Shozaib Kashir Beautiful Ghazals In Urdu

      No Comments on Shozaib Kashir Beautiful Ghazals In Urdu
Shozaib Kashir Beautiful Ghazals In Urdu

شوزیب کاشر کے کلام میں سےبہترین غزلیں

انتخاب: ادارہ بیسٹ اردو پوئیٹری

صحرا میں کڑی دھوپ کا ڈر ہوتے ہوئے بھی
سائے سے گریزاں ہوں شجر ہوتے ہوئے بھی

ماں باپ کا منظورِ نظر ہوتے ہوئے بھی
محرومِ وراثت ہوں پسر ہوتے ہوئے بھی

یہ جبرِ مشیت ہے کی تنہائی کی عادت
میں قید ہوں دیوار میں در ہوتے ہوئے بھی

ہم ایسے پرندوں کی ہے اک پیڑ سے نسبت
اُڑ کر کہیں جاتے نہیں پر ہوتے ہوئے بھی

ہر چیز لُٹا دینا فقیروں کا ہے شیوہ
کم ظرف ہیں کچھ صاحبِ زر ہوتے ہوئے بھی

اُس دیس کا باسی ہوں کی جس دیس کا ہاری
مایوس ہے شاخوں پہ ثمر ہوتے ہوئے بھی

سورج سے کرے دوستی اک کُور بسر کیا
جلوے کی نہیں تاب نظر ہوتے ہوئے بھی

کچھ ہار گئے جبر کے باوصف بھی ظالم
کچھ جیت گئے نیزوں پہ سر ہوتے ہوئے بھی

تجھ جیسا عدد اپنے تئیں کچھ بھی نہیں ہے
میں تیری ضرورت ہوں صفر ہوتے ہوئے بھی

ہسنا مری آنکھوں کا گوارا نہیں اُس کو
اور دیکھ نہیں سکتا ہے تر ہوتے ہوئے بھی

پھر دشت نوردی نے دکھائی یہ کرامت
میں شہر میں تھا شہر بدر ہوتے ہوئے بھی

اس بار تھے کچھ دوست مرے مدِّ مقابل
سینے پہ سہے وار سپر ہوتے ہوئے بھی

ایسے بھی زبوں حال کئی لوگ ہیں کاشرؔ
بےگھر ہیں اسی شہر میں گھر ہوتے ہوئے بھی

Beautiful Ghazals In Urdu

Shozaib Kashir Beautiful Ghazals In Urdu

پھر خدا سے اُلجھ پڑا ہوں کیا
اپنی حد سے نکل گیا ہوں کیا

تو مجھے دیکھنے سے ڈرتا ہے
لن ترانی کا سلسلہ ہوں کیا

اتنا کیا کان دھر کے سنتا ہے
میں بہت دور کی صدا ہوں کیا

پیرہن پھاڑ کر میں رقص کروں
عشق وحشت میں مبتلا ہوں کیا

بات دشنام تک چلی گئی ہے
سچ بتاؤ بہت برا ہوں کیا

کیا کہا تُو بھگت رہا ہے مجھے
میں کسی جرم کی سزا ہوں کیا

آ رہے لوگ تعزیت کے لیے
میں حقیقت میں مر گیا ہوں کیا

لوگ جھوٹا سمجھ رہے ہیں مجھے
یار میں کوئی گڈریا ہوں کیا

کن کہوں اور کام ہو جائے
آدمی ہوں کوئی خدا ہوں کیا

ہر کوئی بور ہونے لگتا ہے
وجہ بے وجہ بولتا ہوں کیا

جس طرح چاہے گا برت لے گا
تجھ غزل کا میں قافیہ ہوں کیا

ایک ہی فارہہ سے پیار کروں
میں کوئی جون ایلیا ہوں کیا

میں انا الشوق انا الوفا ، کاشرؔ
بندۂ عشق دہریہ ہوں کیا

Beautiful Ghazals lyrics

Shozaib Kashir Beautiful Ghazals In Urdu

بہتا ھے کوئی غم کا سمندر مرے اندر
چلتے ھیں تری یاد کے خنجر مرے اندر

کہرام مچا رہتا ہے اکثر مرے اندر
چلتی ہے ترے نام کی صرصر مرے اندر

گمنام سی اک جھیل ھوں خاموش فراموش
مت پھینک ارے یاد کے کنکر مرے اندر

جنت سے نکالا ھوا آدم ھوں میں آدم
باقی وہی لغزش کا ہے عنصر مرے اندر

کہتے ھیں جسے شامِ فراق اہلِ محبت
ٹھرا ہےاُسی شام کا منظر مرے اندر

آیا تھا کوئی شہرِ محبت سے ستمگر
پھر لوٹ گیا آگ جلا کر مرے اندر

احساس کا بندہ ہوں میں اخلاص کا شیدا
ہرگز نہیں خرص و ہوسِ زر مرے اندر

کیسے بھی ھوں حالات نمٹ لیتا ھوں ہنس کر
سنگین نتائج کا نہیں ڈر مرے اندر

میں پورے دل و جان سےھو جاتا ھوں اُس کا
کر لیتا ہے جب شخص کوئی گھر مرے اندر

میں کیا ھوں مری ہستی ہے مجموعۂ اضداد
ترتیب میں ہے کونسا جوہر مرے اندر

کڑتا ہے کبھی دل کبھی رک جاتی ہیں سانسیں
ہر وقت بپا رہتا ہے محشر مرےاندر

ہمشکل مرا کون ہے ہمزاد وہ ہمراز
رہتا ہے کوئی مجھ سا ہی پیکر مرے اندر

جب جب کوئی اُفتاد پڑی کھل گیا کاشرؔ
الہام کا اک اور نیا در مرے اندر

Beautiful Ghazals Urdu

Shozaib Kashir Beautiful Ghazals In Urdu

زمین اچھی لگی آسمان اچھا لگا
ملا وہ شخص تو سارا جہان اچھا لگا

جہاں پہ رہنا نہیں تھا وہیں پہ رہنے لگے
مکان چھوڑ کہ مالک مکان اچھا لگا

سب ایک جیسے حزیں دل تھے جمع ایک جگہ
یتیم بچوں کو دار الامان اچھا لگا

میں گھر کو جاتے ہوئے دشت میں نکل آیا
کہ جس میں قیس تھا وہ کاروان اچھا لگا

میں ہر سفید بدن پر لپکنے والا نہیں
تمہارے ہونٹ پہ تِل کا نشان اچھا لگا

مزے کی بات کہ دل ممتحن پہ آ گیا تھا
پھر اس نے جو بھی لیا امتحان اچھا لگا

Shozaib Kashir Beautiful Ghazals In Urdu

چلا گیا تھا تو زندان ہو گیا تھا مجھے
وہ لوٹ آیا تو اپنا مکان اچھا لگا

نبی کا دین لہو کا خراج چاہتا تھا
خدا کو آپ ہی کا خاندان اچھا لگا

وہ سو رہے تھے اٹھے،اٹھ کہ چل دیے سوئے عرش
کہ دعوت اچھی لگی میزبان اچھا لگا

کرم کی حد ہے کہ لکنت کے باوجود انھیں
بس اک بلال برائے اذان اچھا لگا

دیار غیر میں قحط الرجال کے دن تھے
ملا جو کوئی بھی اہلِ زبان اچھا لگا

اسے عجیب غلط فہمی تھی کہ اچھا ہوں میں
خود اپنے بارے میں اس کا گمان اچھا لگا

وہ رب کے دھیان میں گم تھا میں اس کے دھیان میں گم
نماز پڑھتے ہوئے اس کا دھیان اچھا لگا

میں اس سے روٹھا ہوا تھا مگر رہا نہ گیا
کہا جب اس نے ، سنو میری جان ، اچھا لگا

دل ایک عشق پر قانع نہیں تھا خانہ خراب
اسی کا ہو گیا جو مہربان اچھا لگا

وہ مسکراتے ہوئے چائے لائی جب کاشرؔ
پیالی اچھی لگی چائے دان اچھا لگا

شوزیب کاشرؔ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *