Beautiful Ghazals Collection Of Faysal | Poetry In Urdu

Beautiful Ghazals Collection Of Faisal

کیا بتاؤں کیا مرے ارمان سب کے سامنے
پوچھتا ہے مجھ سے وہ نادان سب کے سامنے

مجھ کو دوزخ سے بچاتی تھی مِری جنت مجھے
کھینچ دیتی تھی مِری ماں کان سب کے سامنے

تُو بھی مجھ دیوار سے نکلی ہوئی اک اینٹ ہے
آج یہ اقرار کر اور مان سب کے سامنے

وقت آئے دیکھ لیں گے وقت کا بھی فیصلہ
کھیل جیسے دل کرے میدان سب کے سامنے

تم اکیلے میں مجھے دل سے دُعا دینا کبھی
کیا اُتارو گے مِرا احسان سب کے سامنے

جو ہمیشہ دیکھتا تھا خواب میں بھی منزلیں
سر پھرا وہ میں ہی تھا پہچان سب کے سامنے

Faysal Sahib

دھڑ  زمیں سے مل گیا ، پر آسماں سے مل گئے

Beautiful Ghazals Collection Of Faisal

دھڑ  زمیں سے مل گیا ، پر آسماں سے مل گئے
کچھ سبق تو ہم کو تیری داستاں سے مل گئے

یہ شرافت ہے ہماری ، یا ہمارا المیہ
جو جہاں پر رکھ گیا اُس کو وہاں سے مل گئے

ہم بتائیں کیا ملا ہے دوستی کی آڑ میں
دھوپ کے سب ذائقے اک سائباں سے مل گئے

آدمی کے عشق کی اوقات کیا ہے دیکھئے
جب فرشتوں کے نشاں کوئے بتاں سے مل گئے

اب بہت ہیں  دوست میرے ہمسفر   اور ہم نوا
زندگی جب کاٹ لی تب کارواں سے مل گئے

Faysal Sahib

کتنی لمبی اُس کی ہجرت  ہو گی صاحب

Beautiful Ghazals Collection Of Faisal

کتنی لمبی اُس کی ہجرت  ہو گی صاحب
چلتے رہنا جس کی عادت  ہوگی صاحب

مل کے رہنا یا ہمارا یوں بچھڑنا
تیسری بھی کوئی صورت ہو گی صاحب

یہ محبت ہی وراثت ہے ہماری
سو وراثت کی حفاطت ہو گی صاحب

ہے ہماری ہچکیوں سے کیا کسی کو
اُن کی اپنی غم کی صورت ہو گی صاحب

آپ دیکھیں , خود  سمندر کا رویہ
ہم کہیں گے تو وہ غیبت ہوگی صاحب

دل ہمارا  نفسیاتی مسئلہ ہے
اِس لئے اس کی وکالت ہو گی صاحب

دل سے ٹوٹی کشتیوں کو دُعا دی
دل کو دریا سے رقابت ہو گی صاحب

Faysal Sahib

آگ ہوتے ہیں کبھی لوگ دھواں ہوتے ہیں

Beautiful Ghazals Collection Of Faisal

آگ ہوتے ہیں کبھی لوگ دھواں ہوتے ہیں
ایک جیسے تو میاں ہم بھی کہاں ہوتے ہیں

میں گواہی میں تمھیں خواب سُناؤں اپنا
بھید مجھ پر تو خدا کے بھی عیاں ہوتے ہیں

کوئی تحلیل بھی کر دے گا نہیں سوچا تھا
سوچ آتی ہی نہیں تھی کہ زیاں ہوتے ہیں

جن کی آواز قدم تیز کئے دیتی ہے
ہوتے ہیں پیار میں کچھ لوگ اذاں ہوتے ہیں

خواہشیں وقت کی ٹہنی سے نہیں جھڑتی ہیں
خواب پچپن میں بھی دیکھے ہیں جواں ہوتے ہیں

زندگی ریل کی پٹری پہ لے جانے والے
پیار کو پیار سمجھ سُود  و زیاں ہوتے ہیں

میں نے اک عمر اُسی شخص کو ڈھونڈا صاحب
وہ جو کہتا تھا کہ زخموں کے نشاں ہوتے ہیں

Faysal Sahib

اتنی کب تھی خطا مرے بھائی

Beautiful Ghazals Collection Of Faisal

اتنی کب تھی خطا مرے بھائی
جتنی دے دی سزا مرے بھائی

یہ ہے وہ شہر دل جہاں سب کچھ
سادگی میں لٹا مرے بھائی

رات میں خواب سے  نکل آیا
وہ بھی اچھا بھلا مرے بھائی

سوچ میں دشت  ہے سو یہ دریا
سامنے سے ہٹا مرے بھائی

آئینہ عکس دو دکھاتا ہے
کون ہے دوسرا مرے بھائی

رات لمبی ہے ، کام کچھ بھی نہیں
کوئی قصہ سُنا مرے بھائی

یہ غزل یاد  رہ بھی سکتی ہے
اور بہتر بنا مرے بھائی

Faysal Sahib

وقت پھر آئے گا پاگل  کی غلط فہمی ہے

Beautiful Ghazals Collection Of Faisal

وقت پھر آئے گا پاگل  کی غلط فہمی ہے
زندگی آج  ابھی ، کل کی غلط فہمی ہے

بُو ہے انسان کے جلنے کی نہیں جائے گی
گوشت پھر گوشت ہے صندل کی غلط  فہمی ہے

میں جسے پی کے زمیں عرش پہ لے جاتا ہوں
بس یہ پانی ہے تو بوتل کی غلط فہمی ہے

دیکھنے خواب ہیں تو قد کے برابر دیکھے
آسماں چھو لے گا ، پیدل کی غلط فہمی ہے

بیچنے آئے ہیں بازار میں گھر کی چیزیں
ہم خریدار ہیں انکل کی غلط  فہمی ہے

Faysal Sahib

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *