Beautiful Poem Faqeer By Nadeem Bhabha

خط

Beautiful Poem Faqeer By Nadeem Bhabha

من تختی ہے دلدار کی تحریر محبت ہے
یہ لیکھ قلم کا لیکھ ہے اس لیکھ میں رحمت ہے
تعلیم کرو سرکار جی اک نقطہ بھید ہزار
اور بخشو من کی حاضری اور دان کرو دیدار
یہ دن اور ساعت پریم کی عشاق مبارک ہو
جس خاک کو گوندھا یار نے وہ خاک مبارک ہو
پہچان مبارک ہو تجھے دن رات مبارک ہو
تو صرف گمان میں تھا کہیں تجھے ذات مبارک ہو
رخ سیدھا رستہ عشق کا اور خوشبو رہبر ہے
لب لعل گہر یاقوت ہیں آواز مقدر ہے
تن پاک پوتر نور ہے اور نور پہ نور غلاف
من کعبہ ہر مخلوق کا جو دیکھے کرےطواف
وہ حمد الف اور میم ہےاور میم احد کا راز
اس میم سے ہی مخلوق ہے اس میم میں دم اور ساز
مخلوق نہیں مخلوق میں سب کھیل حجابی ہیں
بے عقلے عاقل ہوگئے بے دیدے حاجی ہیں

Beautiful Poem Faqeer

ہم لوگ برہمن پریم کے ، اک مومن اپنا یار
ہم بدھا برگد بھوگتے ، ہم کعبے کے معمار
ہم تہمت کھاتے پریم کی اور پیتے شوق شراب
ہم بازی کھیلیں عشق کی اور ہاریں اپنے خواب
ہم نفی بھی ہیں اثبات بھی ہم پتھر بھی اور خاک
ہم پاکوں میں ناپاک ہیں اور ناپاکوں میں پاک
ہم سنتے دیکھتے سونگھتے ہم چکھتے چھوتے لوگ
ہم راز ہیں اپنے راز کا ہم چلتے پھرتے سوگز
ہم باغی باغ بہشت کے ہم دھرتی کے ہیں پیڑ
ہم سوئیں پریم کی آگ پر اور ناچیں ماس ادھیڑ
ہم سجدے میں سج دھج گئے اور ڈٹ کے کیا قیام
ہم ہند کے اتھرے جاٹ ہیں آقا ﷺ کے خاص غلام
ہم پاپی خاکی خاک ہیں ہم نار بھی ہیں اور نور
ہم بوجھ اٹھائیں پریم کا ہم خلقت کے مزدور
ہم ہونی کے اسباب ہیں اور جیون کا دستور
ہم جیتے گردن تان کے اور کہلاتے مغرور
وہ غائب غیب کے راز میں ہم حاضر اور حضور
وہ چھپا ہوا لاھوت میں ہم مستی میں مستور
ہم لوگ سنہرے گندمی ہم داتا کے اوتار
سب کار ہمارے کار ہیں اور لوگ کہیں بے کار
ہم حجت اپنی آنکھ پر ہم دیکھیں اپنا آپ
تم دیکھو اپنی نیکیاں ہم دیکھیں اپنے پاپ
ہم اندر جنگل بار ہیں ہم اندر ہیں بازار
ہم کنجری بن کے ناچتے جوں راکھے سوہنا یار
تم مکتب کے مجبور ہو ہم پڑھے پڑھائے لوگ
تم بھوگو اپنی بھوگنی ہم جانیں اپنے سوگ
تم سات کو گنتی جانتے ہم سات کو جانیں ساتھ
تم پانچ جدا کر دیکھتے ہم پانچ کو مانیں ہاتھ
تم اسود پتھر چومتے ہم چومیں یار کا مکھ
تم آگ جلائو پیٹ کی ہم تاپیں اپنے دکھ
تم مکے کے مکار ہو تم طائف کے غدار

Beautiful Poem Faqeer By Nadeem Bhabha

خط

ہم یثرب کے ایوب ہیں ہم حبشہ کے سردار
تم شور مچاؤ عشق کا اور شاعر کہلاؤ
تم بے مستے یاں مست ہو بس ناچو اور گاؤ
صاحب کا نشہ اورہے کیا جانیں یہ مئے نوش
کیا لطف ہے دل کی بات میں سن پائیں کب خر گوش
ہر بات سے بات فضول ہے ہر سخن کہاں مقبول
ہر چپ میں پورا گیان ہے ہر خاموشی مشغول
یہ مرشد پر ایمان ہے جو کہے کرائے دین
یہ اک صورت کا دھیان ہے اور نام دھرائے تین
اک جوگی میں ہم مست ہیں اک صورت پر ہے دھیان
اک عشق خریدا شوق سے اور بیچ دیا ایمان
بے چہرہ ، چہرہ اوڑھ کے ہے اپنا عاشق آپ
اس خاک نے بازی جیت لی اور پایا عشق کا تاپ
یہ تاپ بہت انمول ہے اس تاپ میں کل اسرار
اس تاپ میں ہی انکار ہیں اس تاپ میں ہی اقرار
یہ درد دھوئیں کا تاپ ہے اور تاپیں اس کو خاص
یہ آگ سنہری آگ ہے اس آگ کا ایندھن آس
یہ علم نہیں تدریس ہو یہ بات نہ کوئی بول
یہ بار نہیں اوزان کا جو کرے ترازو تول
یہ کفر نہ کوئی کافری مسلم نہ کوئی اسلام
یہ چار کتابوں میں نہیں کیا ملاں پنڈت رام
یہ ادب آداب کا کھیل ہے بے ادبے ہیں ناکام
یہ خاموشی کا عشق ہے اور دل کا ہے پیغام
یہ ساری من کی حاضری پھر کیا اونچی آواز
یہ مالا ہے اک سانس کی کیا لکڑی اور کیا ساز
وہ دیکھو وہ ہے سامنے گر دیکھ سکو تو آؤ
وہ بیٹھا ہنستا بولتا اور لہجے میں ٹھہراؤ
ہم سمجھے رمز حضور کی ہم ناچے پیش حضور
ہم کھوئے پاک جمال میں ہم مست ہوئے مستور
ہم لوگ الف کی خامشی ہم آنکھ سے کرتے بات
ہم صفتوں سے منہ پھیر کے اب دیکھ رہے ہیں ذات
ہم لوگ مسافر لوگ ہیں کیا زور ہمارا ہے
اک گٹھڑی جس میں درد ہیں اور عشق سہارا ہے
ہم بوجھ نہیں وہ بوجھ ہے جو آپ اٹھایا تھا
ہم پریم نہیں وہ پریم ہے جو آپ کمایا تھا

Beautiful Poem Faqeer By Nadeem Bhabha

ہم آدم کی اولاد ہیں ماں باپ ہمارا ایک
اک جسم بچھونا پریم کا اک ہاتھ ہماری ٹیک
ہم گندم بوئیں پریم کی اور کاٹیں ہجر کا کھیت
ہم مٹی ماریں جسم کی اور پائیں دشت کی ریت
ہم تارے گنتے رات کو اور دن میں سینکتے دھوپ
ہم کالے گورے لوگ ہیں اک روپ کے ہیں بہروپ
ہم بھیرو ٹھاٹھ کے راگ ہیں ہم صبح کے مست الاپ
ہم لوگ کبوتر عشق کے اور ھو ھو ہر دم جاپ
سب باتیں ہیں اس صوت کی سب بار ہے اس کا تول
میں بول ہوں اس آواز کا جو سنتا اپنے بول
میں کمی اپنے یار کا میں کاہے کا درویش
نا کپڑے کالے رنگ کے نا لمبے میرے کیش
نا عالم فاضل شخص ہوں جو مفتی کہلاؤں
نا سمجھا دنیا داریاں جو تجھ کو سمجھاؤں
نا صاحب ، صاحب زاد ہوں نا کوئی گدی نشین
نا بیچ سکا میں یار کو نا بیچا مذہب دین
نا حاجی مکے شہر کا نا باندھ سکا احرام
نا نفل نماز کا نیتی نا کوئی پیش امام

Beautiful Poem Faqeer By Nadeem Bhabha

خط

نا جوگی جنگل بار کا نا چلے کا بے کار
نا پانچ نمازیں پڑھ سکا نا بھوکا روزے دار
نا لگن نہ کوئی لاگ ہے نا اونچے اونچے جاپ
نا نعرہ مارا حیدری نا نیکی اور نہ پاپ
نا صورت ایسی خاص ہے کہ مڑ مڑ دیکھیں لوگ
نا مالا پہنی کاٹھ کی نا بھاگ نہ کوئی بھوگ
نا مست کہ مستی خاص ہو نا میرا کوئی روپ
نا نام کمایا جا سکا نا عشق مرا بہروپ
نا سنی سنائی مانتا نا بولی اپنی بات
نا ہجر کمایا یار کا نا وصل کی پائی رات
نا شعر بنایا کام کا نا شاعر اور حکیم
بس دوست ہوں اپنے دوست کا اور پایا نام ندیم
یہ میم مرے سرکار ﷺ کی اس میم پہ میں قربان
یہ میم ہے میری آخرت یہ میم ہے میری شان
یہ بوسے لیتی میم ہے چومے آقا ﷺ کے پیر
یہ میم الف کا حسن ہے اس میم میں ساری خیر
سب رنگ تمہارے صاحبا ! سو ڈالو مجھ پر رنگ
رنگین کرو رنگین جی اور رکھو اپنے سنگ
میں کملی اپنے یار کی میں ہوش سے بے گانی
اک حسن ہے ہر دم سامنے میں جس کی مستانی
ہر شان بنی اس واسطے ہر نام اسی کا ہے
وہ پاپ جلی کے واسطے مجھ پاپ جلی کا ہے
میں شرم حیا سے دور ہوں اور عشق مرا بے باک
لج پال سخی لج پال جی میرا سینہ کیجے چاک

Beautiful Poem Faqeer

میں ناچوں تڑپوں پریم میں اور پھینکوں دور حجاب
میں ایسی ماہی سائیاں جو چھوڑ چکی ہے آب
مرے ماتھے میں بغداد ہے اور سینے میں ہے جھنگ
مرا جوبن عین بہار ہے اور مجھ پر سارے رنگ
میں دن جیسی بے داغ ہوں اور چنری میری رات
میں مست ہوئی مستور میں اور بھول گئی اوقات
تم جیتے بازی پریم کی ہر جیت تمہاری ہے
یہ روہی کی جو ہار ہے اک جٹی ہاری ہے
سلطان بھلے سلطان جی میں نازک اور کمزور
اب بُولا بینسر بھول کے لے بھاگی تیری اور
میں بھاگی تیری راہ پے مرے پاؤں آئی موچ
اک پتھر سے ٹکرا گئی اور ٹوٹ گئی ہر سوچ

Beautiful Poem Faqeer

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *