Dr Imrana Mushtaq Ke Aizaz Main Bzm e Idraak Ki Aik Sham

adabi report

ڈاکٹر عمرانہ مشتاق کے اعزاز میں بزمِ ادراک کی ایک شام

(رپورٹ : ڈاکٹر حنا امبرین (سعودی عرب

ادب ایک طلسم کدہ ہے جس میں خالی ہاتھ داخل ہونے والا اپنی زنبیل انمول موتیوں سے بھر لاتا ہے۔ ادب چونکہ معاشرے کی اساس ہے اس لئے ادب معاشرے کی بقا کے لئے لازم و ملزوم ہے۔ ادبی تنظیمیں ادب کے فروغ میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہی ہیں۔

گزشتہ دنوں منظقہ شرقیہ سعودی عرب کی ادبی تنظیم ’’بزمِ ادراک ‘‘ نے پاکستان سے تشریف لائی ہوئی شاعرہ ، ناول نگار، افسانہ نگار، محقق ، کالم نگار ڈاکٹر عمرانہ مشتاق کے اعزاز میں دہران انٹرنیشنل ہوٹل میں ایک شام کا اہتمام کیا ۔ تقریب کی صدارت چار شعری مجموعہ ہائے کلام کے خالق بین الاقوامی شہرت کے حامل ہردلعزیز شاعر سہیل ثاقب نے فرمائی۔ مہمانِ خصوصی کی نشست پر ڈاکٹر عمرانہ مشتاق جلوہ افروز تھیں۔ مہمانانِ اعزازی کی نشستوں پر پاکستان سے تشریف لائی ہوئی ادیبہ جی سی یونیورسٹی لاہور میں شعبہ فارسی کی پروفیسر اقصیٰ ساجد، منفرد لہجے کے شاعر و بے باک نقاد افتخار حسین راہب اور مترنم لہجے کے شاعر حکیم اسلم قمر متمکن تھے ۔ نظامت کے فرائض شاعر ، فکاہ نگار، افسانہ نگارمحمدایوب صابر نے اپنے مخصوص انداز میں ادا کئے۔

اس تقریب میں جناب بشیر بھٹی نے حلقہءفکروفن الخبر کی نمائندگی کرتے ہوۓ شرکت کی ۔ تقر یب دوحصوں پر مشتمل تھی ، پہلے حصے میں ڈاکٹر عمرانہ مشتاق کے فن اور شخصیت پر روشنی ڈالی جبکہ دوسرے حصے میں شاندار محفلِ مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔ محفل کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا گیاجس کی سعادت محمد رفیق آکولوی نے حاصل کی۔

adabi report

محمدایوب صابر نے ڈاکٹر عمرانہ مشتاق کے فن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عمرانہ مشتاق جب شاعری تخلیق کرتی ہیں تو قرطاس پر پُرکیف منظر اتر آتا ہے اورجب نثر لکھتی ہیں تو قلب و ذہن پر دستک محسوس ہوتی ہے۔ ڈاکٹر عمرانہ مشتاق کی مادری زبان پنجابی ہے شاید اِسی لئے انہوں نے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کو اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔ ان کی شاعری محض قافیہ پیمائی نہیں بلکہ اپنے پیغام کو موثر انداز میں پیش کرتے ہوئے نسائی لہجے کو دبنگ انداز میں پیش کرتے ہوئے صدائے احتجاج بلند کرتی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں عورت کو دبا کے رکھنے کی سوچ کو بدلنا چاہتی ہیں اور فرسودہ رسم و رواج کی زنجیروں کی توڑ کر کھلی فضا میں سانس لینے کی متمنی ہیں اور یہ خواہش ایک عورت کا بنیادی حق بھی ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں معاشرتی اقدارکی تنزلی  کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ ظلم و جبر دیکھ کر آنکھیں بند نہیں کیں بلکہ جابر کے سامنے کلمہ حق کہنے کا حو صلہ رکھتی ہیں۔بشیر احمد بھٹی نے ڈاکٹر عمرانہ مشتاق کے بارے میں اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عمرانہ مشتاق کی نظم اور نثر کا مطالعہ قاری کے لیے خوشگوار احساس ہے۔ ادب اِن کو ورثے میں ملا ہے۔ انہوں نے آنکھ کھولتے ہی اپنے اردگرد کتب کو طاق درطاق رکھے دیکھا۔

اِنکے والد اپنی پوسٹنگ کے سلسلے میں مختلف شہروں میں عازمِ سفر رہے جس کی وجہ سے ڈاکٹر عمرانہ مشتاق کو قریہ قریہ نگر نگر گھومنے کا اتفاق ہوا۔ اعلیٰ تعلیم اِن کے خاندان کا طرہ امتیازرہا ہے۔ سرفراز حسین ضیاء نے کہا کہ ڈاکٹر عمرانہ مشتاق نے اپنی پنجابی شاعری میں اپنی ذات کی نفی کر کے مراقبے کی حالت میں باتیں کی ہیں اور اپنی ذات کی نفی کیے بغیر اِس راستے پر سفر ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے جس طرح ڈوب کر اپنی پنجابی شاعری تخلیق کی ہے اِس میں صوفیانہ شاعری کی رنگ غالب نظر آتا ہے۔ انہوں نے پنجابی زبان کے صوفی شاعر شاہ حسین کا اسلوب اپنایا ہے۔

adabi report

حکیم اسلم قمر نے کہا کہ ڈاکٹر عمرانہ مشاق سے پاکستان اور سعودی عرب مشاعروں میں ملاقات ہو چکی ہے۔ اِن کی شاعری میں ایک خاص قسم کی سرشاری کیفیت ہے جو قاری یا سامع کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ افتخار حسین راہب نے کہا کہ ڈاکٹرعمرانہ مشتاق کی شاعری سنتے ہوئے میں ابھی ایک شعر کے سحر سے باہر نہیں نکلتا تو دوسرا شعر سنائی دیتا ہے، پھر چونک کر دوسرے شعر کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ہم زیادہ تر اساتذہ کی شاعری تک محدود رہتے ہیں لیکن جب کسی ایسے تخلیق کار سے ملاقات ہوتی ہے جن کی فکری جہات اور بھی ہیں تو حیرت ہوتی ہے۔ غزالہ کامرانی نے کہا کہ میری ڈاکٹر عمرانہ مشتاق سے پہلی ملاقات ہے ، مجھے اِن کی شاعری سن کر مزید شوق بڑھا ہے۔

میں اِن کی شاعر ی سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔ڈاکٹر عمرانہ مشتاق کی بیٹی فاطمہ احمد جو خود بھی ہردلعزیز شاعرہ ہیں نے کہا کہ میرے لیے انتہائی خوشی کی بات کہ کے اہلِ فکرو فن میری والدہ کے لیے اِس قدر بے لوث محبت کے جذبات رکھتے ہیں اور اِن کے لیے سچے جذبات رکھتے ہیں۔ میری والدہ ایک بہترین شاعرہ ہیں نہیں ایک بہترین ماں بھی ہیں ۔ انہوں نے ہمارے والد کی وفات کے بعد ہمیں کسی طرح کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ میری والدہ اکیلی تدریس ، ادب اور گھر کو کیسے ایک ساتھ وقت دے رہی ہیں۔ پروفیسر اقصٰی ساجد نے کہا میں بزمِ ادراک کے صدر ایوب صابر کو مبارکباد پیش کرتی ہوں اور یہ امر قابلِ تحسین ہے کہ آپ لوگوں نے وطن سے اِس قدر دور بیٹھ کر ایسا ادبی ماحول فراہم کیا ہے۔

مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ میں لاہور میں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عمرانہ مشتاق کے بارے میں مضامین میں ڈاکٹر عمرانہ مشتاق کی شخصیت ، شاعری ، کالم نویسی، افسانہ نگاری اور ناول نگاری کی جھلک نظر آئی ہے۔ اِس محفل میں شاعرات کے حوالے سے ریحانہ روحی اور پروین شاکر کا ذکر ہوا ہے، میں چونکہ فارسی کی معلم ہوں اِس لیے مجھے ڈاکٹر عمرانہ کی شاعری سن کر فارسی کی معروف شاعرہ پروین احتسامی کا خیال آیا ہے۔ ڈاکٹرعمرانہ مشتاق کی شاعری میں بھی پروین احتسامی کی طرح معاشرتی مسائل کا تذکرہ ہے۔ اِس لیے میں ڈاکٹر عمرانہ کو صوفی شاعرہ کہتی ہوں۔ پروفیسر اقصٰی ساجد نے اسی تناظر میں مولانا رومی کے کچھ فارسی اشعار اورترجمہ پیش کیا۔

ڈاکٹر عمرانہ مشتاق نے کہا کہ میں بزمِ ادراک کے صدر ایوب صابر کی ممنوں نے جنہوں نے یہاں کے مقامی تخلیق کاروں سے ملنے کا موقع فراہم کیا۔ میں خود بھی ادب میں بہت فعال ہوں لیکن سعودی عرب آکر محسوس کیا کہ یہاں گھٹن کے ماحول میں آپ ادب کی آبیاری کر رہے ہیں یہ جذبہ قابلِ ستائش ہے۔ آپ لوگ یہاں نہ صر ف زرِ مبادلہ کے ذریعہ وطن کی خدمت کر رہے ہیں بلکہ محبتوں کے اِس سفر کو جاری رکھا ہے۔ میں یہاں کمیونٹی کے افراد سے کہوں گی کہ تمام لوگ چھوٹی چھوٹی رنجشوں کو پسِ پشت ڈال دیں۔ میں آپ تمام کی محبتوں کا اعزاز اپنے ساتھ لے کر جا رہی ہوں۔

پاکستانی شعرا کے علاوہ انڈین شعرا نے جس قدر محبت کا اظہار کیا ہے اِس سے میرا سر فخر سے بلند ہوا ہے۔ صدر مجلس سہیل ثاقب نے صدارتی کلمات میں ایوب صابر کو ایک شاند ار تقریب کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا ڈاکٹر عمرانہ مشتاق ادب کی دنیا میں ایک معروف نام ہیں۔ میں نے اِن کی شاعری کا مطالعہ کیا ہے ۔ انہوں نے شاعری ، کالم نویسی اور افسانہ نگاری میں ایک مقام حاصل کیا ہے۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ڈاکٹر عمرانہ مشتاق نے منطقہ شرقیہ کے مقامی قلم قبیلے سے ملاقات کی ہے ، اِس کے لیے ہم اِن کی ممنون ہیں۔

میں اِن کی شاعری کے سحر میں مبتلاہوں ،اِ ن کی غزل اور نظم اِس قدر توانا ہے کہ قاری یاسامع کو اپنا اسیر بنالے۔ اِن کی شاعری میں نئے مضامین ہیں اور فکری اعتبار سے منفرد ہے اور مشاہدے کو انہوں نے اپنی شاعری میں پرو دیا ہے۔ اِسکے ساتھ ہی پہلے حصے کا اختتام ہوا اور چائے کا وقفہ کر دیا گیا۔

adabi report

اب محفلِ مشاعرہ کا آغاز ہوا۔ شعرا اپنے منتخب کلام سے سامعین کا دل جیتنے کی کوشش کر رہے تھے جس میں وہ کامیاب رہے۔ ہر اچھا شعر داد کی شکل میں اپنا خراج وصول کر رہا تھا۔ ہر طرف واہ واہ مکرر ارشاد کی آوازوں کا ایک لا متناہی سلسلہ جاری تھا۔ سخن کے موتی برس رہے تھے اور قلب و ذہن کو منور کرکے اپنا حق ادا کر رہے تھے۔ شعرا نے اپنے بہترین اشعار سے ایک عام سی تقریب کو یاد گار موقع میں تبدیل کر دیا۔ سامعین اِس قدر محو تھے کہ کسی کو احساس ہی نہ ہوا کہ یہ تقریب چار گھنٹے سے جاری ہے۔

ڈاکٹر عمرانہ مشاق نے محمد ایوب صابر، حکیم اسلم قمر اور سرفراز حسین ضیا کو اپنے شعری مجموعہ کلام ’’سمندر میں ستارہ‘‘ کی کاپیاں عنایت کیں۔ محمد ایوب صابر نے ڈاکٹر عمرانہ مشتاق کو اپنی افسانو ی مجموعہ’’ آنگن کی خوشبو‘‘ پیش کیا اور فاطمہ احمد کو اپنا شعری مجموعہ’’ اذانِ سحر ‘‘ پیش کیا۔ اعجاز الحق، سید منصور شاہ، مسعو د جمال، غزالہ کامرانی، سلیم حسرت، وقار ضیا، محمد رفیق آکولوی، سرفراز ضیا، ایوب صابر، خالد صدیقی، ولی حیدر لکھنؤی، فاطمہ احمد، افضل خان، حکیم اسلم قمر، افتخار راہب،ڈاکٹر عمرانہ مشتاق اور سہیل ثاقب نے اپنا کلام پیش کیا۔

بھوپال این آئیز کے صدر شہریا ر محمد خان، ساجد فاروق، امجد بٹ، شبیر انصاری اور ناصر شاہ کی خصوصی شرکت نے محفل کو چار چاند لگا دئیے۔ تقریب کے اختتام پر پُر تکلف عشائیہ پیش کیا گیا۔ آ خر میں محمد ایوب صابر نے بزمِ ادراک کی جانب سے تمام شرکا محفل کا شکریہ ادا کیا، خاص طور پر حلقہءفکروفن کے بشیر بھٹی کا جن کی کوششوں سے یہ پروگرام ممکن ہوسکا اور اس طرح رات کے تیسرے پہر یہ یادگار محفل اختتام پذیر ہوئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *