Chaak Aur Chob E Chaak Tabsarah Nigaar Shafaat Faheem

Chaak Aur Chob E Chaak

چاک اور چوبِ چاک

تبصرہ نگار: شفاعت فہیم

قرآن مجید میں آیا ہے کہ، ہرشے اہنے مدار کے گرد گھوم رہی ہے، غالباً یہی گردشِ کل کائنات اس غزل کےمنصئہ وجود میں آنے کا پیش خیمہ بنی جسکی ردیف ہے،مجھے چاک سےنہاتارنا ۔ آیة قرآنی میں تو تمام موجودات عالم کیلیے کہا گیا ہے۔ لیکن شہزاد نیرنے اپنی اس غزل میں حیات و موت کے علاقے کا بیان کیا ہے، شاعر ہمیشہ اپنے خالق سے ہمکنار رہنا چاہتا ہے، بہ الفاظ دیگر وہ چاک کی گردش سے کٹنا نہیں چاہتا۔

قرآن کی رو سے ہرشے ایک مخصوص مدار میں گردش کررہی ہے اور موجودہ علوم بھی اسی عمل پرصاد کرتے ہیں، سائنس کے مطابق بہی ہر شے مستقل ایک مخصوس مدار میں گردش کررہی ہے اور وہ گھوم پھر کر اسی مقام پر، بالکل اسی مقام پر تو نہیں بلکہ اسکے قریب ترین پہنچ جاتی ہے اور پھر دوسرا چکر یونہی شروع ہوجاتا ہے، یہ اصول دنیا کی ہرشے اورہر قوت پرمنطبق ہوتاہے۔ یعنی کوئی اپنی راہ بدل نہیں سکتا، اسے اپنےایک ہی مدار میں گردش کرنی ہے۔ ہاں سمتوں میں مشرقین کا بُعد ہوتا رہنا لازم ہے۔

Chaak Aur Chob E Chaak

توحضرات یہ تمہید اس وقت بندے نے حضرت شہزاد نیر کے کلام پر تبصرہ کرنے کیلیے کی ہے، آپ سوچتے ہونگے کہ اس تمہید کا کیا محل، توحضرات ہمارے اردو ادب میں یہ دور نقد و نظر کا ہے مختلف انواع و اقسام کی ہے تنقیدی نظریے سامنے آچکے ہیں۔ ہر ناقد کسی بھی ادبی فنپارے پر اپنے انداز و اسلوب کے تحت قلم چلاتا ہے، ابتدا میں جب ادب برائے ادب کا دور تھا تو تبصرے بھی ادبی اور صرف ادبی پہچان کیلیے ہی ہوتے تھے۔ لیکن زمانہ بدلتا گیا ادب میں نئے نئے رجحانات داخل ہوئے تو طرائقِ تنقید بھی بدلے۔

ادب برائےادب کے بعد ادب برائےزندگی کا دور آیا، ترقی پسند تحریک نےزور پکڑا تو تنقیدی رجحان بہی اسی سمت میں گامزن ہوا،بعدہ جدیدیت کا دورآیا اسکے بعد مع بعد جدیدیت کا زمانہ آیا، غرضکہ ہمارے ناقدین کے رویے فی زمانہ بدلتے رہے، اسوقت میرا موضوع محترم شہزاد نیر کی غزلیں ہیں، جنکو میر تقی میر ایوارڈ سے نوازا جاراہا ہے۔ لہٰذاشاعری پر ہی گفتگو ہوگی۔

مسئلہ یہ ہے کہ کیا کسی شاعر کا طرز نگارش کسی خاص قسم کا یعنی جیسے روایتی طرز، ترقی پسند تحریک سے اثر پذیر انداز، یا جدید لبو لہجہ، یا ما بعدِ جدیدیت سے تعلق رکھنے والا طریقئہ شعر گوئی ہوتا ہے، یا ان سب سے ہٹ کر،کسی بھی رویہ سے کمیٹیڈ نہ ہوکر اپنا ایک مخصوص طرزِ نگارش ہوتا ہے، حقیقت یہی ہےکہ کوئی بھی فنکارکسی بھی بندھے ٹکے راستے پر چلنے کے بجائے اپنا راستہ خود ہی بناتا ہے نہ وہ روایتی دھڑے سے بندھاہوتا ہے نہ ترقی پسند تحریک سے اور نہ جدید یت کے گروہ سے، ہر فنکار کی اپنی ایک نہج ہوتی ہے۔

Chaak Aur Chob E Chaak

اسکے تخیل کی پروازکا ایک مدار ہوتا ہے جسمیں اسکےافکار احساسات و تخئیل گردش کرتے ہیں، اس سلسلے میں ہم اپنے قدماء کا جائزہ لیتے ہیں، سب سے پہلے شہنشاہ متغزلین، میر تقی میر ہی کو لیجئے، وہ یہ بھی کہرہے ہیں،، اپنی ہستی حباب کی سی ہے ،، پنکھڑی اک گلسب کی سی ھے ،، اس قسم کے اشعار کو کس زمرے میں رکھا جائیگا، چونکہ وہ پہلا استاد شاعر ہے اسکی اس قسم کی شاعری کو روایتی شاعری کے زمرے میں ہی رکھا جائیگا، لیکن وہی میر کہتا ہے۔

آنکھ ہو تو آ ئینہ خانہ ھے دہر
مُنہ نظر آتے ہیں دیواروں کے بیچ

اس شعر کو ناقدین کس زمرے میں رکھیں گے،، کیا یہ خالص جدید شعر نہیں ہے، کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ دوسو برس پرانا شعر لگتا ہے، اب آگے بڑھتے ہیں، چچا غالب کا مطالعہ کرتے ہیں، غالب کی شاعری پرغور کرنے سے پتا چلتا ہے کہ کہیں روایتی ہے کہیں جدید ہے اور کہیں ترقی پسند روییوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔

تھیں بنات النعشِ گردوں دنکو پردے میں نہاں
شبکو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہو گئیں

غالب کی اس قسم کی شاعری کس رجہان اور کس روییے کی عکاسی کر رہی ہے، تومعلوم ہوا کہ ہرفنکارکااپنا مزاج اپنا راستہ، اپنا محور ہوتا ہےجسپروہ گامزن رہتا ہے، سو جب یہ صورتِ حال ہے تو شاعری کو طبقہ بندی سے آزاد ہی رکھنا چاہیے ، اسکی جو رو ہے اسکا جو مدار ہے اسیکی روشنی میں اسکے کلام کامطالعہ کرنا بہتر ہے، نہ کہ روایت، ترقی پسندی ، جدیدیت وغیرہ کی عینک لگا کر دیکھیں۔

Chaak Aur Chob E Chaak

اب ہم محترم شہزاد نیر صاحب کی طرف چلتے ہیں اورانکے کلام پر بھی ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں، توہمیں انکے کلام میں بھی نوع بہ نوع لفظی اور تراکیبی اشکال نظر آتی ہیں، لہجے کے اعتبار سے انکی شاعری بالکل منفرد اور مخصوص انداز کی ہے تخیل کی پرواز کا محور و مدار بہت بلندیوں سے گزرتا ہے، بات کہنے کا طریقہ عام روش سے بالکل ہٹا ہوا اورجداگانہ ہے، انکا اپنا ایک اسلوب ہے، ایک طرز ہے جو بہت قاری اور سامع کو کبھی کبھی حیرت زدہ کرتا ہے اورتوجہات کو اپنی طرف مبذول کرانے میں، مہارت رکھتا ہے۔

اس امرکی وضاحت کیلیے کہ ہر شاعر کا اپنا طور طریقہ ہوتا ہے، وہ کسی کے بنائے ہوے رستے پر نہیں چلتا وہ کسی بھی تحریک یارجہان سے وابستہ نہیں ہوتا، اپنی راہ خود بناتا ہے ہر شاعر اپنے عشق میں فرہاد ہوتا ہے، یہاں شہزاد نیر صاحب کے معدودے چند اشعار بطور مثال پیش کیے جاتے ہیں۔

اپنی اپنی زبان بند رکھو
ذہن رکھتا ہوں سوچتا ہوں میں

تونے سمجھا تھا بے نواہوں میں
قتل ہوکر بھی بولتا ہوں میں

کتنے خوبصورت انداز میں پاکستان کی ایک مخصوص تاریخ رقم کردی سبحان اللہ

ابتدا میں تو اتنا خوش مت ہو
مجھ میں آگے کہی اداسی ھے

دیکھ اس حسن سوگوار طرف
دیکھ کتنی حسیں اداسی ھے

واہ کیا اچھوتا انداز،بیان ہے، اداسی کو حسین کہنا اور دلیل کے ساتھ کہنا شہزاد نیر صاحب ہی کا حصہ
مری صدا میں ملاتا نہیں صدا کوئی
میں کیسے بند زبانوں کے درمیان کھلا

کیا عمدہ الفاظ سے اپنے سماج کی اپنے دوستوں کی مجرمانہ خموشی پر طنز کیا ہے واہ واہ اور پھر اپنے گردو نواح کے حالات سے مایوس ہوکر شاعر کو یوں کہنا پڑتا ہے کہ
آسماں، رنگ، سنگ، شعر، صدا
دل سے دیکھوں تو سب اداسی ھے

لیکن پھراپنے آپکو سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے اور یوں سمجھاتا ہے
بیکلی کا سبب محبت ہے
خامشی کا سب اداسی ھے

واہ واہ کیا بات ہے کیا خوبصورت انداز ہے، اور تقریباً تمام اشعار ایک ہی نہج کے غماز ہیں، یکساں اسلوب کے حامل ہیں
اور کچھ اشعار آپ حضرات کے حوالے کر رہا ہوں ملاحظہ فرمائیں
تری انگلیاں مرے جسم میں یونہی لمس بن کے گڑی رہیں
کف کوزہ گر مری مان لے، مجھے چاک سے نہ اتارنا
اب مجھ سے ان آنکھوں کی حفاظت نہیں ہوتی
اب مجھ سے ترے خواب سنبھالے نہیں جاتے

ملاحظہ فرمایا آپنے بالکل اچھوتا انداز ، نئی تراکیب و لفظیات، کیا کشش ہے ہر ہر لفظ سماعتوں اور توجہ کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے، اور پھراس طرز نگارش کو روایتی انداز بیان سے ملحق نہیں کرسکتے، لیکن ان میں بھی وہی شہزاد نیر نظر آرہے ہیں، اور ملاحظہ فرمائیں۔

آنکھوں سے نکلتے ہو مگر دھیان میں رکھنآ
تم ایسے کبھی دل دے نکالے نہیں جاتے
ہجرت کے منظر کو آنکھو سے نکلتے ہو کے الفاظ دئے جو انہی کا حصہ ہے واہ واہ
شکستہ چھت میں پرندوں کو جب ٹھکانہ ملا
میں خوش ہوا کہ مرےگھر کو بھی گھرانہ ملا

گھر کو گھرانہ ملا کا جواب ہی نہیں واہ، اور سماج کو ہرحال میں لوگوں کی خدمت کرنے کی تلقین کا حسین انداز واہ واہ،جوکہ روایتی انداز سے پرے کا انداز ہے، اس سب کے ساتھ شہزاد نیر صاحب کے یہاں کچھ اس قسم کے بھی اشعار ہیں
بے سبب پیار میں کمی پہ نہ آ
اے مرے دوست دشمنی پہ نہ آ

ایسے اشعار پر شہزاد نیر صاحب نے غالباً نظر ثانی نہیں کی اور بہت جلدی میں کہتے چلے گئے، چونکہ پیار میں کمی اور بات ہےاور دشمنی کچھ اور ہے، دوسری بات اس مطلعے میں قافیہ محل نظر ہے، ممکن ہے کہ وہ اد قافیہ کو جائز قرار دیتے ہوں، لیکن ہمارے یہاں کم سے کمی اور دشمن سے دشمنی کی ،ی ، کو روی نہیں بنا سکتے ہم دقیانوسیوں میں اد طرح کی،ی ، کو حرف روی بنانے کی ممانعت ہے چونکہ لفظ ،کم۔ اور دشمن ،مکمل اور بامعنی الفاظ ہیں اور حرف روی ،قافیہ کا وہ حرف متواتر و مسلسل حرف ہوتا ہے جس پر لفظ با معنی ہوجائے۔

Chaak Aur Chob E Chaak

مگر اب اصول و ضوابط میں تبدیلی آرہی ہے تو کسی بھی امکان کو در گزر و درکنار نہیں کیا جاسکتا، اب آخر میں حضرت شہزاد نیر کے ایک ایسے شعر کو پیش کرکے اپنی بات ختم کرتا ہوں کہ جسمیں انہوں نے ایک عالمی حقیقت کو اپنا مذہب قرار دیا ہے اور اسی کی تلقین کی ہے واہ واہ کیا عمدہ خیال ہے اور کیا حقیوی اسلام کی روح ہے۔
دروازے پہ آکر جو کسی نے بھی صدا دی
دل کھول دیا، دوست کہ دشمن نہیں دیکھا
خدا کرے کہ انکے یہ جذبات و احساسات عوام تک پہنچیں اور دنیا ان سے فیض اٹھائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *