کا دل لرزا دیتی۔

پھر وہ دن بھی اسکی زندگی میں آیا، جب اسے بڑی سادگی اور خاموشی کے ساتھ ایجاب وقبول کے مرحلے سے گزار کر پھولوں کے سیج پر بٹھا دیا گیا، پھولوں کے رنگ اور خوشبو اس کے دل میں کوئی بہار نہ لا سکے… وہ آنکھوں میں حزن کا عکس لئے۔ تمام جذبات سے عاری… ٹھنڈی عورت کی طرح سیج پر بیٹھی تھی۔ جب زید نے اسکے گھونگھٹ اٹھا کر رونمائی کا تحفہ پیش کیا، وہ تب بھی شاک کی سی کیفیت میں تھی۔ خالی خالی نظروں سے پیش کئے گئے تحفے کو دیکھ رہی تھی۔ خوبصورت سی فنگر رنگ اسکے داہنے ہاتھ کے تیسری انگلی میں بالکل فٹ آئی تھی۔

“میں نے تمہارے لئے گولڈ کی رنگ بنائی ہے”اسکے کانوں میں طلحہ کی آواز آئی “دکھاؤ مجھے” “ابھی نہیں… جب تم میری ہو جاؤ گی، تب ” وہ اسکی ہو کر بھی کبھی اسکی نہ ہو سکی تھی… ایک درد ایک کسک دل میں جاگی۔ ایک آنسو اس کی آنکھ سے ٹپکا جو زید کے ہاتھ کے پشت پر جذب ہو گیا اس لمحہ زید نے اسے چونک کر دیکھا اور پھر ایک دم ہی اپنے بازوں میں بھر لیا، زید کے بس میں نہیں تھا کہ اسکے سارے درد سمیٹ لیتے۔

شادی سے پہلے زید اسکا جس طرح خیال رکھتے تھے شادی کے بعد اور بھی زیادہ محبت اور خیال رکھنے لگے، بدلے میں وہ ان سے اکھڑی اکھڑی رہتی، قریب آتے تو جھڑک دیتی محبت کی بات کرتے تو بے دلی سے سنتی، یاموبائل پر لگی رہتی، انکی موجودگی میں وہ کمرے میں کم سے کم آتی اورکچن میں زیادہ وقت گزار دیتی… زید اسکے احساسات کو سمجھ رہے تھے۔ انہیں یقین تھا وقت کے ساتھ ان کی بے لوث چاہت اسے بدل دے گی،

مگر وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ عظمی ان سے سخت بد گمان ہے، وہ سمجھتی تھی کہ زید کی محبت خالص نہیں ہے اس میں خود غرضی شامل ہے، وہ طلحہ کی محبوبہ تھی، سب کچھ جاننے کے باوجود بھی اس کے بھائی نے طلحہ کے دنیا سے جانے کے بعد زبردستی اسے نکاح کر لیا، شادی سے پہلے کی ہمدردی، اپنائیت سب ڈھونگ لگنے لگی تھی، اسے لگتا شادی رچانے کے مقصد سے وہ اسے اپنے قریب کر رہے تھے… وہ تو تمام عمر طلحہ کی یادوں کے ساتھ جینا چاہتی تھی۔

زید نے نکاح کر کے اسکے آنکھوں سے خوابوں کے شہر محبت کو اجاڑ دیا تھا… وہ اس کے مجرم تھے۔ وہ اب بھی انکی قربت سے بھاگتی تھی وہ اب بھی ان سے بیزار تھی، اگر اسے شوہر کے حقوق کا خیال نہ ہوتا تو کبھی اپنا آپ ان کے سپرد نہ کرتی، مگر انکے پہلو میں ہو کر بھی خیالوں میں کہیں اور ہوتی تھی، اسے لگتا اس کا دل بھی طلحہ کے ساتھ دفنایا جا چکا ہے، زید اسکا سرد رویہ محسوس تو کرتے مگر شکایت نہیں کرتے، وہ اچھے وقت کے انتظار میں تھے۔

عظمی ہر کام اپنی مرضی سے کرتی ان سے پوچھنا بھی ضروری نہیں سمجھتی، مگر جب اسکے اندر نئے وجود کا ادراک ہوا۔ وہ خود بخود بدلنے لگی۔ بہت زیادہ خیال رکھنے والے زید اسے تھوڑے تھوڑے اچھے لگنے لگے، دل کا غبار تو ابھی صاف نہیں ہوا تھا مگر اسکے روئیے میں نرمی آ گئی تھی، کوکھ بھرنے کے اس ادراک نے شرسار کر دیتا تھا وہ اب ذرا ذرا مسکرانے لگی تھی، زید کے لئے اتنا ہی کافی تھا۔ وہ قدم قدم پر اس کا خیال رکھتے۔ اور جب حمل کے تینوں موسم بیت گئے اور ان کے درمیان ایک ننھے وجود کا اضافہ ہوا… ننھے طلحہ کا۔

عظمی ہمارا طلحہ بالکل اپنے چاچو پر گیا ہے ناں… “زید کی آواز پر وہ ایسے چونکی جیسے کسی گہری نیند سے جاگی ہو، اس نے غور سے دیکھا تو حیران رہ گئی وہ سچ مچ طلحہ کی صورت سے بہت مشابہت رکھتا تھا وہی نین نقوش، بالکل ایک جیسی آنکھیں،، ہونٹ اور پیشانی… وہ بے اختیار اسے بوسے لینے لگی۔ زید اسے دیر تک تکتا رہا، طلحہ کو پا کر وہ بے حد خوش تھی، وہ اب پہلے والی عظمی تھی ہی نہیں، اس نے خود کو پورے طور پر بدل لیا، خود بخود اسکے دل سے زید کے لئے بد گمانی چھٹ گئی۔

کیوں نہیں چھٹتی بد گمانی۔ زید ہی تھے جو اسے پھر سے طلحہ جیسے انمول موتی واپس پانے کا سبب بنے تھے۔ اسے انکی بے لوث محبت پر یقین آگیا، وہ طلحہ جو انہیں چھوڑ کر ابدی نیند سو گیا تھا وہ ان دونوں کے لئے اہم اور عزیز تھا طلحہ کے جانے کے بعد اسکے وجود کو سمیٹ کر انہوں نے تو اسے بکھر جانے سے بچایا تھا اور وہ کتنی نادان تھی کہ اتنی سی بات کو سمجھ نہ سکی اور اتنے عرصے ان سے بد گمان رہی۔

dillnashi koi aur tha

اب وہ گئے دنوں کا ازالہ کرنا چاہتی تھی، زید جس شدت سے اسے چاہتے اور اس سے جس محبت کے طلب گار تھے وہ سب انہیں لوٹانا چاہتی تھی۔ آج پہلی بار بڑے دل سے تیار ہوئی وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی زید نے جب اسے دیکھا تو انکی آنکھوں میں شتائش ابھر آئی، خود سے چل کر انکے پاس آتی ہوئی عظمی نے انہیں اور بھی حیران کر دیا، اب وہ انکے باہوں کے حصار میں بغیر کسی مزاحمت کہ ایک نرم اور شرمیلی مسکراہٹ بکھیر رہی تھی۔

طلحہ پاس کی جھولے پر پڑا بے خبر سو رہا تھا، کمرے کا خوابیدہ ماحول بہت پرکیف لگ رہا تھا۔ دو ہستیاں ایک دوسرے میں گم اچھے دنوں کے خواب چن رہی تھیں۔ “طلحہ” اچانک ہی عظمی چیخی اور زید کی باہوں سے پھسلتی ہوئی نکل گئی۔ جھولے سے بچے کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا… وہ روتی جا رہی تھی اور بچے کو چومتی بھی جا رہی تھی۔ بچے کو بے تحاشا چومتے ہوئے وہ ارد گرد سے بالکل بے خبر ہو چکی تھی اس لمحے وہ یہ نہیں دیکھ سکی کہ اسکے پشت کے جانب کھڑے زید کا چہرہ دھواں دھواں ہو رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *