Best Urdu Poetry Group ke Zair E Ehtemam Ghair Tarh‬i Mushaaira

Ghair Tarh‬i Mushaaira

اردوپوئٹری وائس گروپ کے زیراہتمام غیرطرحی مشاعرہ و تقریبِ رونمائیِ

رپورٹ: اسلم بنارسی

 ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئٹری)) منزلِ مقصد کے حصول کی خاطر، خدماتِ اردوزبان وادب کی پرپیچ راہوں پررات ودن رواں دواں رہتا ہے۔ اور نت نئے پروگرام منعقد کرتا ہے۔ ادارہ ھذا نے خدمات کے سلسلے کواور دراز کرتے ہوئے عالمی، بیسٹ اردوپوئٹری لیڈیس گروپ کی بھی تشکیل دی ہے، جس میں دنیا کے ہرملک سے اردوزبان وادب سے تعلق رکھنے والی خواتین وشاعرات کے جڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔

اور بتاریخ 21 اپریل 2017 بروز جمعہ، پاکستانی وقت کے مطابق شام سات بجے، صرف خواتین کا ( محفلِ النساء) کے نام سے (غیرطرحی، عالمی مشاعرہ) ان شاءاللہ آن لائن منعقد کیا جائے گا، اور بتاریخ 15 اپریل 2017 بروزہفتہ کو ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئٹری کے وائس گروپ میں مصنفین زبانِ اردوادب کی تصانیف کی اجتماعی رسمِ رونمائی تقریب وغیرطرحی عالمی مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا

best urdu poetry

اس حسین پروگرام کا آغاز ادارہ کے جنرل سیکریٹری، اسلم بنارسی نے تلاوتِ کلامِ ربانی سے کیا اور الله کی بارگاہ میں حمد پیش کی محترم عابد احمدخان صاحب طالب ہاشمی، برہانپور ہندوستان نے اور محترم خالدداؤدصاحب قائم خانی سندھ پاکستان نے سرورِ کونین ﷺ کی بارگاہ میں ( نعت شریف) کا نزرانہ پیش کیا اور نظامت کے فرائض اسلم بنارسی بینگلور ہندوستان نے بخوبی انجام دیئے، اس حسین پروگرام میں ( 9 ) کتاب کی رسمِ اجرائی۔

mukhtar

((محترم توصیف ترنل، بانی وچیئرمین (( ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئٹری
((محترم شفاعت فہیم، صدر (( ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئٹری
((اسلم بنارسی، جنرل سیکریٹری (( ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئٹری
محترم ڈاکٹرسراج گلاؤٹھوی، سیکریٹری ( ادارہ، عالمی، بیسٹ اردوپوئٹری)عمل میں آئی، اس پروگرام میں جن مصنفین کی تصانیف کی رسمِ اجرائی عمل میں آئی، انکے اسمائے گرامی یوں ہیں۔

محترم ڈاکٹر بلنداقبال نیازی، کانپور ہندوستان، محترم امیرالدین امیر، بیدرکرناٹک، ہندوستان، محترم مختار تلہری، تلہراترپردیش ہندوستان،محترمہ ہاجرہ نور زریاب، اکولہ مہاراسٹرا ہندوستان ، محترمہ شہناز مزمل، پاکستان، محترمہ گل نسرین، ملتان پاکستان، محترم شوزیب کاشر، راولا کوٹ آزادکشمی محترم ڈاکٹرشاہد رحمان فیصل آباد پاکستان، محترمہ سیما گوہررامپور ہندوستان

یہ شاندار پروگرام ( صدور ) پرمشتمل رہا، اسکی صدارت فرمائی، محترم ڈاکٹربلند اقبال نیازی ، کانپور ہندوستان، محترم امیر الدین امیر، بیدر کرناٹک ہندوستان، محترم ریاض شاہد، بحرین ، سعودی عربیہ، محترم مختارتلہری، تلہر اترپردیش، ہندوستان نے۔

usman atis

اس خوبصورت پروگرام میں بطور مہمانانِ خصوصی شریک رہے، محترم عثمان عاطس، نائب مدیرآن لائن اردو ڈاٹ کام سرگودھا پاکستان، محترم منظورقادر بھٹی، چیف ایڈیٹر،عکسِ جمہور ، پاکستان، محترم سردارامتیازخان، چیف ایڈیٹر روزنامہ پرنٹاس، پاکستان، محترمہ شہناز مزمل پاکستان، محترمہ ہاجرہ نور زریاب، مہاراسٹرا ہندوستان۔

اس لاثانی پروگرام میں بطور مہمانانِ اعزازی شریک رہے، محترم شوزیب کاشر، راولاکوٹ، آزاد کشمیر، محترم ڈاکٹرشاہد رحمان، فیصل آباد، پاکستان، محترمہ سیما گوہر، رامپور ہندوستان ، محترمہ گل نسرین، ملتان پاکستان

اس تقریب میں تصانیف کی رسمِ اجرائی کے بعد مصنفین کی خدمت میں ( ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئٹری) کی جانب سے توصیف نامہ، سنداعزازبرائے ادبی خدمات،،، پیش کیا گیا۔ سند نامہ پیش کرنے کے بعد فوراََ غیر طرحی عالمی مشاعرہ،کا آغاز ہوا

اس مشاعرہ میں جن شعرائے کرام وشاعرات نے شرکت فرمائی، ان کے اسمائے گرامی یوں ہیں، اسلم بنارسی، بینگلور ہندوستان، جناب فرحان عزیز، مدینہ منورہ، جناب عظیم انجم، ہانبھی سبی پاکستان، جناب ثمریاب ثمر، سہارنپورہندوستان، جناب احمد وصال، خیبرپختونخواہ پاکستان جناب جعفر بڑھانوی، دہلی ہندوستان، جناب شاہ روم خان ولی، کراچی پاکستان، جناب شبیر شاہد ، پنجاب پاکستان،جناب فیاض احمد مالیاتی، ناسک ہندوستان۔

جناب ذیشان عابد، گوجرانوالہ پاکستان، جناب علی اکبر کرنالوی، ملتان پاکستان،جناب عاقب وانی واحد، جموں کشمیر، جناب نادر اسلوبی، حیدرآباد ہندوستان،جناب بشیر مہتاب، جموں کشمیر ہندوستان، جناب محمد علی، حیدرآباد پاکستان، جناب وسیم اکرم نوری، بہار ہندوستان، جناب عبدالغفارواحد، سورت گجرات ہندوستان، جناب سلیم شوق پوری، پورنیہ بہار ہندوستان، اس دن پاکستان میں جگہ جگہ مشاعرے منعقد ہونے کی وجہ سے، کچھ شعرائے کرام، محفل میں تاخیر سے بھی آئے۔ کچھ شعرائے کرام کے اشعار پیشِ خدمت ہیں، ملاحظہ فرمائیں،

عبدالغفارواحد
غم کا ملال ہے نہ خوشی کا خیال ہے
آنکھوں میں اور کوئی نظارہ ہے آج کل

وسیم اکرم نوری
طبیب۔۔ دل وجاں نظرکیجئے نا
یہ ۔بے روگ،سوزِ جگر کیجئے نا

unnamed-9

احمد وصال
ستارہ ہوں، کبھی نورِ سحر ہوں
نئے خورشید کا میں ہمسفر ہوں

عظیم انجم ہانبھی
تہمتیں کیوں دھررہے ہواس پہ تم،
اس نے تو تمکو کبھی چاہا نہیں،

محترمہ گل نسرین
فلک سے بھی آگے دمکتے مکاں پر
نشیمن مرا ہو تری ہی اماں پر

محترمہ ہاجرہ نور زریاب
دعاؤں میں مجھے وہ مانگتا ہے
ادھر میں بھی نمازی ہو گئی ہوں

شوزیب کاشر
زمین اچھی لگی آسمان اچھا لگا
ملا وہ شخص تو ساراجہان اچھا لگا،

امیرالدین امیر
طوفان وتندوتیز جو آئے،کیا کہیں
جلتی یہ شمع کوئی بجھائے،توکیا کہیں

محترمہ سیما گوہر
۔بے زباں جب ہو گئی یہ زندگی
ذہن میں سرگوشیاں بڑھتی گئیں

ڈاکٹر رحمان شاہد
یاد رکھیں گے ہمیشہ ہی زمانے والے
ہم بھی ہیں تاج محل ایک بنانے والے

ریاض شاہد
وفورِ عشق کی ہے بات ورنہ
ستارے ہمنشیں، میں چل رہا ہوں

مختار تلہری
کوئی چہرہ نظر نہیں آتا
سایہ جیسا یہ رینگتا کیا ہے

ڈاکٹربلنداقبال نیازی
خاکِ رازِ نیازہوں اقبال
مجھ کو رسمِ جہاں سے کیا مطلب

unnamed-11

اسکے بعد خصوصی طور، محترم شفاعت فہیم صاحب، ہندوستان، اور محترم مسعود صاحب حساس، کویت، کے مقالے پیش کئے گئے، اور محترم مسعودصاحب حساس، کی خدمت میں ادارہ کی جانب سے،،، توصیف نامہ، سنداعزازبرائے ادبی خدمات، پیش کیا گیا، اس کے بعد صدور، مہمانانِ خصوصی و مہمانانِ اعزازی اور اعزازیافتگان نے ادارہ و پروگرام کے متعلق اپنے اپنے تاثرات سے نوازا، اس طرح یہ لاثانی پروگرام اپنے آپ میں ایک تاریخ رقم کرتا ہوا، شام سات بجے شروع ہوکر، رات بارہ بجے، ادارہ کے بانی وچیئرمین، توصیف ترنل، اور ادارہ کے جنرل سیکریٹری، اسلم بنارسی کے شکریہ کے ساتھ اختتام پزیر ہوا۔

اردوپوئٹری وائس گروپ کے زیراہتمام غیر طرحی مشاعرہ و تقریبِ رونمائیِ

عالمی بیسٹ اردوپوئٹری گروپ، آئے دن نت نئے پروگرام منعقد کرتا رہتا ہے، اور یہ اسی گروپ کی خصوصیت ہے ، آج جو ایک بہترین مشاعرہ منعقد ہوا یہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، اس مشاعرے میں جو شعراء حصہ لے رہے ہیں انکے کلام پر تھوڑا تھوڑا تبصرہ بھی اس سلسلے ایک جزو ہے۔

تو سب سے پہلے محترم شوزیب کاشر صاحب سے ملاقات کرتےہیں، آپ راولکوٹ آزاد کشمیر کے باشندہ ہیں بچپن سے ہی شاعری کرتے ہیں کئی مجموعوں کے خالق ہیں اور مختلف اعزازات سے نوازے جاچکے ہیں کیا خوب مطلع کہا ہے
پھر خدا سے الجھ پڑا ہوں کیا
اپنی حد سے نکل گیا ہوں کیا

unnamed-8

دراصل ہر انسان جو فکرِ رسا رکھتا ہے اسمیں انانیت ضرور ہوتی ہے، اسی انا کا عکاس ہے یہ شعر دوسرے مصرعے میں ایک خوبصورت تلمیحاتی بیان ہے پوری غزل ذاتی اور اندرون کی آواز ہے، آگے چل کر وہ اپنی ذات کو یوں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں
کن کہوں اور کام ہوجائے
آدمی ہوں کوئی خدا ہوں میں
شوزیب کاشر کی شاعری کی یہ خصوصیت ہے کہ انکی شاعری داخلی ہوتی ہے ہر شعر اندرون کی کیفیت کو بیان کرتا نظر آتا ہے

دوسرے شاعر جناب امیر الدین صاحب امیر ہیں آپ بیدر، کرناٹک سے تعلق رکھتے ہیں، کئی مجموعے منظرِ عام پرآچکے ہیں آپکے اور آپکو کئی تمظیمیں اعزازات پیش کی چکی ہیں، خالص رویتی انداز کی شاعری کرتے ہیں
آپ میری نظرِ شوق سے پردہ نہ کریں
چاہنے والے کو بے دردی سے رسوا نہ کریں

ذرا ملاحظہ فرمائیں محبوب کے نظر نہ آنے کو بھی شاعر ظلم تصور کررہا ہے ،محبوب کی پردہ پوشی کو عشق کی رسوائی سے تعبیر کرنا اور بے دردی کے ساتھ ، کتنی شدت ہے احساس میں ، رسوا نہ کریں کہدینا ہی کافی تھا ، مگر شاعر کہرہا ہے کہ بیدردی سے رسوا نہ کریں احساس میں کتنی شدت ہے ، آگے چل کر شاعر عشق سے توبہ کرتا نظرآتا ہے اور کہتا ہے
جی آتا ہے کہ پھر ایسی تمنا نہ کریں
شکوئہ جور ، محبت کا بیاں ، عرضِ وفا
شرط ملنا ہے ،جو مل جائے تو کیاکیا نہ کریں

واہ واہ کیا خوب صورت شعر کہا ہے سبحان اللہ ،اگلے شعر میں راز کا افشا نہ کریں،کی جگہ ،، راز کو افشا نہ کریں ،، ہونا چاہیے تھا ،یا، راز افشانہ کریں ،، ایک نظم بھی ہے ،،تاج محل،، یہ ایک رومانی نظم ہے اور ایدا لگتا ہے کہ شاعر ساحر لدھیانوی سے متائثر ہے،غرض شاعر خالص روایتی طرز کا دلدادہ ہے

unnamed-12

محترمہ ہاجرہ زریاب صاحبہ ہیں، آپ اکولہ کی رہنے والی ہیں اور نظم و نثر دونوں پردسترس حاصل ہے، نسوانی احساس کی عکاس ہیں اور خوب کہتی ہیں، ساتھ میں مذہبی رجحان رکھتی ہیں
دعاوُ ں میں مجھے وہ مانگتا ہے
ادھر ،میں بھی نمازی ہوگئی ہوں

واہ واہ دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی ، یعنی دونوں طرف عشق ہی عشق ہے ،دونوں عاشق ہیں اور یہی اصل رشق ہوتا ہے ، بہت عمدہ رومانی شاعری کی ہے واہ
انداز میری پیاد کا جانے گا کوئی کیا
چاہوں تواک پہاڑبھی چشمہ نکال دے

ہر چند کہ اسمیں لفظ ،،اک ،، بھرتی کا ہے لیکن بہت خوبصورت خیال ہے ، شعر قاری کو اسماعیلؑ کے ایڑیاں رگڑکر پانی نکالنے کے معجزے کی طرف لے جاتا ہے عمدہ فکر ہے ، اسی غزل میں ،، میرے ہی سامنے مجھے میری مثال دے بھبہت خوب ہے واہ ، اگلی غزل کا ایک شعر جو آجکی غزل کی اصلیت کو بیان کررہا ہے، اور اشارہ کررہا ہے کہ آجکا شاعر فکر کے اعتبار سے غزل کو نئی نئی جہتیں دے رہا ہے ،غزل نئی منزلوں کو تلاش کررہی ہے۔

یہ کس جہاں میں لیکے چلے جارہے ہیں آج
پنے تخیلات ، غزل کہرہی ہوں میں ، رمدہ انداز بیان ہے

اگلی شاعرہ ہیں محترمہ گل نسرین صاحبہ ہیں جنکا وطن ملتان ،پاکستان ہے آپ شاعری کے ساتھ ساتھ مضمون نگاری اور کالم نویسی بھی فرماتی ہیں مختلف تنظیموں سے وابستہ ہیں اور اخبارات و رسائل میں شایع ہوتی رہتی ہیں ,جدید لب و لہجے میں خوبصورت روایتی انداز کی شاعری فرماتی ہیں۔
خواہشوں کی تتلیاں ہیں زندگی کی شاخ پر
حسرتوں کا پیرہن ہم اوڑھکر سوجائینگے
کیاخوب ،سچی بات کہی ہے ، انسان جو چاہتا ہے ،وہ اسے نہیں ملتا ، اور بالآخر خواہشیں ،حسرتوں اور مایودیوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں
اگلی غزل کا مطلع ہے
فلک دے بھی آگے دمکتے مکاں پر
نشیمن مرا ہو تری ہی اماں پر

unnamed-10

کیا خوب دعا ہے اور ترقیوں و بلندیوں کی خواہش ، اللہ کی امان کے ساتھ ،عمدہ فکر ہے ، لیکن ،،مکاں پر ، اور ،،اماں پر،، میں لفظ ،،پر ،، محل نظر ہے ، مکان میں ،اور امان میں ،، ہونا چاہیے تھا ، اورآخر میں ایک خوبصورت شعر مقطعے کی شکل میں
تمہیں گل ابھی تو فراغت نہیں ہے
ذرا سی نظر تو کرو اس جہاں پر

اپنے گردوپیش سے واقف رہنے کی تلقین ہے ، سبحان اللہ ، اور دیکھیے قضاءو قدر کی گتھی کو کس انداز میں بیان کیا ہے
وہ کسی کا مقدر بدلتے کہاں
وہ جو اپنے مقدر سے الجھے رہے ،
کوشش اور لگن کی طرف بھ اشارہ کرتاہوا شعر ہے واہ۔ محترمہ گل نسرین صاحبہ کے یہاں ایک عمدہ بات یہ ہے کہ وہ رجائیت پسند شاعرہ ہیں ، مایوسی انکے پاس نہیں پھٹکتی وہ مسلسل جدو جہد کی تلقی کرتی نظرآتی ہیں
ڈھونڈنا ہے خود کو بھی گل دہر میں
کھوج اس کا بھی لگانا ھے ابھی ،
غرض کہ گل نسرین صاحبہ نے عمدہ شاعری کی ہے

اب نمبر ہے جناب ریاض شاہد صاحب کا ،آپ گوجرانوالا سے تعلق رکھتے ہیں اور بحرین میں سکونت پذیر ہیں ، بہت دے مشاعرے منعقد کرچکے ہیں اور کئی عالمی مشاعروں میں شرکت کرچکے ہیں ، روایتی انداز کی اور مہجری شاعری کا عنصر آپکے یہاں بدرجئہ اتم مل جائیگا ،کیا خوبصورت شعر کہا ہے
ملینگی منزلیں ، اس نے کہا تھا
کیا میں نے یقیں ، میں چل رہا ہوں

اب ذرا دیکھئے ،انسان اگر کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے تو مسلسل کوشش اور جد وجہد کی ضرورت ہے ، اس بات کو کیا عمدہ انداز میں بیان کیا ہے
سفر پاوُ ں کی ہے زنجیر شاہد
ہے موسم آتشیں میں چل رہا ہوں
اور ملاحظہ فرمائیں ، وطن سے دوری کا کرب
اے غریب الوطنی تیری عنایت کی قسم
کتنے ہی خواب مچلتے ہیں بکھر جاتے ہیں
ایک شعر ہجرت کی زنگی کا عکاس اور ملاحظہ کیجیے
کچھ ہجر کر گیا ہے زمیں دل کی سخت اور
تیرے تصورات کو خود قتل کر دیا
غرض کہ ریاض شاہد صاحب نے بہت خوب شاعری کی ہے
ہم بہی صحرا میں آکے بیٹھ گئے
ریت کا گھر بنا کے بیٹھ گئے

دیکھا آپنے کہ غریبالوطنی کا کیسا احساس ہے اور شاعر غربت کی زندگی کی مثال ریت کا گھر سے دے رہا ہے ، گویا کہ مستقبل سے سب کچھ ہونے کے باوجود مطمئن نہیں ہے یہ ہے ہجرتبکا کرب ،جسمیں شاعر مبتلا ہے واہ وا ،خوب شاعری کی ہے

اگلی شاعرہ ہیں زارا فراز صاحبہ ،آپ جمشید پور انڈیا کی ساکن ہیں قلم اور بو قلم دونوں سے ہی کام لیتی ہیں ، شاعربھی ہیں مصوربھی ہیں اور افسانہ نگار بھی پھر یہ کہ ہر شغل شوقیہ کرتی ہیں ، نظم اور غزل عمدہ کہتی ہیں ، مختصر سے وزن میں کیاخوب کہا ہے
وہ مرا ،میں اسکی ہوں
مختصر فسانہ ھے
دل اسی کا حامی ہے
جسکے لب پہ نا نا ہے
اور ایک شعر کیاحسین کہا ہے
زخم ہیں ہرے پھر بھی
ہم کو مسکرانا ھے

qadir bhati

پوری غزل عمدہ ہے خوب کہتی ہیں اور ایک بہت اچھی نظم بہ عنوان ،،تمہاری خاطر ،، ہے اس نظم میں اپنے محبوب سے فرقت کا غم اور کرب بڑے حسین انداز میں ابھر کر آیا ہے ، ایک اور نظم ہے جسکا عنوان ،، وہ ایک لڑکا ،، ہے اس نظم میں بھی محبوب کےغیرہو جانے کا غم جھلک رہا ہے ،بڑے خوبصورت آہنگ میں کہی گئی نظم ہے اور کلائمیکس بہت عمدہ ہے ، دل کو چھو لینے والی نظم ہے

اگلے رہیں کنجروڑ کے رہنے والے جناب ندیم ملک ، آپ ایک محبت کرنے ولے دلکے حامل ہیں اور آپکی شاعری بھی محبت اور بس محبت پر ہی مبنی ہے ، رومانی شاعر کرتے ہیں اور خوب کرتے ہیں
ترا ساتھ جب مرے ساتھ تھا تو حیات جان تھی خوب رو
ترے بعد کی جو حیات تھی وہ تو گنگنا کے گزار دی
ہر چند کہ اسمیں الفاظ کی نشست و برخواست کی کمی ہے ،لیکن دلکی زبان کے اشعار ہیں چاہے کچھ بھی ہو

محترمہ سیما گوہر صاحبہ رامپور، جو غالب کیلیے دار السرور تھا، کی رہنے والی ہیں آپکا ایک مجموعہ ،،گوہرے نایاب ،، شایع ہوچکا ہے ، جرائد میں کلام شایع ہوتا رہتا ہے ، خالص روایتی رومانی غزل کہتی ہیں
کسطرح بتائیں ہم اپنے جذبئہ دلکو
کس طرح کہیں اب ہم زندگی تمہاری ہے
اور ایک یاسیت سے بھرا ہوا شعر
پھول کی ہراک پتی کہرہی ہے پھولوں سے
آج میری باری تہی ، کل تمہاری باری ہے
ایک فرسودہ اور پامال مضمون کو اپنے لفظون میں بیان کیا ہے
اور ایک کرب ناک شعر جو کوئی دل جلا ہی کہہ سکتا ہے
سلگتے لفظ تخیل میں آگئے شاید
قلم کی نوک سے نکلا ہے یہ دھواں کیسا واہ وا عمدہ خیال ،عمدہ الفاظ کے ساتھ واہ وا

اور اب باری ہے نباض وقت اور معالجِ دردِ دل ، ڈاکٹر شاہد رحمان صاحب کا ، آپنے ابی دس سال پہلے ہی شاعری شروع کی ہے رسائل و جرائد می آہکا کلام چھپتا رہتا ہے ، دیکھئے ایک شعر جو انکی زنگی کا سچا عکاس ہے
اب تو مشکل ہی سے ہم وقت پہ جاپاتے ہیں
ہم بھی تہے وقت سے پہلے کبھی جانے والے
چونکہ ایک ڈاکٹرکی زندگی اپنی نہیں رہ پاتی ہے ،اسکی زندگی مریضوں کیلیے عقف ہوتی ہے ، اسی زندگی کی عکاسی کی ہے شعر میں اور چونکہ آپ فیصلاباد پاکستان کے رہنے والے ہیں تو پاکستان کے موجودہ حالات کو یوں بیان کرتے ہیں

اب کسی کو نہیں دے سکتا تحفظ کوئی
خود ہی کرنی ہے یہاں اپنی حفاظت ہمکو
لفظوں کی بندش بہت چست نہ ہونے کے باوجود ،عمدہ فکر کی شاعری کی ہے ڈاکٹر شاہد رحمان صاحب نے

اگلے شاعر ہیں بریلی شریف کے باشندہ ڈاکٹر بلند اقبال خان صاحب نیازی آپکا پیشہ معالجت ہے ،آپ جِلدی خلش کے علاج کے ساتھ ساتھ ،آپ سماج کی ذہنی کدورتوں کا بھی علاج اپنی شاعری کے ذریعہ کرتے ہیں اور اور خوب کرتے ہیں ڈاکٹر بلند اقبال کے اشعار ملاحظہ کریں
جگمگاتا ہے میرا نقشِ یقیں
مجھ کو وہم و گماں سے کیامطلب
شعر صاف بتا رہا ہے کہ بلند اقبال صاحب یقین کی منزل میں ، انکو اللہ پر یقینِ کلی ہے

seema goohar

دور رہ کر بھی میرے پاس ہیں وہ
شب کی آہ و فغاں سے کیا مطلب

اسے کہتے ہیں محبوب سے قربت کا ایقان واہ وا کیا کہنے اور ایک عشق حقیقی پر مبنی شعر اور ملاحظہ کریں
خورشید بن کے چمکا ہے ہر بندہء وفا
ڈوبا ہے جو بھی عشق میں ابھرا ضرور ہے
منحصر ان نگاہوں پہ تھی زندگی
ان نگاہوں کا پیغام آ ہی گیا
واہ کیا خوب صورت اور خالص روایت کی نمائندگی کرتی ہوئی شاعری اور عشق میں ڈوبی ہوئی غزلیں شناخت ہے محترم بلند اقبال صاحب کی

اس سلسلے کے آخری شآعر ہیں حضرت مختار تلہری ،آپ بریلی میں رہتے ہیں ، جناب طاھر تلہری کے شاگرد ہیں اور نہ جانے کتنے شاگردوں کے استاد ، خوب کہتے ہیں مختلف جرائد و رسائل میں کلام چھپتا رہتا ہے کئی مجموعے شایع ہوے جنمیں نعت و مناقب کے مجموعے بھی شامل ہیں ، مشاعروں کی نظامت بہ احسنِ ِ وجوہ فرماتے ہیں دل پر چوٹ کرتی ہوئ اور سماج کے جذبات کو مہمیز کرنے والی شاعری کرتے ہیں

مری کوشش نہ کیسے رائیگاں ہو
کسی کی بات تم سنتے کہا ہو
اسی کوکہتے ہیں توہینِ الفت
اکیلے میں بھی کیوں آہ و فغاں ہو

کیا عمدہ اشعار ہیں، آپ نظمیں بھی خوب خوب کہتے ہیں ، لیکن غزل میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں ، شعر ملاحظہ فرمائیں

بے وفائی ہے کیا وفا کیا ہے
انکو اس بارے میں پتہ کیا ہے

ذرا دیکھئے کہ مختار صاحب کا محبوب کتنا بھولا اور نادان ہے ، محبوب کی معصومیت کی پوری طرح غمازی کرتا ہوا شعر واہ وا ،اور مقطعے میں جلد بازی سے پرہیز کی تلقین کچھ اس طرح کرتے ہیں

رائے قائم نہ کر ابھی مختار
اسکے بارےمیں جانتا کیا ہے

riaz shahid

بیشک کسی کے بارے میں کوئی رائےقائم کرنےسےپہلےبہت سوچنا اورسمجھنا بہت ضروری ہے بس اسی فکر کو بہت خوب انداز میں شعری جامہ پہنایا ہے مختار صاحب نے لیکن ایک سبکی سی ہے اور نظر ٹھہرتی ہے کہ مطلعے میں تو لفظ ،،بارے ،، ،فعلُ ، کے ،،بارِ ،، وزن پر استعمال ہوا ہے اور مقطعے میں ،،بارے ،، پورا ،،لاتن،، ، فعلن، کے وزن پر استعمال ہوا ہے ، غالباً مقطعے کا لفظ بارے بالکل درست ہے ، اور مطلعے میں شاید مختار صاحب نے اجتہاد کیا ہو ، اور انکو اسکا حق بھی ہے ، مختار صاحب زبان کے شاعر تو ہیں ہی ، اور بڑی بلند فکر کے حامل ہیں ،اللہ کرے زور کلام اور زیادہ۔

آخرمیں میں محترم توصیف ترنل صاحب کوخصوصاً اورتمام اراکینِ ادارہ ، بیسٹ اردوپوئٹری کو دل کے عمق سے مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اتنابہترین پروگرام جسکی یہ دوسری قسط ہے ، مرتب کیا اور بہت خوبی کے ساتھ منعقد کیا اور بیسٹ اردوپوئٹری گروپ کو دنیا کا واحد عظیم اردوپوئٹری گروپ بنادیا محترم اسلم بنارسی صاحب محترم سراج گلوٹھوی صاحب اور تمام اراکین ِ ادارہ جن کو نام بہ نام مبارک باد دے تو کافی وقت لگ جائیگا ، اسلیے سب ہی کو ایک ساتھ ایک ادرہ یا یوں کہوں کہ ایک فرد سمجھتے ہوے مبارکباد پیش کرتا ہوں شکریہ

احقرخادمِ اردو: شفاعت فہیم

1 comment on “Best Urdu Poetry Group ke Zair E Ehtemam Ghair Tarh‬i Mushaaira

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *