بیدم شاہ وارثی صاحب کے خوبصورت کلام میں سےمنتخب کلام

بیدم شاہ وارثی صاحب کے خوبصورت کلام میں سےمنتخب کلام

انتخاب: عثمان عاطسؔ

چلا ہوں آج یہ سوغات لے کر انکی محفل میں
جلن سینے میں، اشک آنکھوں می، خون آرزو دل میں

بہت کی سیر بام اب آؤ اپنی عیش منزل میں
نظر پر چڑھ چکے لو اب اتر آؤ میرے دل میں

کھچا اور کھچ کے خنجر رہ گیا پھر دست قاتل میں
دیا قسمت نے دھوکا دل کی حسرت رہ گئی دل میں

نہ نکلیں گے مرے ارمان نہ نکلیں مرے دل کے
تو کیا گھٹ گھٹ کے مر جائیگی میری آرزو دل میں

دل مرحوم کا ماتم کروں یا روؤں اس دن کو
تمہارے چاہنے کی جب پڑی تھی ابتدا دل میں

یقین آتا نہیں جب آپکو میری محبت کا
تو پھر کہیے دل رکھ دوں میں کیونکر آپکے دل میں

ترے ملنے کی حسرت ہی نہیں اک جان کے دشمن
قیامت ڈھا رہی ہے جو تمنّا ہے مرے دل میں

خیال یار کے آتے ہی یہ بیتابیاں کیسی
جو آنا تھا اسے بن کر قرار آتا مرے دل میں

شرابِ ناب شیشوں میں عطا کی سب کو ساقی نے
ہمیں بخشا ہے بھر کر خون حسرت ساغر دل میں

بتا اے چارہ گر میں تازہ بیمار محبت ہوں
خلش کیسی ہے کیوں یہ میٹھا میٹھا درد ہے دل میں

تصور میں مرے ماہ عرب تشریف فرما ہیں
خدا کا فضل ہے پھیلی ہوئی ہے چاندنی دل میں

جدا ہونے کی ٹھرائی تو میں مرنے کی ٹھانوں گا
مجھے آباد کرنا ہے تو آ بیٹھو مرے دل میں

ہجوم آرزو ہے مجمع پاس و تمنّا ہے
تمہارے جاتے ہی اترا ہے غم کا قافلہ دل میں

مرے دل کے دھڑکنے پر تمہیں نا حق تعجب ہے
وہ دل ٹھہرا نہ ٹھہرے آ کے تم ٹھہرو گے جس دل میں

الٰہی کیا کرے کوئی کہاں تک ضبط گریہ ہو
کوئی رہ رہ کے نشتر سے چبھوتا ہے مرے دل میں

ہزار آبادیوں سے پھر یہ ویرانہ غنیمت ہے
یہیں کا ہو رہا ارمان جو آیا مرے دل میں

جگر مین چٹکیاں لینے کا جب ان سے گلہ کیجے
تو کہتے ہیں ہم کو یاد کوئی کیوں کرے دل میں

ترے کھچنے سے مجھکو خوف ہے میں اف نہ کر بیٹھوں
نہ رک اے تیغ ناز اب ضبط کی طاقت نہیں دل میں

مجھے بھی ضد ہے قاتل جان دے کر ہی ٹلوں گا میں
قسم ہے تجھکو بھی رکھنا نہ کوئی حوصلہ دل میں

بھلا بیدمؔ اسے پھر جام جم کی کیا ضرورت ہے
جسے سیر دوعالم ہو رہی ہو کاسئہ دل میں

حضرت بیدمؔ شاہ وارثی رح

بیدم شاہ وارثی صاحب کے خوبصورت کلام میں سےمنتخب کلام

مجھ سے چھپ کر مرے ارمانوں کو برباد نہ کر
داد خواہی کے لیے آیا ہوں بیداد نہ کر

دیکھ مٹ جائے گا ہستی سے گزر جائے گا
دل نا عاقبت اندیش انہیں یاد نہ کر

آ گیا اب تو مجھے لطف اسیری صیاد
ذبح کر ڈال مگر قید سے آزاد نہ کر

جس پہ مرتا ہوں اسے دیکھ تو لوں جی بھر کے
اتنی جلدی تو مرے قتل میں جلاد نہ کر

آپ تو ظلم لگاتار کئے جاتے ہیں
مجھ سے تاکید پہ تاکید ہے فریاد نہ کر

جلوہ دکھلا کے مرا لوٹ لیا صبر و قرار
پھر یہ کہتے ہیں کہ تو نالہ و فریاد نہ کر

آپ ہی اپنی جفاؤں پہ پشیمان ہیں وہ
ان کو محجوب زیادہ دل ناشاد نہ کر

اے صبا کوچۂ جاناں میں پڑا رہنے دے
خاک ہم خاک نشینوں کی تو برباد نہ کر

ہم تو جب سمجھیں کہ ہاں دل پہ ہے قابو بیدمؔ
وہ تجھے بھول گئے تو بھی انہیں یاد نہ کر

بیدمؔ شاہ وارثی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *