Dastan E Shado Begam By Qaisar Hameed Ronjho

Dastan E Shado Begam By Qaisar Hameed Ronjho

داستانِ شادو بیگم

تحریر: قیصر حمید رونجھو

ابھی ہم زمانۂ بادشاہت کے مزے لوٹنے میں مگن تھے۔ کہ شادو سے ملاقاتیں اکثروبیشتر گاؤں سے باہر جنگل میں ہوتی تھیں۔ جہاں ہم گاؤں کے سب بچے مل کر بکریاں چرانے لے جاتے تھے۔ وہیں پر شادو بھی اپنی بکریاں لے کر آتی تھی۔ شادو اس وقت جوانی کی دہلیز پہ کھڑی تھی اور حسن تھا کہ لہک لہک کرہر ایک کو اپنی جانب متوجہ کرتا تھا۔ اسوقت ہم بچے تھے عشق و محبت کے راز ونیاز سے یکسر انجان تھے۔ شادوعمر میں سب سے بڑی تھی تو یوں سمجھو کہ وہ گروپ لیڈر تھی۔

شادو کی باتیں معنی خیز ہوتی تھیں جوکہ اسوقت ہمارے سروں سے سوا نیزہ اوپر، اوپر سے گزر جاتی تھیں۔ اک دن سنا کہ شادو گھرسے بھاگ گئی ہے۔ کہاں گئی، کس کے ساتھ گئی کسی کو خبر نہ تھی۔ چارسو لوگ ڈوڑے، جنگل، میدان، پہاڑ، وادیاں کھنگالنے کے باوجود شادو کا کوئی سراغ نہ مل سکا، آسمان کھا گیا کہ زمین نگل گئی، مہشورکھوجی، عامل، پیر بھی اپنے فن کا جادو جگانے میں ناکام و نامراد ٹھہرے۔

Dastan E Shado Begam By Qaisar Hameed Ronjho

عرصہ بیت چلا شادو کو سب بھول گئے، سوائے اسکے ماں باپ کہ جنہیں شادو کے روگ نے بستر کے حوالے کر چھوڑا، آخرکاروہ اس روگ کو لیے دنیا سے ہی رخصت ہوئے۔ مجھے وہ اکثر یاد رہتی تھی۔ اسکے نازو انداز اور باتیں وقتن فوقتن ذہن کے دریچوں پہ دستک دے جاتی۔ اس واقع کوبہت عرصہ بیتا، وقت نے ہمارے سروں سے بھی بادشاہت کا تاج اتار پھینکا اور ہماری سلطنت بھی ہم سے چھن گئی۔ اب غلامی کا طوق گلے میں سجائے غمِ روزگار کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے لگے۔

اک دن اپنے شہر سے دور ایک شہر میں جانے کا اتفاق ہوا، انجان شہر تھا اور اسکے اجنبی لوگ، نامانوس چہرے جن میں اپناہیت کی ہلکی رمق بھی نہ تھی۔ ڈھلتی شام میں پارک کے کونے میں بیٹھا گھر اور گاؤں کی یادوں کے سمندر میں غوطۂ زن تھا کہ ایک نسوانی آواز آئی۔ تم مسری ہو نہ !!! چونک کر سراٹھایا تو ایک ادھیڑ عمرکی خاتون دو بچوں کے ساتھ سامنے کھڑی تھی۔ میں حیران وپریشان اسے تک رہا تھا کہ اس اجنبی شہر میں مجھے پہچاننے والی کون ہے؟؟

تواس خاتون نے میری پریشانی کو بھانپتے ہوئے اپنا تعارف کرادیا کہ میں “شادو” ہوں۔ مجھے زور کا جھٹکا لگا،یکدم ماضی کی شادو عکس جھلملانے لگا۔ کہاں وہ شادو اور کہاں یہ عورت وقت نے شادو پر اپنے نقش چھوڑے تھے۔ علیک سلیک کے بعد اس نے گھر، گاؤں کا احوال پوچھا اوراپنے بھاگنے کے بعد کے حالات جانے۔ میں نے ساری کتھا اسکے گوش گزار کی، دوران داستان شادو کی آنکھوں کی رم جھم جاری رہی۔

Dastan E Shado Begam By Qaisar Hameed Ronjho

میں نے اس سے بھاگ جانے کی کہانی پوچھنا چاہی تو وقت کی کمی کو جواز بناکر کہنے لگی پھر کبھی۔ مجھ سے یہاں آنے کا سبب پوچھا، میری کہانی سننے کے بعد ضد کرکے مجھے اپنے ہمراہ گھر لے آئی۔ اس اجنبی شہر میں شادو نے اپنے ہونے کا فرض بخوبی نبھا کر میری ایک بڑی مشکل کو آسان کر دیا۔ شادو کے گھر پہنچے تومجھ پہ حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے، ایک کمرے کا چھوٹا سا خستہ حال مکان، چیخ چیخ مکینوں کی کسمپرسی کو بیان کر رہا تھا۔

مکان کی یہ حالت دیکھ کر شادو کی رام کہانی جاننے کا اشتیاق بام عروج پرپہنچ چکا تھا۔ شادو کی محبت سے لبریز خاطر داری نے مجھے پرسکون کر دیا۔ اب میں موقع کی تلاش میں تھا کہ کسی بھی طرح شادو سے اسکے ماضی اور حال کی کہانی سن سکوں۔ شادو بچوں کو کھلا پلا کر اور کام کاج نمٹا کرجیسے ہی میرے پاس آبیٹھی میں نے وہی قصہ چھیڑ دیا، اب کی بار شادو نے بھی بغیر حیل وحجت کے اپنی داستاں سنانی شروع کر دی۔

شاید وہ اتنے برسوں سے اس بوجھ کو دل پہ لیۓ تھک چکی تھی اور اب اپنی داستاں سنا کر من کے بوجھ کو ہلکا کرنا چاہتی تھی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے، جب میں روز بکریاں لے کر جنگل کو جاتی، وہاں تم اور دوسرے بچے بھی بکریاں لے آتے تھے۔ میں بھی بچوں کے ساتھ مل موج مستیاں کرتی تھی زندگی پرسکون گزر رہی تھی۔ میں جوان ہوچکی تھی اور میرے گھر والوں کو اب میری شادی کی فکر ہونے لگی تھی۔

ایک دن میں جنگل سے واپس آرہی تھی تو گاؤں کے باہر مجھے ایک اجنبی نظر آیا تو میں رستہ بدل کر نکلنا چارہی تھی کہ اس نے مجھے آواز دی وہ رستہ بھولا تھا اوراب مجھ سے رستے کے بارے میں پوچھنے لگا۔ میں نے جلدی جلدی رستہ بتایا اور آگے بڑھ گئی۔ اس بات کو کچھ دن گزر گئے تو ایک دن پھر وہی اجنبی مجھے اسی جگہ کھڑا نظر آیا جب میں نزدیک پہنچی تو اس نے آواز دی، اس دن پتہ نہیں مجھے کیا ہوا کہ میں اس سے باتیں کرنے لگی، باتوں باتوں میں پتہ چلا کہ اسکا نام حسن ہے اور وہ شہر میں رہتا ہے۔

 

Dastan E Shado Begam By Qaisar Hameed Ronjho

اس رات جب میں بستر پہ لیٹی تو بار بار اسکی صورت آنکھوں کے سامنے آجاتی، رات دیر تک جاگتی رہی اور حسن کے بارے میں سوچتی رہی۔ دوسرے دن بھی وہ میرے خیالوں میں چھایا اوراسے دیکھنے کو دل کرنے لگا۔ اب مجھے اسکا انتظار تھا کہ کب سامنے آتا ہے۔ ایک ہفتے بعد حسن آیا اور آکر محبت کا اظہار کیا میں تو پہلے اسکی محبت میں گرفتار ہوچکی تھی، یوں ملنے ملانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ جب بھی ملنے آتا میں ہر بار حسن سے کہتی کہ وہ اپنے گھر والوں کو رشتے کے لیۓ بھیجے۔

اس نے مجھے بتایا کہ اسکے گھر والے نہیں مانے گے کیونکہ ہماری برادری الگ ہے۔ میں یہ سن کر پریشان ہوگئی میں اس سفر میں بہت آگے نکل آئی تھی واپسی کی کوئی راہ نظر نہیں آرہی تھی۔ میں نے حسن سے کہا کہ کچھ کرو کوئی راستہ نکالو میں تمھارے بغیر نہیں رہ سکتی تو اس نے کہا بھاگ چلتے ہیں۔ میں کئی دن سوچتی رہی، ایک طرف محبت تھی جو مجھے مسلسل آگے بڑھنے کو اکسا رہی تھی اور دوسری طرف گھر خاندان کی عزت پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر مجھے روکنے کی کوشش کررہی تھی۔
؎
دل اور دماغ کی اس جنگ میں دل کی جیت ہوئی اور میں ایک رات حسن کیلیۓ سب کچھ چھوڑ کر چپکے سے نکل آئی۔ حسن مجھے لیکر یہاں چلا آیا اور ہم نے شادی کرلی۔ کچھ وقت موج مستی میں گزر گیا، جب جمع پونجی ختم ہوئی تو حسن مجھے اپنے ماں باپ کے گھر لے آیا اور اس دن سے میری بدقسمتی کے دن شروع ہوئی۔ اسکے گھر والوں نے مجھے قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ آئے دن کی تو تو میں’ میں سے نوبت مار پیٹ تک آ پہنچی۔ تب میری آنکھوں سے محبت کی نادیدہ پٹی اتر چکی تھی۔ مجھے اپنے گھر والے اور گاؤں کی بے حد یاد آنے لگی۔

لیکن میں جان گئی تھی کہ میں اپنے واپسی کے رستے ختم کر آئی۔ جس محبت کی خاطر والدین کی عزت پاؤں تلے روند آئی تھی, وہ تو ایک سراب تھا۔ انہی حالات میں بچی کی ولادت ہوئی لیکن نہ حسن کے رویے میں تبدیلی آئی اور نہ اسکے گھر والوں نے قبول کیا۔ دن رات جیتی مرتی رہی اپنے گناہوں کی معافی مانگتی رہی لیکن مجھ جیسی لڑکیوں پرمعافی کے در بھی بند ہوجاتے ہیں۔

Dastan E Shado Begam By Qaisar Hameed Ronjho

دوسری بچی پیدائش پرسوچا کہ شاید اب حالات بدل جائیں لیکن یہ میری خیام خیالی تھی۔ بچیوں کی پیدائش کا زمےدار بھی مجھے ٹھہرایا گیا۔ گھر والوں کے کہنے میں آکر حسن نے وہ نام کا تعلق بھی ختم کرلیا مجھے طلاق دے کر بچیوں کے ساتھ گھر سے نکال دیا۔ اس سنگدل کو معصوم بچیوں پربھی رحم نہ آیا۔ بے یارو مددگار وہاں سے نکل آئی۔ در در کی ٹھوکریں کھاتے اس شہر میں آ پہنچی۔ جینے کی آس تو کب کی دم توڑ چکی تھی لیکن معصوم بچیوں کی خاطر بے جان لاشے کو گھیسٹتی رہی۔ میرے کیۓ کی اسی دنیا میں بھگت رہی ہوں۔

Dastan E Shado Begam By Qaisar Hameed Ronjho

شادو نے اپنی داستان ختم کی تو سر اٹھا کر دیکھا تو وہ رو رہی تھی۔ میرے پاس الفاظ نہیں تھے کہ اسے تسلی دیتا۔ میں یک ٹک اسے گھورتا رہا اور سوچ رہا کہ یہ محبت شادو کا اور کتنا امتحان لے گی۔ جو لڑکیاں جذبات میں بہک کرماں باپ کی عزت کا سودا کرتیں ہیں۔ انہیں سماج میں سر اٹھانے کے لائق نہیں چھوڑتی ہیں جب جذبات ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں تب ان پر حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ انکے پاؤں کے نیچے کی زمین کب کی نکل چکی ہے۔ فضا میں معلق گن گن کر سانسیں پوری کرتی ہیں۔ (ختم شد)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *