حیا غزل صاحبہ کے خوبصورت کلام میں سے منتخب غزلیں

حیا غزل صاحبہ کے خوبصورت کلام میں سے منتخب غزلیں

انتخاب: عثمان عاطس

مخملی ذات پہ ہیں گوٹا کناری باتیں
تو بھی پیارا ہے مگر تجھ سے بھی پیاری باتیں

عشق رہتا ہے زماں اور مکاں سے آگے
دن نہیں یاد مگر یاد ہیں ساری باتیں

وہ میرےپاس تھا پربھیڑ بھی تھی لوگوں کی
ہونٹ خاموش رہے آنکھ سے جاری باتیں

دو دلوں بیچ یہ ویرانہ کہاں سے آیا
ایک سناٹا ہے سناٹے پہ طاری باتیں

ہم ترا ذکر ہر اک بات میں لے آتے ہیں
کون کرتا ہے بھلا اتنی تمہاری باتیں

میں نے غزلوں میں سمویا ہے تخیل تیرا
میں نے شعروں میں پرو کر ہیں سنواری باتیں

عشق میں یار کو رسوا تو نہیں کر تے ہیں
کیسے کر لیتے ہو لوگوں سے ہماری باتیں

کھانا ٹیبل پہ پڑ ا ٹھنڈ ا ہوا جاتا ہے
اف وہ لذت سے بھری تیری کراری باتیں

حیا غزل

میری ہر ایک ریاضت کا ثمر دیتا ہے
ہاتھ اٹھتے ہی دعاؤں میں اثر دیتا ہے

خالقِ خلق وہ ہے ،ایک مجازی میرا
جب میں مانگوں وہ رہائی کا سفر دیتا ہے

خامشی کو مری الفاظ عطا کر کے نئے
مردہ کاغذ کے مسامات کو بھر دیتا ہے

مجھ کو دیتا ہے اسیری کا وہ مژدہ ایسے
میری پرواز کو پر دے کے کتر دیتا ہے

مجھ کو دکھتا ہے سپیدہ بھی سیاہی کی طرح
ایسے بینائی کو وہ حسنِ نظر دیتا ہے

میں نے مانگی ہی نہیں عزت و تکریم کبھی
اس کا احسان ہے بن مانگے ہی دھر دیتا ہے

رات بھر ہوتا ہے کتنے ہی خزانوں کا نزول
اس پہ یہ اشک مجھے صورتِ ذر دیتا ہے

حیا غزل

حیا غزل صاحبہ کے خوبصورت کلام میں سے منتخب غزلیں

سوچ بنتی ہوئی کاغذ پہ خیالی آنکھیں
اس کے کمرے سے چرالیں وہ نرالی آنکھیں

گرتی اٹھتی ہوئیں پلکوں سے توقف کرتیں
کیا کہوں کتنی مدلل ہیں مثالی آنکھیں

یاد کرنا ہو سبق جیسے ضروری کوئی
میں نے چہرے پہ یونہی اسکے گڑالی آنکھیں

ہم سے دیکھی نہ گئی انکی جو بیباک نظر
اوٹ میں ہاتھ کے پھر ہم نے چھپالی آنکھیں

روز چھپ چھپ کےانھیں دیکھتی رہتی ہوں میں
روز کاغذ پہ بناتی ہوں خیالی آنکھیں

میری باتوں پہ یونہی روٹھ کے کہنا اسکا
رونا روتی ہیں مگر مچھ کا غزالی آنکھیں

ورنہ وہ کھینچ کے لے جاتیں تہہ چشم انھیں
کھینچ کر ہم نے ان آنکھوں سے نکالی آنکھیں

چائے خانے کی کسی میز پہ اک میں اک تو
شام، خاموشی، جھجھک، چائے، مٹالی آنکھیں

حیا غزل

کوزہ گر چاہے تو پھر کیا کیا ہوں میں
ورنہ اس کے ہاتھ میں گارا ہوں میں

بند گلیوں کی طرح سنسان ہوں
دوستوں کے واسطے رستہ ہوں میں

جسکے دروازے کی چابی کھو گئی
بند برسوں سے پڑا کمرہ ہوں میں

مجھ سے رکھیئے مت کوئ امید نو
آتی جاتی رت کا اک جھونکا ہوں میں

ہوں تو میں پانی کا ہی قطرہ مگر
درد بن کے آنکھ سے رستا ہوں میں

موم ہوں جو خود پگھل کے بہہ رہی
دوسروں کے واسطے شعلہ ہوں میں

دیکھ وہ جو ہیں ستارے ساتھ ساتھ
ایک تارہ تو ہے اک تارہ ہوں میں

حیا غزل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *