Best Urdu Poetry Ke Zair-E-Ihtimaam Shandaar Mushaira Ka Ineqad

Best Urdu Poetry

رپورٹ: ساجد شاہجہانپوری

بیسٹ اردو شاعری کے زیرِ اھتمام آن لائن عالمی طرحی مشاعرہ مورخہ 30 دسمبر 2016 شام 6بجے (پاکستانی وقت کے مطابق) ایک طرحی عالمی مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جسمیں دو 2 طرحی مصرعوں پر کسی ایک یا دونوں پہ شعرائے کرام کو اپنا کلام عطا فرمانے کی دعوت دی گئی۔
مصرع طرحی
کتنے چراغ وقف ھوئے روشنی کے نام
دیکہتے ھی دیکتے یہ کیا ھوا

http://onlineurdu.com/bashir-mehtaab-introduction-and-ghazals/
مشاعرے کی صدارت کویت سے تعلق رکھنے والے صاحب-فن شاعر عظیم المرتبت جناب فیاض وردغ صاحب کی۔ ناظمِ مشاعرہ محترم مختار تلہری صاحب نے مشاعرے کا آغار حمدیہ کلام کے ان اشعار کیساتھ فرمایا۔
ذات اطہر ھے تری ارفع و اعلیٰ تو ھے
میرا خالق مِرا مالک مرا آقا تو ھے

بعد ازاں نعت شریف کا نذرانہ بہ حضور سرورِ کائنات ﷺ کنوینر مشاعرہ جناب شوزیب کاشر صاحب کی مشہور انعام یافتہ نعت شریف”تو سیّدِ عالم ھے رفعنا لک ذکرک”پڑھ کے سامعین کے قلوب کو منوّر و مجلّیٰ فرمایا اس کے بعد طرحی کلام پڑھنے کیلئے سب سے پہلے ناظمِ مشاعرہ نے جناب سید Best Urdu Poetryزیارت علی کو دعوت دی۔
سید زیارت علی
اِسکی خبر ملے گی ھواؤں سے تجہکو دوست
کتنے چراغ وقف ھوئے روشنی کے نام
جس پر شریکِ بزم احباب نے انکو داد سے نوازا

ساجد سعید صاحب
وہ جرم سبکے دوش خطا ھے سبھی کے نام
اک قتل پھر ھوا ھے یہاں خود کشی کے نام
سامعین نے اس مطلع کو خوب خوب سراہا

Best Urdu Poetry

محترم قیصر مختار صاحب
یوں اچانک تلخ کیوں لہجہ ھوا
دیکھتے ھی دیکھتے یہ کیا ھوا
اور
کتنے ھی ذی شعور اندھیروں میں کھو گئے
کتنے چراغ وقف ھوئے روشنی کے نام
خوب خوب داد وصول کی ان اشعار پر محترم نے

Best Urdu Poetry

عمران کمال صاحب

دردِ دل ھے دردِ دنیا کا علاج
میں نہ جو اچّھا ھوا اچّھا ھوا

جعفر بڈھانوی
اسنے خطوطِ عشق میں اتنا لکہا فقط
ھم نے تمہارا عشق کیا دل لگی کے نام

ظفر عبّاس احسن لکہنوی (انڈیا )نے اپنا خوبصورت کلام پیش کرکے سماں باندھا
ساجد شاہجہانپوری (انڈیا ) نے ایک شعر یوں کہا جس پہ سامعینِ کرام حضرت ناظم اور محترم صدرِ مشاعرہ نے بیحد داد و تحسین بخشی۔
الفت  فراق  ھجر  جفا  انتہائے شوق
یہ بھی ھیں اس جہان میں دیوانگی کے نام

Best Urdu Poetry

محترمہ ڈاکٹر حنا امبرین صاحبہ نے اپنا مرصّع کلام پیش کیا اور سامعین سے بھرپور داد وصول پائی جدید لب و لہجہ کے شاعر جناب عبدالرزّاق ایزد نے محفل میں سماں باندھتے ھوئے اپنا خوبصورت کلام پیش کیا جسمیں انکا ایک شعر اس طرح تھا۔
اللہ ھی جانتا ھے کہ اس میں ھے راز کیا
اس بیوفا کا لیتے ھیں سب رند پی کے نام

 

ناظمِ مشاعرہ حضرت مختار تلہری(انڈیا) صاحب نے اپنا بلیغ کلام عطا فرمایا ان کے اس شعر نے بزم میں دھوم مچا دی۔
کمبخت  چور  نیچ  نکمّا   حرام خور
کیا کیا نہ جانے رکھے گئے مفلسی کے نام
منفرد لب و لہجے کی ترجمانی کتے ھوئے جناب آفتاب ترابی (سعودی عربیہ) نے ارشاد فرمایا
دل کی زمین وقف ھے عشقِ نبی کے نام
میری تمام عمر تری بندگی کے نام
جسکو سنکر کر دیر تک نعرہء درود و تحسین بلند ھوتے رھے آپنے مزید فرمایا
عشق میں خوش نام یا رسوا ھوا
میرے حق میں جو ھوا اچھا ھوا

Best Urdu Poetry

حضرت شفاعت فہیم امروھہ (انڈیا) کسی بناء تشریف نہ لا سکے لیکن اپنا کلام ارسال فرمایا جسکو کنوینر مشاعرہ جناب توصیف ترنل نے پیش کیا مطلع بیحد خوبصورت یوں تھا۔
کیا ھیں شرار شعلہ و برق افگنی کے نام
یہ سب کے سب تو اصل میں ھیں آپ ھی کے نام
جناب سالک جونپوری (کراچی) مشاعرے میں دیر سے تشریف لائے اور اپنا کلام یوں پیش کیا۔

Best Urdu Poetry
کیوں آجتک دلوں میں اجالا نہیں ھوا
کتنے چراغ وقف ھوئے روشنی کے نام

 

کنوینر مشاعرہ حضرت توصیف ترنل صاحب کا واحد شعر اسطرح تھا۔
دال چاول بھی نہیں کھانے کو اب
دیکہتے ھی دیکھتے یہ کیا ھوا
جسکو سن کر احباب تادیر لطف اندوز ھوتے رھے

Best Urdu Poetry

اور بریانی کی دعوت بھی ھانگ کانگ آکر کھانے کی خواہش انکی خدمت میں پیش کردی۔ آخر میں صدرِ مشاعرہ عالی جناب محترم فیاض وردگ(کویت) نے ا پنے کلامِ بلیغ سے شرکاء کی سماعتوں کو سیراب کرتے ھوئے فرمایا
کچھ تیرگی کے نام تو کچھ روشنی کے نام
کچھ ھے خودی کے نام تو کچھ بیخودی کے نام
اب اس سے بڑھ کے کیا کریں تعمیرِ زندگی
ھر شئے نثار کرتے ھیں تیری خوشی کے نام
کچھ اسطرح لہو سے جلائے چراغِ امن
سب ھی چراغ وقف ھوئے روشنی کے نام

Best Urdu Poetryمنسبِ صدارت پر جلوہ افروز صاحبِ فن شاعر عظیم المرتبت جناب فیاض وردغ صاحب نے بڑی خوش اسلوبی سے تمام شعرائے کرام کی بھر پور داد و تحسین سے حوصلہ افزائی فرما کر مشاعرے کی رونق کو دوبالا کر دیا اور آخر میں صدرِ محترم نے اپنے دعائیہ خطبے میں بزم میں شریک  شعراء اور سامعین کی دعاؤں سے نوازتے ھوئے سب کا شکریہ ادا کیا۔ اور خاص طور سے جناب توصیف ترنل کی بے لوث ادبی خدمات اور ادب دوستی کو سراہتے ھوئے انکو بہت مبارکباد اور دعاؤں سے نوازا

اور مستقبل میں اسی طرح کے پروگرامس منعقد ھوتے رہیں گے  یہ امّید ظاہر کرتے ھوئے توصیف ترنل صاحب کو یقین دلایا کہ وہ خود اور دیگر احباب اس ادبی فروغ کی مہم کو رواں دواں رکہنے میں انکے شانہ بہ شانہ ھیں۔ Best Urdu Poetryحضرت مختار تلہری (بریلی- انڈیا) نے مشاعرہ کا اختتام کرتے ھوئے فرمایا کہ مشاعرہ گیارہ بجے شب کو ختم ھونے کے بجائے تا دیر شب تک اپنی آب و تاب کیساتھ رواں دواں رھا یہ سب جناب توصیف ترنل صاحب کی ادب دوستی کے سبب ھی ممکن ھوا ھے انہوں نے مشاعرے کی کامیابی کی مبارکباد پیش کرتے ھوئے شب ساڑھے بارہ بجے مشاعرے کے اختتام کا اعلان فرمایا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *