Chotay Mian Baray Mian By Mian Waqar ul Islam

Chotay Mian Baray Mian

چھوٹے میاں بڑے میاں

ازقلم: میاں وقارالاسلام

ہمارے ہاں ایک کلچر پایا جاتا چھوٹے میں خود کو بڑے میاں سمجھتے ہیں اور بڑے میاں اپنے بڑے ہونے کا ثبوت نہیں دیتے۔ پھر ہوتا یوں کہ نہ چھوٹے کی عزت بچتی اور نہ بڑوں کا بھرم بچتا دونوں ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں اور دیکھتے دیکھتے ایک مچلی منڈی کا ساماں بندھ جاتا ہے۔ وکیل کا سب سے بڑا دشمن وکیل، استاد کا سب سے بڑا دشمن استاد، جج کا سب سے بڑا دشمن جج، سیاست دان کا سب سے بڑا دشمن سیاست دان، شاعر کا سب سے بڑا دشمن شاعر اور ادیب کا سب سے بڑا دشمن خود ادیب، ڈاکٹر کا سب سے بڑا دشمن ڈاکٹر اور جرنلیسٹ کا سب سے بڑا دشمن جرنلیسٹ۔

یہ اگر کہیں اپنی کوئی یونین یا گروپ بھی بناتے ہیں تو بڑے میاں ایک طرف اور چھوٹے میاں ایک طرف اور دونوں طبقے ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوتے نظر آتے ہیں اور لوگوں کو یہ نظر آتا ہے کہ آوے کا آوہ ہی بگڑا ہوا ہے۔ ان سب میں ایک بات یکساں پائی جاتی ہے کہ ایک تو سسٹم ٹھیک نہیں اور دوسرا کہ گورنمنٹ کچھ نہیں کرتی۔ کبھی کسی طبقے کا کسی بھی بات پر تسلی کا جواب موصول نہیں ہوتا۔

Chotay Mian Baray Mian

ہماری تربیت سکولوں سے کی جاتی ہے جہاں سینئر طلبہ نئے آنے والوں کا بےعزتی سے بھرپور ویلکم کرتے ہیں، مختلف ملازمتوں میں نئے ملازموں سے ہتک آمیز کام لیئے جاتے ہیں جس سے ان کی عزت نفس مر جائے اور پرانے ملازموں کی تسکین پوری ہو جائے کیوں کہ جب یہ میدان میں آئے تھے تو ان کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔

اس کلچر کو ختم کرنے کے لیئے ریگولیشن کی ضرورت ہوتی ہے جس سے سیلف ریسپیک کو پروٹیکٹ کیا جاتا اور ہتک آمیز رویوں کو کرائم کا درجہ دیا جاتا ہے۔ کچھ ملکوں میں اوے کہنا یا انگلی سے اشارہ کرنے کی بھی باقاعدہ سزا ہے۔ ہمارے بزرگوں سے ہمیں کچھ مثالیں ملتی ہیں کہہ بچے ماں باپ کے برابر نہیں بیٹھتے تھے بلکہ نیچے یا پاؤں کی طرف بیٹھتے تھے لڑکوں کی نظریں نیچی ہوتی تھیں اور لڑکیوں میں بغیر دوپٹے کے سامنے آنے کا رواج نہیں۔ اساتذہ کی عزت بھی بڑے بزرگوں کی طرح کی جاتی تھی۔ پھر کیا ہوا بڑے میاں اور چھوٹے میاں سب نے اپنی اپنی جگہ سنبھال لی۔

Chotay Mian Baray Mian

اللہ تعالیٰ فرماتے ہے کہ ایک جماعت دوسری جماعت کو برا نہ کہے ہو سکتا ہے کہ وہ اس سے اچھی ہو۔ مگر ہم اپنے آپ کو اونچا ثابت کرنے کے لیئے دوسرے کو نیچا دیکھانا فرض سمجھتے سو سب کی عزت جاتی رہتی ہیں۔

ہمارے لیئے ہمارے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑی مثال کیا ہو سکتی ہے کہ جب بیٹھے ہوتے تھے یا پیدل یا سوار آ رہے ہوتے تھے تو فرق محسوس نہیں ہوتا تھا کہ مالک کون نوکر کون۔ مقام دل میں اتنا کہ ایک دوسرے پہ جان چھڑکی جائے۔ پیٹھ پیچھے بھی کسی کی بے عزتی کرنے کی مثال نہیں مگر اب تو منہ پر بے عزتی کر دی جائے تو سر فخر سے تن جاتا ہے کہ بازی مار لی گئی۔

Chotay Mian Baray Mian

بڑے میاں اور چھوٹے میاں جب تک آپس میں ایک دوسرے کی حرمت کا تعین نہیں کریں گے رسوائی پوری جماعت پر ہر طرف سے حملے کرتی رہے گی۔ عزت کروانے کے لیے عزت دینی پڑتی ہے اور بڑوں کے عزت کیے بغیر جو مقام ملتے ہیں وہ بھی کھوکھلے ہوتے ہیں۔ اللہ ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنے اور ایک دوسرے کا بھرم قائم رکھنے کی توفیق دے آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *